متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 899 · 130 hadiths · Page 3 of 7

22029Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ غَالِبًا الْقَطَّانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے جواباً علیک وعلی ابیک السلام فرمایا۔

22030Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ أَبِي الْجَدْعَاءِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ

حضرت ابن ابی الجدعاء ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے ایک آدمی کی سفارش کی وجہ سے بنو تمیم کی تعداد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔

22031Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ الْأَقْمَرِ قَالَ بَيْنَمَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَخْطُبُ بَعْدَمَا قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَزْدِ آدَمُ طُوَالٌ فَقَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعَهُ فِي حَبْوَتِهِ يَقُولُ مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّهُ فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ وَلَوْلَا عَزْمَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَدَّثْتُكُمْ

زہیر بن اقمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ شہادت حضرت علی ؓ کے بعد حضرت امام حسن ؓ تقریر فرما رہے تھے کہ قبیلہ ازد کا ایک گندم گوں طویل قد کا آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو اپنی گود میں رکھا ہوا تھا اور فرما رہے تھے کہ جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے چاہئے کہ اس سے بھی محبت کرے اور حاضرین غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں اور اگر نبی کریم ﷺ نے پختگی کے ساتھ یہ بات نہ فرمائی ہوتی تو میں تم سے کبھی بیان نہ کرتا۔

22032Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ فَقَامَ خَمْسَةٌ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ

سعید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے لوگوں کو قسم دے کر پوچھا تو پانچ صحابہ کرام ؓ نے کھڑے ہو کر یہ گواہی دے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہیں۔

22033Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ كُرْدُوسٍ قَالَ كَانَ يَقُصُّ فَقَالَ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَأَنْ أَجْلِسَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ يَعْنِي الْقَصَصَ

ایک بدری صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے اس طرح کی مجلس وعظ میں بیٹھناچار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔

22034Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ قَالَ سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ حَيَّانَ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ قَبِيصَةَ أَوْ قَبِيصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ يَقُولُ صَلَّى هَذَا الْحَيُّ مِنْ مُحَارِبٍ الصُّبْحَ فَلَمَّا صَلَّوْا قَالَ شَابٌّ مِنْهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ سَيُفْتَحُ لَكُمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبُهَا وَإِنَّ عُمَّالَهَا فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ اتَّقَى اللَّهَ وَأَدَّى الْأَمَانَةَ

قبیصہ بن مسعود سے مروی ہے کہ مجاہدین کے ایک گروہ نے فجر کی نماز پڑھی اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو ان میں سے ایک نوجوان کہنے لگا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب تمہارے لئے زمین کے مشرق و مغرب فتح ہوجائیں گے لیکن اس کے عمال و گورنر جہنم میں ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈریں اور امانت ادا کریں۔

22035Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ قَالَ قُلْتُ لِجُنْدُبٍ إِنِّي قَدْ بَايَعْتُ هَؤُلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ أَمْسِكْ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ قَالَ افْتَدِ بِمَالِكَ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ أُقَاتِلَ مَعَهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ جُنْدُبٌ حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ فَيَقُولُ عَلَامَ قَتَلْتَهُ فَيَقُولُ قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ قَالَ فَقَالَ جُنْدُبٌ فَاتَّقِهَا

ابو عمران (رح) کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی بیعت کرلی ہے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں جندب نے کہا مت جاؤ میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ چناچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے، اس لئے تم اس سے بچو۔

22036Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَقِيلٍ يُحَدِّثُ عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ كُنَّا قُعُودًا فِي مَسْجِدِ حِمْصَ إِذْ مَرَّ رَجُلٌ فَقَالُوا هَذَا خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَنَهَضْتُ فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَدَاوَلْهُ الرِّجَالُ فِيمَا بَيْنَكُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حِينَ يُمْسِي أَوْ يُصْبِحُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو عَقِيلٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ سَابِقَ بْنَ نَاجِيَةَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْبَرَاءِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ قَالَ كُنَّا قُعُودًا فِي مَسْجِدِ حِمْصَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا أَصْبَحَ وَثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِذَا أَمْسَى إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ابو سلام کہتے ہیں کہ حمص کی مسجد میں سے ایک آدمی گذر رہا تھا لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت کی ہے میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی حدیث ایسی سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم ﷺ سے سنی ہو اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد ﷺ کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔ ابو سلام کہتے ہیں کہ حمص کی مسجد میں سے ایک آدمی گذر رہا تھا لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت کی ہے میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی حدیث ایسی سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم ﷺ سے سنی ہو اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد ﷺ کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔

22037Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْحَمِيدِ صَاحِبَ الزِّيَادِيِّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ فَقَالَ إِنَّهُ بَرَكَةٌ أَعْطَاكُمُوهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا تَدَعُوهُ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ سحری کھا رہے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ برکت ہے جو اللہ نے تمہیں عطا فرمائی ہے اس لئے اسے مت چھوڑا کرو۔

22038Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ يَرْصُدُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي فِي ذَاتِي وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي ثُمَّ رَصَدَهُ الثَّانِيَةَ فَكَانَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ

حمید بن قعقاع ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کو دیکھا کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ اپنی دعاء میں یوں فرماتے تھے اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما ذاتی طور پر مجھے کشادگی عطا فرما اور میرے رزق میں برکت عطا فرما دوبارہ تاک لگا کر تحقیق کی تو نبی کریم ﷺ پھر بھی یہی دعا کرتے ہوئے سنائی دیئے۔

22039Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْجُعْفِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ حَصْبَةَ أَوْ أَبِي حَصْبَةَ عَنْ رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ تَدْرُونَ مَا الرَّقُوبُ قَالُوا الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ فَقَالَ الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ الَّذِي لَهُ وَلَدٌ فَمَاتَ وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُمْ شَيْئًا قَالَ تَدْرُونَ مَا الصُّعْلُوكُ قَالُوا الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَالٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ الَّذِي لَهُ مَالٌ فَمَاتَ وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الصُّرَعَةُ قَالُوا الصَّرِيعُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ الرَّجُلُ يَغْضَبُ فَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ وَيَقْشَعِرُّ شَعَرُهُ فَيَصْرَعُهُ غَضَبُهُ

ایک صحابی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ خطبہ دے رہے تھے وہ بھی حاضر تھے نبی کریم ﷺ نے لوگوں سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ " رقوب " کسے کہتے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا کہ جس کی کوئی اولاد نہ ہو نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ " کامل رقوب " کا لفظ دہرا کر فرمایا کہ یہ وہ ہوتا ہے جس کی اولاد ہو لیکن وہ اس حال میں فوت ہوجائے کہ ان میں سے کسی کو آگے نہ بھیجے پھر پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ " صعلوک " کسے کہتے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا جس کے پاس کچھ بھی مال و دولت نہ ہو نبی کریم ﷺ نے فرمایا " کامل صعلوک " وہ ہوتا ہے جس کے پاس مال ہو لیکن وہ اس حال میں مرجائے کہ اس نے اس میں سے آگے کچھ نہ بھیجاہو پھر پوچھا کہ " صرعہ " کسے کہتے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا وہ پہلوان جو کسی کو پچھاڑ دے نبی کریم ﷺ نے فرمایا " کامل صرعہ " یہ ہے کہ انسان کو غصہ آئے اور اس کا غصہ شدید ہو کر چہرہ کا رنگ سرخ ہوجائے اور رونگٹے کھڑے ہوجائیں تو وہ اپنے غصے کو پچھاڑ دے۔

22040Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ قَالَ أَسَرَنِي نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ مَعَهُمْ فَأَصَابُوا غَنَمًا فَانْتَهَبُوهَا فَطَبَخُوهَا قَالَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ النُّهْبَى أَوْ النُّهْبَةَ لَا تَصْلُحُ فَأَكْفِئُوا الْقُدُورَ

بنولیث کے ایک آدمی سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓ نے قید کرلیا میں ان کے ساتھ ہی تھا کہ انہیں بکریوں کا ایک ریوڑ ملا انہوں نے اس میں لوٹ مار کی اور اس کو پکانے لگے تو میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوٹ مار تو صحیح نہیں ہے اس لئے اپنی ہانڈیاں الٹ دو۔

22041Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ أَوْ ابْنِ مَسْلَمَةَ عَنْ عَمِّهِ قَالَ حَجَّاجٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي الْمِنْهَالِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَسْلَمَ صُومُوا الْيَوْمَ قَالُوا إِنَّا قَدْ أَكَلْنَا قَالَ صُومُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ

ابوالمنہال خزاعی (رح) اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے دس محرم کے دن قبیلہ اسلم کے لوگوں سے فرمایا آج کے دن کا روزہ رکھو، وہ کہنے لگے کہ ہم تو کھا پی چکے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا بقیہ دن کچھ نہ کھانا پینا۔

22042Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدِينِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ حَدَّثَنِي الْقَيْسِيُّ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَبَالَ فَأَتَى بِمَاءٍ فَهَالَ عَلَى يَدِهِ مِنْ الْإِنَاءِ فَغَسَلَهَا مَرَّةً وَعَلَى وَجْهِهِ مَرَّةً وَذِرَاعَيْهِ مَرَّةً وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّةً بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ الْتَفَّ إِصْبَعُهُ الْإِبْهَامُ

فیسی ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ کسی سفر میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھے نبی کریم ﷺ نے پیشاب کیا پھر پانی پیش کیا گیا جسے برتن سے نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک پر بہایا اور اسے ایک مرتبہ دھویا ایک مرتبہ چہرہ دھویا ایک مرتبہ دونوں ہاتھ دھوئے ایک اور مرتبہ اپنے دونوں ہاتھوں سے دونوں پاؤں دھوئے۔

22043Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ حَجَّاجَ بْنَ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيَّ وَكَانَ إِمَامَهُمْ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ يَحُجُّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَجَّاجٌ أُرَاهُ عَبْدَ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنْ الصَّلَاةِ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔

22044Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عُبَيْدٌ الْمُكْتِبُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ أَفْضَلُ الْعَمَلِ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ وَالْجِهَادُ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سب سے افضل عمل اپنے وقت مقررہ پر نماز پڑھنا ہے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور جہاد کرنا ہے۔

22045Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعَصْرَ فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَرَآهُ عُمَرُ فَقَالَ لَهُ اجْلِسْ فَإِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ ابْنُ الْخَطَّابِ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے نماز عصر پڑھائی تو اس کے بعد ایک آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا حضرت عمر ؓ نے اسے دیکھ کر فرمایا بیٹھ جاؤ کیونکہ اس سے پہلے اہل کتاب اسی لئے ہلاک ہوگئے کہ ان کی نمازوں میں فصل نہیں ہوتا تھا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابن خطاب نے عمدہ بات کہی۔

22046Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ رَجُلٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلَتْنَا الضَّبُعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ الضَّبُعِ عِنْدِي أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ مِنْ الضَّبُعِ إِنَّ الدُّنْيَا سَتُصَبُّ عَلَيْكُمْ صَبًّا فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا تَلْبَسُ الذَّهَبَ

ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ ہمیں قحط سالی نے کھالیا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے نزدیک تمہارے متعلق قحط سالی سے زیادہ ایک اور چیز خطرناک ہے عنقریب تم پر دنیا انڈیل دی جائے گی کاش! میرے امتی سونا نہ پہنیں۔

22047Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ أَوْ جُهَيْنَةَ قَالَ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ قَبْلَ الْأَضْحَى بِيَوْمٍ أَوْ بِيَوْمَيْنِ أَعْطَوْا جَذَعَيْنِ وَأَخَذُوا ثَنِيًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْجَذَعَةَ تُجْزِئُ مِمَّا تُجْزِئُ مِنْهُ الثَّنِيَّةُ

مزینہ یا جہینہ کے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ بقر عید ایک دو دن قبل صحابہ کرام ؓ چھ ماہ کے دو بھیڑ دے کر پورے سال کا ایک جانور لے لیتے تھے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس کی طرف سے ایک سال کا جانور کفایت کرتا ہے چھ ماہ کا بھی اس کی طرف سے کفایت کرجاتا ہے۔

22048Musnad Imam Ahmad

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ مَرْثَدٍ أَوْ مَرْثَدِ بْنِ عِيَاضٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ هَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ مِنْ أَحَدٍ حَيٌّ قَالَ لَهُ مَرَّاتٍ قَالَ لَا قَالَ فَاسْقِ الْمَاءَ قَالَ كَيْفَ أَسْقِيهِ قَالَ اكْفِهِمْ آلَتَهُ إِذَا حَضَرُوهُ وَاحْمِلْهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا عَنْهُ

ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی حیات ہے؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر تم لوگوں کو پانی پلایا کرو اس نے پوچھا وہ کس طرح؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگ جب موجود ہوں تو ان کے پانی نکالنے کے برتن کی حفاظت کرو اور غیرموجود ہوں (بھولے سے چھوڑ کر چلے جائیں) تو ان کے پاس وہ اٹھا کر پہنچا دو۔