حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 911 · 212 hadiths · Page 8 of 11

22300Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا سَالِمٌ الْمُرَادِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ الْأَزْدِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ورِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي لَسْتُ أَدْرِي مَا قَدْرُ بَقَائِي فِيكُمْ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي يُشِيرُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَاهْدُوا هَدْيَ عَمَّارٍ وَعَهْدَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کتنا عرصہ رہوں گا اس لئے ان دو آدمیوں کی پیروی کرنا جو میرے بعد ہوں گے اور حضرت ابوبکر ؓ و عمر ؓ کی طرف اشارہ فرمایا اور عمار کے طریقے کو مضبوطی سے تھامو اور ابن مسعود ؓ تم سے جو بات بیان کریں اس کی تصدیق کیا کرو۔

22301Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مَهْدِيٍّ عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قِيلَ لِحُذَيْفَةَ إِنَّ رَجُلًا يَنُمُّ الْحَدِيثَ قَالَ حُذَيْفَةُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ

حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔

22302Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ جُنْدُبٌ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجَرَعَةِ وَثَمَّ رَجُلٌ قَالَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَيُهْرَاقَنَّ الْيَوْمَ دِمَاءٌ قَالَ قَالَ الرَّجُلُ كَلَّا وَاللَّهِ قَالَ هَلَّا قُلْتَ بَلَى وَاللَّهِ قَالَ كَلَّا وَاللَّهِ إِنَّهُ لَحَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُرَاكَ جَلِيسَ سَوْءٍ مُنْذُ الْيَوْمِ تَسْمَعُنِي أَحْلِفُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي قَالَ ثُمَّ قُلْتُ مَالِي وَلِلْغَضَبِ قَالَ فَتَرَكْتُ الْغَضَبَ وَأَقْبَلْتُ أَسْأَلُهُ قَالَ وَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ

جندب کہتے ہیں کہ " یوم الجرعہ " کے موقع پر ایک آدمی موجود تھا وہ کہنے لگا کہ واللہ آج خون ریزی ہوگی دوسرے آدمی نے قسم کھا کر کہا ہرگز نہیں پہلے نے کہا کہ تم نے یہ کیوں نہ کہا " ضرور؟ اس نے کا ایسا ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ یہ ایک حدیث ہے جو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے بیان فرمائی ہے پہلے آدمی کا کہنا ہے کہ میں نے اس سے کہا واللہ میں تمہیں برا ہم نشین سمجھتا ہوں تم مجھے قسم کھاتے ہوئے سن رہے ہو اور پھر بھی مجھے منع نہیں کر رہے حالانکہ تم نے نبی کریم ﷺ کو اس حوالے سے کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ پھر میں نے سوچا کہ غصہ کرنے کا کیا فائدہ؟ سو میں نے غصہ تھوک دیا اور اس کے پاس آکر سوالات پوچھنے لگا بعد میں پتہ چلا کہ وہ حضرت حذیفہ ؓ تھے۔

22303Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَشْعَثِ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ الْيَرْبُوعِيِّ قَالَ كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ فَقَالَ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَمَّنَا فَقُمْنَا صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبُوا إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ

ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ طبرستان میں حضرت سعید بن عاص ؓ کے ہمراہ تھے انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں سے نبی کریم ﷺ کے ساتھ صلوۃ الخوف کس نے پڑھی ہے؟ حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا میں نے اور وہ اس طرح کہ لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے دو صفیں بنالیں ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی کریم ﷺ کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہوگئی نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی کریم ﷺ کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی کریم ﷺ نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا۔

22304Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ عَنْ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنْ الشَّرِّ قِيلَ لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ قَالَ مَنْ اتَّقَى الشَّرَّ وَقَعَ فِي الْخَيْرِ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓ ان سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں ان سے شر کے متعلق پوچھتا تھا کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا جو شخص شر سے بچ جاتا ہے وہ خیر ہی کے کام کرتا ہے۔

22305Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ وَإِذَا قَامَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ "

22306Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ بِلَالٌ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ وَإِنِّي لَأُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِي قُلْتُ أَبَعْدَ الصُّبْحِ قَالَ بَعْدَ الصُّبْحِ إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ حضرت بلال ؓ صبح کے وقت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو نبی کریم ﷺ سحری کھا رہے ہوتے تھے اور میں اس وقت اپنا تیر گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا میں نے پوچھا کہ صبح صادق کے بعد؟ انہوں نے فرمایا ہاں! صبح ہوچکی تھی لیکن سورج طلوع نہیں ہوتا تھا۔

22307Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ أَقْوَامٌ فَإِذَا رَأَيْتُهُمْ اخْتُلِجُوا دُونِي فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ أَصْحَابِي أَصْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے کہ میں دیکھوں گا جب وہ میرے سامنے پیش ہوں گے انہیں میرے سامنے سے اچک لیا جائے گا میں عرض کروں گا پروردگار! میرے ساتھی ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔

22308Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ حُذَيْفَةَ قَالَ مِسْعَرٌ وَقَدْ ذَكَرَهُ مَرَّةً عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتُدْرِكُ الرَّجُلَ وَوَلَدَهُ وَوَلَدَ وَلَدِهِ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی شخص کے لئے دعا فرماتے تھے تو اس دعاء کے اثرات اسے اس کی اولاد کو اور اس کے پوتوں تک کو پہنچتے تھے۔

22309Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ جُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ فَبَلَغَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً الَّذِي يَرِدُهُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنْ لَا يَسْبِقَنِي إِلَى الْمَاءِ أَحَدٌ فَأَتَى الْمَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ قَوْمٌ فَلَعَنَهُمْ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم ﷺ روانہ ہوئے انہیں پانی کی قلت کا پتہ چلا تو منادی کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ پانی بہت تھوڑا ہے لہٰذا اس مقام پر مجھ سے پہلے کوئی نہ پہنچے لیکن جب نبی کریم ﷺ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ان سے پہلے وہاں پہنچ چکے ہیں نبی کریم ﷺ نے انہیں لعنت ملامت کی۔

22310Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ بِتُّ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَعَلَيْهِ طَرَفُ اللِّحَافِ وَعَلَى عَائِشَةَ طَرَفُهُ وَهِيَ حَائِضٌ لَا تُصَلِّي

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے نبی کریم ﷺ کے گھر میں رات گذارنے کا اتفاق ہوا نبی کریم ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے لحاف کا ایک کونا نبی کریم ﷺ پر تھا اور دوسرا کونا حضرت عائشہ ؓ پر تھا وہ اس وقت " ایام " سے تھیں یعنی نماز نہیں پڑھ سکتی تھیں۔

22311Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا قَالَ سَمِعْتُ صِلَةَ بْنَ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَهْلِ نَجْرَانَ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ قَالَهَا أَكْثَرَ مِنْ مَرَّتَيْنِ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ اہل نجران سے دو سے زائد مرتبہ فرمایا میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حق دار ہوگا یہ سن کر صحابہ کرام ؓ سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے پھر نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ ؓ کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔

22312Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقِيتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ إِنِّي أُرْسِلْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيَّةٍ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالشَّيْخُ الْفَانِي الَّذِي لَا يَقْرَأُ كِتَابًا قَطُّ قَالَ إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ " احجارالمراء " نامی جگہ پر میری جبرائیل (علیہ السلام) سے ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے کہا کہ اے جبرائیل! مجھے ایک امی امت کی طرف بھیجا گیا ہے جس میں مرد و عورت لڑکے اور لڑکیاں اور نہایت بوڑھے لوگ بھی شامل ہیں جو کچھ بھی پڑھنا نہیں جانتے تو انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔

22313Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَقَامَ يُصَلِّي فَلَمَّا كَبَّرَ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ثُمَّ قَرَأَ الْبَقَرَةَ ثُمَّ النِّسَاءَ ثُمَّ آلَ عِمْرَانَ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ تَخْوِيفٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا ثُمَّ رَكَعَ يَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ثُمَّ سَجَدَ يَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ثُمَّ سَجَدَ يَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ فَمَا صَلَّى إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم ﷺ نے سورت بقرہ شروع کردی جب سو آیات پر پہنچے تو میں نے سوچا کہ نبی کریم ﷺ اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم ﷺ پڑھتے رہے حتی کہ دو سو آیات تک پہنچ گئے میں نے سوچا کہ شاید اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم ﷺ پڑھتے رہے حتی کہ اسے ختم کرلیا لیکن نبی کریم ﷺ نے سورت نساء شروع کرلی اور اسے پڑھ کر رکوع کیا نبی کریم ﷺ اپنے رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔

22314Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ قُلْتُ لِحُذَيْفَةَ أَيُّ سَاعَةٍ تَسَحَّرْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هُوَ النَّهَارُ إِلَّا أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ

زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت حذیفہ بن یمان ؓ نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ کس وقت سحری کھائی ہے؟ انہوں نے فرمایا صبح ہوچکی تھی لیکن سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔

22315Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ مِنْ دِهْقَانٍ أَوْ عِلْجٍ فَأَتَاهُ بِإِنَاءٍ فِضَّةٍ فَحَذَفَهُ بِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ اعْتَذَرَ اعْتِذَارًا وَقَالَ إِنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ بِهِ عَمْدًا لِأَنِّي كُنْتُ نَهَيْتُهُ قَبْلَ هَذِهِ الْمَرَّةِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ لُبْسِ الدِّيبَاجِ وَالْحَرِيرِ وَآنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَقَالَ هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهُوَ لَنَا فِي الْآخِرَةِ

عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ ؓ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ ؓ نے وہ برتن اس کے منہ پردے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چناچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا؟ ہم نے عرض کیا نہیں فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں۔

22316Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَضَلَةِ سَاقِي فَقَالَ هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلُ مِنْ ذَلِكَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ

حضرت حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ اپنی پنڈلی کی مچھلی پکڑ کر فرمایا تہبند باندھنے کی جگہ یہاں تک ہے اگر تم نہ مانو تو اس سے کچھ نیچے لٹکا لو اگر یہ بھی نہ مانو تو ٹخنوں سے نیچے تہبند کا کوئی حق نہیں ہے۔

22317Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ أَوْ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي حُذَيْفَةَ مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيَّ زَعَمُوا قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ

ابو قلابہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ ؓ اور ابو مسعود ؓ میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ آپ نے " لوگ کہتے ہیں " اس جملے کے متعلق نبی کریم ﷺ کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ انسان کی بدترین سواری ہے۔

22318Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ بِتُّ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَصَلَّى فِي ثَوْبٍ طَرَفُهُ عَلَيْهِ وَطَرَفُهُ عَلَى أَهْلِهِ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے نبی کریم ﷺ کے گھر میں رات گذارنے کا اتفاق ہوا نبی کریم ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے لحاف کا ایک کونا نبی کریم ﷺ پر تھا اور دوسرا کونا حضرت عائشہ ؓ پر تھا وہ اس وقت " ایام " سے تھیں یعنی نماز نہیں پڑھ سکتی تھیں۔

22319Musnad Imam Ahmad

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا فَأَخْبَرَنَا بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ

حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور قیامت تک پیش آنے والا کوئی واقعہ ایسا نہ چھوڑا جو اسی جگہ کھڑے کھڑے بیان نہ کردیا ہو جس نے اسے یاد رکھا سو یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا۔