متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 899 · 130 hadiths · Page 4 of 7

22049Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ شَبِيبًا أَبَا رَوْحٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِيهَا بِالرُّومِ فَأَوْهَمَ فِيهَا فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي قَالَ شُعْبَةُ فَذَكَرَ الرُّقَعَ وَمَعْنَى قَوْلِهِ إِنَّكُمْ لَسْتُمْ بِمُتَنَظِّفِينَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ عِيَاضَ بْنَ مَرْثَدٍ أَوْ مَرْثَدَ بْنَ عِيَاضٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلٍ يُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ تَكْفِيهِمْ آلَتَهُمْ إِذَا حَضَرُوهُ وَتَحْمِلُهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا عَنْهُ

حضرت ابو روح ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جس میں سورت روم کی تلاوت فرمائی دوران تلاوت آپ ﷺ پر کچھ اشتباہ ہوگیا نماز کے بعد نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ شیطان نے ہمیں قرأت کے دوران اشتباہ میں ڈال دیا جس کی وجہ وہ لوگ ہیں جو نماز میں بغیر وضو کے آجاتے ہیں اس لئے جب تم نماز کے لئے آیا کرو تو خوب اچھی طرح وضو کیا کرو۔ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا لوگ جب موجود ہوں تو ان کے پانی نکالنے کے برتن کی حفاظت کرو اور غیر موجود ہوں (بھلے چھوڑ کر چلے چائیں) تو ان کے پاس وہ اٹھا کر پہنچا دو۔

22050Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَأَلِجُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَادِمِهِ اخْرُجِي إِلَيْهِ فَإِنَّهُ لَا يُحْسِنُ الِاسْتِئْذَانَ فَقُولِي لَهُ فَلْيَقُلْ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَدْخُلُ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَدْخُلُ قَالَ فَأَذِنَ أَوْ قَالَ فَدَخَلْتُ فَقُلْتُ بِمَ أَتَيْتَنَا بِهِ قَالَ لَمْ آتِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ أَتَيْتُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنْ تَدَعُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَأَنْ تُصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَأَنْ تَصُومُوا مِنْ السَّنَةِ شَهْرًا وَأَنْ تَحُجُّوا الْبَيْتَ وَأَنْ تَأْخُذُوا مِنْ مَالِ أَغْنِيَائِكُمْ فَتَرُدُّوهَا عَلَى فُقَرَائِكُمْ قَالَ فَقَالَ هَلْ بَقِيَ مِنْ الْعِلْمِ شَيْءٌ لَا تَعْلَمُهُ قَالَ قَدْ عَلِمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا وَإِنَّ مِنْ الْعِلْمِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ

بنوعامر کے ایک آدمی سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ سے اجازت لیتے ہوئے عرض کیا کہ کیا میں داخل ہوسکتا ہوں؟ نبی کریم ﷺ نے اپنی خادمہ سے فرمایا کہ اس کے پاس جاؤ کہ یہ اچھے انداز میں اجازت نہیں مانگ رہا اور اس سے کہو کہ تمہیں یوں کہنا چاہئے " السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں " میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سن لیا چناچہ میں نے عرض کیا السلام علیکم کیا میں اندر آسکتا ہوں؟ نبی کریم ﷺ نے اجازت دے دی اور میں اندر چلا گیا میں نے پوچھا کہ آپ ہمارے پاس کیا پیغام لے کر آئے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں تو تمہارے پاس صرف خیر کا پیغام لے کر آیا ہوں اور وہ یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور تم لات وعزیٰ کو چھوڑ دو رات دن میں پانچ نمازیں پڑھو، سال میں ایک مہینے کے روزے رکھو بیت اللہ کا حج کرو اپنے مالداروں کا مال لے کر اپنے ہی فقراء پر واپس تقسیم کردو میں نے پوچھا کیا کوئی چیز ایسی بھی ہے جسے آپ نہیں جانتے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہی خیر کا علم عطاء فرمایا ہے اور بعض چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا وہ پانچ چیزیں ہیں پھر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائے گا؟ اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کس علاقے میں مرے گا؟ بیشک اللہ بڑا جاننے والا باخبر ہے۔

22051Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ أَوْ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ مَنْصُورٌ الشَّاكُّ إِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ قَدْرِ سَبْعِينَ عَامًا

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ذمی کو قتل کرے وہ جنت کی مہک بھی نہیں پاسکے گا حالانکہ جنت کی مہک تو ستر سال کی مسافت سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔

22052Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا حُذَيْفَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَظَرْتُ إِلَى الْقَمَرِ صَبِيحَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَرَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ فِلْقُ جَفْنَةٍ و قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِنَّمَا يَكُونُ الْقَمَرُ كَذَاكَ صَبِيحَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَرَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ فِلْقُ جَفْنَةٍ و قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِنَّمَا يَكُونُ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے شب قدر کی صبح کو چاند کی طرف دیکھا تو وہ آدھے پیالے کی طرح تھا ابو اسحاق کہتے ہیں کہ چاند کی یہ صورت ٢٣ ویں شب کو ہوتی ہے۔

22053Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي كَبْشَةَ يَخْطُبُ بِالشَّامِ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْخَمْرِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْخَمْرِ إِنْ شَرِبَهَا فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ ثُمَّ إِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ فَاقْتُلُوهُ

حضرت شرجیل بن اوس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوسری مرتبہ پینے پر بھی کوڑے مارو تیسری مرتبہ پینے پر بھی کوڑے مارو اور چوتھی مرتبہ پینے پر اسے قتل کردو۔

22054Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالُوا بَلَى قَالَ الضُّعَفَاءُ الْمُتَظَلِّمُونَ ثُمَّ قَالَ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ النَّارِ قَالُوا بَلَى قَالَ كُلُّ شَدِيدٍ جَعْظَرِيٍّ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جنت کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ آدمی جو کمزور ہو اور اسے دبایا جاتا ہو، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ بدخلق آدمی جو کینہ پرور اور متکبر ہو۔

22055Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ لَقِيتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ أَرْبَعَ سِنِينَ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَمَشَّطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ أَوْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ أَوْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا

حمید حمیری (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ملاقات نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی ؓ سے ہوئی جنہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی طرح چار سال نبی کریم ﷺ کی رفاقت پائی تھی، انہوں نے تین باتوں سے زیادہ کوئی بات مجھ سے نہیں کہی نبی کریم ﷺ نے فرمایا مرد عورت کے بچائے ہوئے پانی سے غسل کرسکتا ہے لیکن عورت مرد کے بچائے ہوئے پانی سے غسل نہ کرے غسل خانہ میں پیشاب نہ کرے اور روزانہ کنگھی (بناؤ سنگھار) نہ کرے۔

22056Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضُمُّ إِلَيْهِ حَسَنًا وَحُسَيْنًا يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کو اپنے جسم کے ساتھ حضرات حسنین ؓ کو چمٹاتے ہوئے دیکھا اس وقت نبی کریم ﷺ یہ فرما رہے تھے کہ اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔

22057Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ لَا أُحِبُّ الْعُقُوقَ كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ وَقَالَ مَنْ وُلِدَ لَهُ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم ﷺ سے عقیقہ کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں عقوق (جس سے یہ لفظ نکلا ہے اور جس کا معنی والدین کی نافرمانی ہے) کو پسند نہیں کرتا گویا اس لفظ پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا جس شخص کے یہاں کوئی بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہئے تو اسے ایسا کرلینا چاہئے۔

22058Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْكَافِرَ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ

ایک جہنی صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کافر سات آنتوں سے میں پیتا ہے اور مؤمن ایک آنت میں پیتا ہے۔

22059Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَاءَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمْ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ

ایک صحابی ؓ سے " جنہوں نے غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے ہمراہ نماز خوف پڑھی تھی " مروی ہے کہ ایک گروہ نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ صف بندی کی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے چلا گیا نبی کریم ﷺ نے اپنے ساتھ والے گروہ کو ایک رکعت پڑھائی پھر کھڑے رہے حتیٰ کہ پیچھے والوں نے اپنی نماز مکمل کی اور واپس جا کر دشمن کے سامنے صف بستہ ہوگئے اور دوسرا گروہ آگیا جسے نبی کریم ﷺ نے اپنی نماز میں سے باقی رہ جانے والی رکعت پڑھائی پھر بیٹھے رہے حتیٰ کہ انہوں نے اپنی نماز مکمل کرلی پھر نبی کریم ﷺ نے انہیں ساتھ لے سلام پھیر دیا۔

22060Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَمٍّ لِي قَالَ قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْ لِي قَوْلًا وَأَقْلِلْ لَعَلِّي أَعْقِلُهُ قَالَ لَا تَغْضَبْ قَالَ فَعُدْتُ لَهُ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يَعُودُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَغْضَبْ

احنف بن قیس (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے چچازاد بھائی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمائیے شاید میری عقل میں آجائے نبی کریم ﷺ نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو، اس نے کئی مرتبہ اپنی درخواست دہرائی اور نبی کریم ﷺ نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔

22061Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَطْمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ وَهُوَ يَسْأَلُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ يَقُولُ أَخْبِرْنِي مَا سَمِعْتَ أَبَاكَ يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الَّذِي يَلْعَبُ بِالنَّرْدِ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي مَثَلُ الَّذِي يَتَوَضَّأُ بِالْقَيْحِ وَدَمِ الْخِنْزِيرِ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي

محمد بن کعب (رح) نے ایک مرتبہ عبدالرحمن ؓ کہا کہ آپ نے اپنے والد صاحب سے نبی کریم ﷺ کی کوئی حدیث سنی ہو تو مجھے بھی سنائیے انہوں نے اپنے والد صاحب کے حوالے سے نقل کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص بارہ ٹانی کے ساتھ کھیلتا ہے پھر کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو قے اور خنزیر کے خون سے وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے۔

22062Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَدَ فِي يَدِهِ أَوْ فِي يَدِ السُّلَمِيِّ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَاللَّهُ أَكْبَرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ

بنو سلیم کے ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں سبحان اللہ نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔

22063Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ

ایک شخص کو نبی کریم ﷺ کے مؤذن نے بتایا کہ ایک دن بارش ہو رہی تھی نبی کریم ﷺ کے منادی نے نداء لگائی کہ لوگو! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔

22064Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ حَدَّثَتْنِي مَرْيَمُ ابْنَةُ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ أَعِنْدَكِ ذَرِيرَةٌ قَالَتْ نَعَمْ فَدَعَا بِهَا فَوَضَعَهَا عَلَى بَثْرَةٍ بَيْنَ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ مُطْفِئَ الْكَبِيرِ وَمُكَبِّرَ الصَّغِيرِ أَطْفِهَا عَنِّي فَطُفِئَتْ

حضرت ایاس بن بکیر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ اپنی کسی زوجہ محترمہ کے یہاں تشریف لے گئے اور ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس " ذریرہ " نامی خوشبو ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم ﷺ نے اسے منگوایا اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان پھنسیوں پر لگانے لگے پھر یہ دعا کی اے بڑے کو بجھانے والے اور چھوٹے کو بڑا کرنے والے اللہ! اس پھنسی کو دور فرما چناچہ وہ پھنسیاں دور ہوگئیں۔

22065Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ فَقَالَ إِنَّ السَّحُورَ بَرَكَةٌ أَعْطَاكُمُوهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا تَدَعُوهَا

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ سحری کھا رہے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ برکت ہے جو اللہ نے تمہیں عطا فرمائی ہے اس لئے اسے مت چھوڑا کرو۔

22066Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ اسْتَشْهَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ فَقَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ قَالَ فَقَامَ سِتَّةَ عَشَرَ رَجُلًا فَشَهِدُوا

حضرت زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے لوگوں کو قسم دے کر پوچھا تو سولہ صحابہ کرام ؓ نے کھڑے ہو کر یہ گواہی دی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہیں۔

22067Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي بَكْرٍ قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِمِنًى عَلَى رَاحِلَتِهِ وَنَحْنُ عِنْدَ يَدَيْهَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَلَا أَحْسِبُهُ إِلَّا قَالَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ

بنوبکر کے ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے میدان منیٰ میں اپنی سواری پر خطبہ ارشاد فرمایا تھا جو جمرات کے قریب تھا اور ہم بھی نبی کریم ﷺ کے آس پاس تھے۔

22068Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ قَالَ سَمِعْتُ زَكَرِيَّا بْنَ سَلَّامٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةَ أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةَ ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَهَا إِسْحَاقُ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچا تو نبی کریم ﷺ فرما رہے تھے اے لوگو! تم اپنے اوپر " جماعت " کو لازم پکڑو، تفرقہ اور اختلافات سے بچو تین مرتبہ یہ جملہ فرمایا۔