Sunan An Nasai 120

پاکی کا بیان

120Sunan An Nasai

موزوں پر مسح کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ نَافِعٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قال: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ الْأَسْوَاقَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ خَرَجَ، قَالَ أُسَامَةُ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا: مَا صَنَعَ ؟ فَقَالَ بِلَالٌ: ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، ثُمَّ صَلَّى.

اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور بلال ؓ اسواف ١ ؎ میں داخل ہوئے، تو آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر نکلے، اسامہ ؓ کہتے ہیں کہ تو میں نے بلال ؓ سے دریافت کیا: آپ ﷺ نے کیا کیا؟ بلال ؓ نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر آپ ﷺ نے وضو کیا، چناچہ اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر نماز ادا کی۔

It was narrated that Usamah bin Zaid said: “The Messenger of Allah ﷺ and Bilal (RA) entered Al-Aswaf and he went to relieve himself and then came out.” Usamah said: “I asked Bilal (RA) : ‘What did he do?’ Bilal (RA) said: ‘The Prophet ﷺ went to relieve himself, then he performed Wudi so he washed his hands and face, and wiped his head and he over his Khuffs, then prayed.” (Sahih)

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 120
Notes · وضاحت
١ ؎: اسواف حرم مدینہ کو کہتے ہیں۔ اور مدینہ میں ایک مقام کا نام بھی اسواف ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٠٣٠) (حسن صحیح) (صحیح موارد الظمآن ١٥١ )