حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِ ق وَالْقُرْآنِ وَكَانَ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا
حضرت جابر ؓ سے نبی ﷺ کی نماز کے متعلق مروی ہے کہ نبی ﷺ ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور نبی ﷺ نماز فجر میں سورت ق اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ وَبَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَضَعُ أَصَابِعَهُ حَيْثُ يَرَى أَثَرَ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَصْعَةٍ فَوَجَدَ مِنْهَا رِيحَ ثُومٍ فَلَمْ يَذُقْهَا وَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَنَظَرَ فَلَمْ يَرَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَذُقْهَا فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَرَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِكَ قَالَ إِنِّي وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ ثُومٍ قَالَ فَتَبْعَثُ إِلَيَّ بِمَا لَا تَأْكُلُ قَالَ إِنِّي يَأْتِينِي الْمَلَكُ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ سَمِعْت بَعْضَ أَصْحَابِنَا يَقُولُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ قَالَ قَالَ لِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عِنْدَكَ حَدِيثٌ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا وَأَجْوَدُ إِسْنَادًا مِنْ هَذَا قَالَ قُلْتُ مَا هُوَ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَى أَبِي أَيُّوبَ فَذَكَرَ هَذَا حَدِيثَ الثُّومِ قَالَ قُلْتُ لَهُ نَعَمْ شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَى أَبِي أَيُّوبَ فَسَكَتَ
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں جب کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی جاتی تو نبی ﷺ اس میں سے کچھ لے کر باقی سارا حضرت ابوایوب انصاری کے پاس بھیج دیتے۔ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں کہیں سے کھانا آیا جس میں لہسن تھا نبی ﷺ نے وہ اس طرح حضرت ابوایوب کو بھجوا دیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں لیا جب حضرت ابوایوب نے اس میں نبی ﷺ کے کچھ لینے کا اثر محسوس نہیں کیا تو کھانا لے کر نبی ﷺ کے پاس آگئے۔ اور اس حوالے سے نبی ﷺ سے پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اسے لہسن کی بدبو کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا حضرت ابوایوب نے یہ سن کر عرض کیا کہ پھر جس چیز کو آپ تناول نہیں فرماتے اسے میرے پاس کیوں بھیج دیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیونکہ میرے پاس فرشتہ آتا تھا۔ علی بن مدینی کہتے ہیں کہ مجھ سے سفیان بن عیینہ نے کہا کہ گذشتہ حدیث آپ کے پاس اس سے زیادہ عمدہ سند سے موجود تھی؟ میں نے ان سے حدیث پوچھی تو انہوں نے اپنی سند کے ساتھ گذشتہ حدیث ذکر کی میں نے اثبات میں جواب دیا اور اپنی سند ذکر کی تو وہ خاموش ہوگئے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ وَقِيلَ لَهُ أَكَانَ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْبٌ قَالَ لَمْ يَكُنْ فِي رَأْسِهِ وَلَا فِي لِحْيَتِهِ إِلَّا شَعَرَاتٌ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ إِذَا دَهَنَهُنَّ وَارَاهُنَّ الدُّهْنُ
حضرت جابر ؓ سے کسی نے نبی ﷺ کے سفید بالوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے سر میں چند سفید بال تھے جب آپ سر پر تیل لگاتے تو بالوں کی سفیدی واضح نہیں ہوتی تھی۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ أَبُو كَامِلٍ أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَجُلًا كَانَ بِالْحَرَّةِ مَعَهُ أَهْلُهُ وَوَلَدُهُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ إِنِّي أَضْلَلْتُ نَاقَةً لِي فَإِنْ وَجَدْتَهَا فَأَمْسِكْهَا فَوَجَدَهَا فَمَرِضَتْ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ انْحَرْهَا فَأَبَى فَنَفَقَتْ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ قَدِّدْهَا حَتَّى نَأْكُلَ مِنْ لَحْمِهَا وَشَحْمِهَا قَالَ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لَهُ هَلْ لَكَ غِنًى يُغْنِيكَ قَالَ لَا قَالَ فَكُلُوهَا قَالَ فَجَاءَ صَاحِبُهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ أَلَا كُنْتَ نَحَرْتَهَا قَالَ اسْتَحَيْتُ مِنْكَ
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی اپنے والد کے ساتھ حرہ میں رہتا تھا اس سے کسی نے کہا کہ میری اونٹنی بھاگ گئی ہے اگر تمہیں ملے تو اسے پکڑ لاؤ اتفاق سے اس آدمی کو وہ مل گئی لیکن اس کا مالک واپس نہ آیا یہاں تک کہ وہ بیمار ہوگئی اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ اسے ذبح کرلو تاکہ ہم اسے کھا سکیں لیکن اس نے ایسا نہیں کیا حتی کہ وہ اونٹنی مرگئی اس کی بیوی نے پھر کہا کہ اس کی کھال کو اتار دو تاکہ اب تو اس کے گوشت کو چربی کے ٹکرے کرلے اس نے کہا کہ میں پہلے نبی ﷺ سے پوچھوں گا اس نے نبی ﷺ سے پوچھا تو نبی ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اتنا ہے کہ تمہیں اس اونٹنی سے مستغنی کردے اس نے کہا نہیں نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم جا کر اسے کھالو کچھ عرصہ بعد اس کا مالک بھی آگیا اور سارا واقعہ سن کر اس نے کہا تم نے اسے ذبح کیوں نہ کرلیا اس نے جواب دیا مجھے تم سے حیاء آئی۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک یہودی مرد اور عورت پر رجم کی سزاجاری فرمائی۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كَنَحْوٍ مِنْ صَلَاتِكُمْ الَّتِي تُصَلُّونَ الْيَوْمَ وَلَكِنَّهُ كَانَ يُخَفِّفُ كَانَتْ صَلَاتُهُ أَخَفَّ مِنْ صَلَاتِكُمْ وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ الْوَاقِعَةَ وَنَحْوَهَا مِنْ السُّوَرِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بھی یہی نمازیں پڑھایا کرتے تھے جو آج تم پڑھتے ہو لیکن وہ نماز میں تخفیف فرماتے تھے اور ان کی نماز تمہاری نماز سے ہلکی ہوتی تھی اور نماز فجر میں سورة واقعہ اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ وَأَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَفْتَحَنَّ رَهْطٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ كُنُوزَ كِسْرَى الَّتِي قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ الَّذِي بِالْأَبْيَضِ قَالَ جَابِرٌ فَكُنْتُ فِيهِمْ فَأَصَابَنِي أَلْفُ دِرْهَمٍ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت نکلے گی اور وہ کسری اور آل کسری کا سفید خزانہ نکال لیں گے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُ ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا مؤذن جب اذان دیتا تو کچھ دیر رک جاتا اور اس وقت تک اقامت نہ کہتا جب تک نبی ﷺ کو باہر نکلتے ہوئے نہ دیکھ لیتا جب وہ دیکھتا کہ نبی ﷺ باہر نکل آئے ہیں تو وہ اقامت شروع کردیتا۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ فَإِذَا ادَّهَنَ وَمَشَطَ لَمْ يَتَبَيَّنْ وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ وَكَانَ كَثِيرَ الشَّعْرِ وَاللِّحْيَةِ فَقَالَ رَجُلٌ وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ قَالَ لَا بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ مُسْتَدِيرًا قَالَ وَرَأَيْتُ خَاتَمَهُ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ يُشْبِهُ جَسَدَهُ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَمِطَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے سر کے اگلے حصے میں چند بال سفید تھے جب آپ سر پر تیل لگاتے تو بالوں کی سفیدی واضح نہیں ہوتی تھی اور جب تیل نہ لگاتے تو ان کی سفیدی واضح ہوجاتی تھی اور نبی ﷺ کے سر اور داڑھی کے بال گھنے تھے کسی نے پوچھا کہ ان کا چہرہ تلوار کی طرح چمکدار تھا؟ انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ چاند سورج کی طرح چمکدار تھا اور گولائی میں تھا اور میں نے نبی ﷺ کی پشت مبارک پر مہر نبوت دیکھی تھی وہ کبوتری کے انڈے جتنی تھی اور ان کے جسم کے مشابہہ تھی۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ فَجَعَلَ يَهْوِي بِيَدِهِ قَالَ خَلَفٌ يَهْوِي فِي الصَّلَاةِ قُدَّامَهُ فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ حِينَ انْصَرَفَ فَقَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ هُوَ كَانَ يُلْقِي عَلَيَّ شَرَرَ النَّارِ لِيَفْتِنَنِي عَنْ صَلَاتِي فَتَنَاوَلْتُهُ فَلَوْ أَخَذْتُهُ مَا انْفَلَتَ مِنِّي حَتَّى يُنَاطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ہمیں فجر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ دوران نماز اپنے ہاتھ سے کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی دیئے نماز سے فارغ ہو کر لوگوں نے اس کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ شیطان میرے سامنے آگ کے شعلے لے کر آتا تھا تاکہ میری نماز خراب کردے میں اسے پکڑ رہا تھا اگر میں اسے پکڑ لیتا تو وہ مجھ سے اپنے آپ کو چھڑا نہیں سکتا تھا یہاں تک کہ اسے مسجد کے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا جاتا اور اہل مدینہ کے بچے اسے دیکھتے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُ ثُمَّ يُمْهِلُ وَلَا يُقِيمُ حَتَّى إِذَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا مؤذن جب اذان دیتا تو کچھ دیر رک جاتا اور اس وقت تک اقامت نہ کہتا جب تک نبی ﷺ کو باہر نکلتے ہوئے نہ دیکھ لیتا جب وہ دیکھتا کہ نبی ﷺ باہر نکل آئے ہیں تو وہ اقامت شروع کردیتا۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ صَلَاتِكُمْ شَيْئًا وَكَانَ يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہی نمازیں پڑھاتے تھے جو تم پڑھتے ہو لیکن وہ درمیانی نماز پڑھاتے تھے اور نماز عشاء کو ذرا مؤخر کردیتے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ بِ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ وَكَانَتْ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
حضرت جابر ؓ سے نبی ﷺ کی نماز کے متعلق مروی ہے کہ نبی ﷺ ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور نبی ﷺ فجر میں سورت ق اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے۔ حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نماز فجر پڑھنے کے بعد نبی ﷺ طلوع آفتاب تک اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہتے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا وَكَانَ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ أَكْحَلُ وَلَيْسَ بِأَكْحَلَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی مبارک پنڈلیوں میں پتلا پن تھا اور ہنستے وقت نبی ﷺ صرف تبسم فرماتے تھے اور جب بھی تم نبی ﷺ کو دیکھتے تو یہی کہتے کہ نبی ﷺ کی آنکھیں سرمگیں ہیں خواہ آپ نے سرمہ بھی نہ لگایا ہو۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِمَكَّةَ لَحَجَرًا كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ لَيَالِيَ بُعِثْتُ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ إِذَا مَرَرْتُ بِهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں مکہ مکرمہ میں ایک پتھر کو پہچانتاہوں جو مجھے قبل از بعثت سلام کیا کرتا تھا میں اسے اب بھی پہچانتاہوں۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَجَعَلَ يَنْتَهِزُ شَيْئًا قُدَّامَهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ سَأَلْنَاهُ فَقَالَ ذَاكَ الشَّيْطَانُ أَلْقَى عَلَى قَدَمَيَّ شَرَرًا مِنْ نَارٍ لِيَفْتِنَنِي عَنْ الصَّلَاةِ قَالَ وَقَدْ انْتَهَزْتُهُ وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَنِيطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يُطِيفَ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ہمیں فجر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ دوران نماز اپنے ہاتھ سے کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی دیئے نماز سے فارغ ہو کر لوگوں نے اس کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ شیطان میرے سامنے آگ کے شعلے لے کر آتا تھا تاکہ میری نماز خراب کردے میں اسے پکڑ رہا تھا اگر میں اسے پکڑ لیتا تو وہ مجھ سے اپنے آپ کو چھڑا نہیں سکتا تھا یہاں تک کہ اسے مسجد کے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا جاتا اور اہل مدینہ کے بچے اسے دیکھتے۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَذِّنُ ثُمَّ لَا يُقِيمُ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا مؤذن جب اذان دیتا تو کچھ دیر رک جاتا اور اس وقت تک اقامت نہ کہتا جب تک نبی ﷺ کو باہر نکلتے ہوئے نہ دیکھ لیتا جب وہ دیکھتا کہ نبی ﷺ باہر نکل آئے ہیں تو وہ اقامت شروع کردیتا۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنِ الْأَشْعَثِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِ عَاشُورَاءَ وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ يَأْمُرْنَا بِهِ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُ وَلَمْ يَتَعَاهَدْنَا عِنْدَهُ
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہمیں ابتداء دس محرم کا روزہ رکھنے کی ترغیب اور حکم دیتے تھے اور ہم سے اس پر عمل کرواتے تھے بعد میں جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نبی ﷺ نے ہمیں اس کا حکم دیا اور نہ ہی منع کیا اور نہ ہی عمل کروایا۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ الْأَشْعَثِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ وَلَا نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ وَأَنْ نُصَلِّيَ فِي دِمَنِ الْغَنَمِ وَلَا نُصَلِّيَ فِي عَطَنِ الْإِبِلِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کریں بکری کا گوشت کھا کر وضو نہ کریں بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھ لیں اور اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھیں۔
حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نَجْلِسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانُوا يَتَنَاشَدُونَ الْأَشْعَارَ وَيَتَذَاكَرُونَ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ فَرُبَّمَا تَبَسَّمَ أَوْ قَالَ كُنَّا نَتَنَاشَدُ الْأَشْعَارَ وَنَذْكُرُ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَرُبَّمَا تَبَسَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کی مجلسوں میں شریک ہوتے تھے نبی ﷺ زیادہ وقت خاموش رہتے تھے اور کم ہنستے تھے البتہ نبی ﷺ کی موجودگی میں صحابہ اشعار بھی کہہ لیا کرتے تھے اور زمانہ جاہلیت کے واقعات ذکر کر کے ہنستے تھے لیکن نبی ﷺ تبسم فرماتے تھے۔