حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ لَيْسَ مِنْ وَلَدِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ إِنَّمَا كَانَ اسْمُ جَدِّهِ الزُّبَيْرَ
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور ایک جماعت اس کے لئے قتال کرتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلَكِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا ذَهَبَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ وَإِذَا ذَهَبَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب کسری ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسری نہ آسکے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ آئے گا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں خرچ کرو گے اور وہ وقت ضرور آئے گا۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَكُونُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس امت میں بارہ خلفاء ہوں گے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ نُبِّئْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنْ يَبْرَحَ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ دین ہمشیہ قائم رہے گا اور ایک جماعت اس کے لئے قتال کرے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ قَالَ إِنْ شِئْتَ تَوَضَّأْ مِنْهُ وَإِنْ شِئْتَ لَا تَوَضَّأْ مِنْهُ قَالَ أَفَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ قَالَ نَعَمْ فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ قَالَ فَنُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ قَالَ لَا قَالَ أَنُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَالَ نَعَمْ صَلِّ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ کیا میں بکری کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کیا کروں؟ نبی ﷺ نے فرمایا چاہو تو کرلو چاہو تو نہ کرو اس نے پوچھا کہ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا ہاں سائل نے پوچھا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد نیا وضو کروں؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں اس نے پوچھا کہ اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتْ الشَّمْسُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتْ الشَّمْسُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ حضرت بلال زوال کے بعد اذان دیتے تھے اس میں کوتاہی نہیں کرتے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ وَنَحْوَهُمَا مِنْ السُّورِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ظہر اور عصر کی نماز میں والسماء ذات البروج اور والسماء والطارق اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ بِالظُّهْرِ إِذَا دَحَضَتْ الشَّمْسُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ حضرت بلال زوال کے بعد اذان دیتے تھے اس میں کوتاہی نہیں کرتے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً لَمْ أَفْهَمْهَا قَالَ قُلْتُ لِأَبِي مَا قَالَ قَالَ كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی ﷺ نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے کچھ کذاب آکر رہیں گے تم ان سے بچنا۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ النَّاسُ يَقُولُونَ يَثْرِبَ وَالْمَدِينَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَمَّاهَا طَابَةَ قَالَ سُرَيْجٌ يَثْرِبُ الْمَدِينَةُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ لوگ مدینہ منورہ کو یثرب بھی کہا کرتے تھے نبی ﷺ نے فرمایا مدینہ منورہ کا نام اللہ تعالیٰ نے " طیبہ " رکھا ہے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَضَعُ أَصَابِعَهُ حَيْثُ يَرَى أَصَابِعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ فَوَجَدَ فِيهِ رِيحَ ثُومٍ فَلَمْ يَأْكُلْ وَبَعَثَ بِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَلَمْ يَرَ فِيهِ أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَرَ فِيهِ أَثَرَ أَصَابِعِكَ قَالَ إِنِّي وَجَدْتُ مِنْهُ رِيحَ ثُومٍ قَالَ أَتَبْعَثُ إِلَيَّ مَا لَسْتَ آكِلًا قَالَ إِنَّهُ يَأْتِينِي الْمَلَكُ
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں جب کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی جاتی تو نبی ﷺ اس میں سے کچھ لے کر باقی سارا حضرت ابوایوب انصاری کے پاس بھیج دیتے۔ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں کہیں سے کھانا آیا جس میں لہسن تھا نبی ﷺ نے وہ اس طرح حضرت ابوایوب کو بھجوادیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں لیا جب حضرت ابوایوب نے اس میں نبی ﷺ کے کچھ لینے کا اثر محسوس نہیں کیا تو کھانا لے کر نبی ﷺ کے پاس آگئے۔ اور اس حوالے سے نبی ﷺ سے پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اسے لہسن کی بدبو کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا حضرت ابوایوب نے یہ سن کر عرض کیا کہ پھر جس چیز کو آپ تناول نہیں فرماتے اسے میرے پاس کیوں بھیج دیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیونکہ میرے پاس فرشتہ آتا تھا۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ الطَّائِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا قَالَ يُتَمِّمُونَ الصُّفُوفَ الْأُولَى وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ
پھر ایک دن نبی ﷺ باہر تشریف لائے تو ہم سے فرمایا کہ تم لوگ اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جیسے فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بندی کرتے ہیں صحابہ کرام نے پوچھا یارسول اللہ فرشتے اپنے رب کے سامنے کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا پہلے اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صفوں کے خلاء کو پر کرتے ہیں۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَتْ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا خطبہ اور نماز معتدل ہوتے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَتْ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا
ہمارے نسخے میں یہاں صرف لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ رَافِعِي أَيْدِينَا فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ قَالَ وَدَخَلَ عَلَيْنَا الْمَسْجِدَ وَنَحْنُ حِلَقٌ مُتَفَرِّقُونَ فَقَالَ مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو کچھ لوگوں کو ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا نبی ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کا کیا مسئلہ ہے وہ اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہیں جیسے دشوارخو گھوڑوں کی دم ہو نماز میں پرسکون رہا کرو۔ ایک مرتبہ نبی ﷺ مسجد میں ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا کیا بات ہے کہ میں تمہیں مختلف ٹولیوں کی شکل میں دیکھتا ہوں (صحابہ کرام اس وقت اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے)
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَارَ أَحَدُنَا إِلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَفْعَلُ هَذَا كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَوْ لَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَوَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى فَخِذِهِ وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم دائیں بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے نبی ﷺ نے فرمایا لوگوں کا کیا مسئلہ ہے وہ اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارے کرتے ہیں جیسے دشوارخو گھوڑوں کی دم ہو کیا تم سکون سے نہیں رہ سکتے کہ ران پر ہاتھ رکھے ہوئے اشارہ کرلو اور دائیں بائیں جانب اپنے ساتھی کو سلام کرلو۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُقَامُ لَهُ فِي الْعِيدَيْنِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے عیدین کی نماز میں اذان اور اقامت نہیں ہوتی تھی۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ وَشَرِيكٌ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ نَفْسَهُ قَالَ حَجَّاجٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دور باسعادت میں پتہ چلا کہ ایک آدمی نے خودکشی کرلی ہے یہ سن کر نبی ﷺ نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔