حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 712 · 261 hadiths · Page 3 of 14

18710Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ وَهُوَ يَرْزُقُهُمْ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی تکلیف دہ بات کو سن کر اللہ سے زیادہ اس پر صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے لیکن وہ پھر بھی انہیں رزق دیتا ہے

18711Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَاءُ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ قَالَ وَخْزُ أَعْدَائِكُمْ مِنْ الْجِنِّ وَفِي كُلٍّ شُهَدَاءُ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت " طعن اور طاعون " سے فناء ہوگی کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! طعن کا معنی تو ہم نے سمجھ لیا (کہ نیزوں سے مارنا) طاعون سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے دشمن جنات کے کچوکے اور دونوں صورتوں میں شہادت ہے۔

18712Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کرلے اور دن میں اپنے ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کرلے یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوجاتا۔

18713Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعٍ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ بِالنَّهَارِ وَعَمَلُ النَّهَارِ بِاللَّيْلِ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور چارباتیں بیان فرمائیں اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو نیند نہیں آتی اور نہ ہی نیند ان کی شایان شان ہے وہ ترازو کو جھکاتے اور اونچا کرتے ہیں رات کے اعمال دن کے وقت اور دن کے اعمال رات کے وقت ان کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔

18714Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ قَالَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ قَالَ يَعْمَلُ بِيَدِهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ قَالَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَفْعَلَ قَالَ يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ أَوْ بِالْعَدْلِ قَالَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَفْعَلَ قَالَ يُمْسِكُ عَنْ الشَّرِّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان پر صدقہ کرنا واجب ہے کسی نے پوچھا یہ بتائیے کہ اگر کسی کے پاس کچھ نہ ہو تو؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنے ہاتھ سے محنت کرے، اپنا بھی فائدہ کرے اور صدقہ بھی کرے، سائل نے پوچھا یہ بتائیے کہ اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی ضرورت مند، فریادی کی مدد کر دے سائل نے پوچھا اگر کوئی شخص یہ بھی نہ کرسکے تو؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا خیر یا عدل کا حکم دے سائل نے پوچھا اگر یہ بھی نہ کرسکے تو؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر کسی کو تکلیف پہنچانے سے اپنے آپ کو روک کر رکھے اس کے لئے یہی صدقہ ہے۔

18715Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ صَالِحٍ الثَّوْرِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا وَأَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحَقَّ مَوَالِيهِ وَرَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِمَا جَاءَ بِهِ عِيسَى وَمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَهُ أَجْرَانِ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے عمدہ تعلیم دلائے بہترین ادب سکھائے پھر اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا، اسی طرح وہ غلام جو اپنے اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہو اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کرتا ہو یا اہل کتاب میں سے وہ آدمی جو حضرت عیسیٰ کی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو اور محمد ﷺ کی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو اسے بھی دہرا اجرملے گا۔

18716Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

18717Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْأَبْطَحِ فَقَالَ لِي أَحَجَجْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَبِمَ أَهْلَلْتَ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أَحْسَنْتَ قَالَ طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَحِلَّ قَالَ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَّتْ رَأْسِي ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ قَالَ فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ حَتَّى كَانَ خِلَافَةُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ رَجُلٌ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ بَعْدَكَ قَالَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَأْتَمُّوا قَالَ فَقَدِمَ عُمَرُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے اپنی قوم کے علاقے میں بھیج دیا، جب حج کاموسم قریب آیا تو نبی کریم ﷺ حج کے لئے تشریف لے گئے میں نے بھی حج کی سعادت حاصل کی، میں جب حاضر خدمت میں ہوا تو نبی کریم ﷺ ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے مجھ سے پوچھا کہ اے عبداللہ بن قیس! تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟ میں نے عرض کیا " لبیک بحج باہلال کا ھلال النبی ﷺ کہہ کر، نبی کریم ﷺ نے فرمایا بہت اچھایہ بتاؤ کہ کیا اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا جا کر بیت اللہ کا طواف کرو، صفا مروہ کے درمیان سعی کرو اور حلال ہوجاؤ۔ چناچہ میں چلا گیا اور نبی کریم ﷺ کے حکم کے مطابق کرلیا پھر اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا، اس نے " خطمی " سے میرا سر دھویا اور میرے سر کی جوئیں دیکھیں، پھر میں نے آٹھ دی الحج کو حج کا احرام باندھ لیا میں نبی کریم ﷺ کے وصال تک لوگوں کو یہی فتویٰ دیتا رہا جس کا نبی کریم ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا، حضرت صدیق اکبر ؓ کے زمانے میں بھی یہی صورت حال رہی جب حضرت عمر ؓ کا زمانہ آیا تو ایک دن میں حجر اسود کے قریب کھڑا ہوا تھا اور لوگوں کو یہی مسئلہ بتارہا تھا جس کا نبی کریم ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور سرگوشی میں مجھ سے کہنے لگا کہ یہ فتویٰ دینے میں جلدی سے کام مت لیجئے کیونکہ امیرالمؤمنین نے مناسک حج کے حوالے سے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ اے لوگو! جسے ہم نے مناسک حج کے حوالے سے کوئی فتویٰ دیا ہو وہ انتظار کرے کیونکہ امیرالمؤمنین آنے والے ہیں آپ ان ہی کی اقتداء کریں، پھر جب حضرت عمر ؓ آئے تو میں نے ان سے پوچھا اے امیرالمؤمنین! کیا مناسک حج کے حوالے سے آپ نے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں؟ انہوں نے فرمایا ہاں! اگر ہم کتاب اللہ کو لیتے ہیں تو وہ ہمیں اتمام کا حکم دیتی ہے اور اگر نبی کریم ﷺ کی سنت کو لیتے ہیں تو انہوں نے قربانی کرنے تک احرام نہیں کھولا تھا۔

18718Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَبَكَتْ عَلَيْهِ أُمُّ وَلَدِهِ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ لَهَا أَمَا بَلَغَكِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ لَيْسَ مِنَّا مَنْ سَلَقَ وَحَلَقَ وَخَرَقَ

حضرت ابوموسیٰ ؓ کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو ان کی ام ولدہ رونے لگی جب انہیں افاقہ ہوا تو اس سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے پوچھا کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔

18719Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَمِعَ بِي مِنْ أُمَّتِي أَوْ يَهُودِيٌّ أَوْ نَصْرَانِيٌّ فَلَمْ يُؤْمِنْ بِي لَمْ يَدْخُلْ الْجَنَّةَ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے متعلق سنے خواہ میرا امتی ہو، یہودی ہو یا عیسائی ہو اور مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

18720Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ حَدَّثَنِي رَجُلٌ أَسْوَدُ طَوِيلٌ قَالَ جَعَلَ أَبُو التَّيَّاحِ يَنْعَتُهُ أَنَّهُ قَدِمَ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ فَكَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْشِي فَمَالَ إِلَى دَمْثٍ فِي جَنْبِ حَائِطٍ فَبَالَ ثُمَّ قَالَ كَانَ بَنَو إِسْرَائِيلَ إِذَا بَالَ أَحَدُهُمْ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ بَوْلِهِ يَتْبَعُهُ فَقَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ وَقَالَ إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ

ابوالتیاح کے طویل سیاہ فام آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ حضرت ابن عباس ؓ کے ساتھ بصرہ آیا انہوں نے حضرت ابوموسیٰ ؓ کو خط لکھا، حضرت ابوموسیٰ ؓ نے انہیں جواب میں لکھا ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ جارہے تھے کہ ایک باغ کے پہلو میں نرم زمین کے قریب پہنچ کر پیشاب کیا اور فرمایا بنی اسرائیل میں جب کوئی شخص پیشاب کرتا اور اس کے جسم پر معمولی سا پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو قینچی سے کاٹ دیا کرتا تھا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کا ارادہ کرے تو اس کے لئے نرم زمین تلاش کرے۔

18721Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ السَّلَامَ ثُمَّ كَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَى بِسَيْفِهِ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ

ابوبکربن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دشمن کے لشکرکے سامنے میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے میں ہیں یہ سن کر ایک پراگندہ ہیئت آدمی لوگوں میں سے کھڑا ہو اور کہنے لگا اے ابوموسیٰ! کیا یہ حدیث آپ نے نبی کریم ﷺ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس پہنچا اور انہیں آخری مرتبہ سلام کیا اپنی تلوار کی نیام توڑ کر پھینکی اور تلوار لے کر چل پڑا اور اس شدت کے ساتھ لڑا کہ بالآخر شہید ہوگیا۔

18722Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ قَالَ أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَبَكَوْا عَلَيْهِ فَقَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوا عَنْ ذَلِكَ امْرَأَتَهُ فَقَالَتْ مَنْ حَلَقَ أَوْ خَرَقَ أَوْ سَلَقَ

حضرت ابوموسیٰ ؓ کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو ان کی ام ولدہ رونے لگی جب انہیں افاقہ ہوا تو اس سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے پوچھا کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔

18723Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَوْفٍ عَنْ خَالِدٍ الْأَحْدَبِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَبَكَوْا عَلَيْهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ حَلَقَ أَوْ خَرَقَ أَوْ سَلَقَ

حضرت ابوموسیٰ ؓ کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو ان کی ام ولدہ رونے لگی جب انہیں افاقہ ہوا تو اس سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے پوچھا کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔

18724Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ وَحَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ حَدَّثَنِي عَوْفٌ عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ عَنْ أَبِي كِنَانَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَابِ بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ وَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْ الْبَابِ ثُمَّ قَالَ هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا قُرَشِيٌّ قَالَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ غَيْرُ فُلَانٍ ابْنِ أُخْتِنَا فَقَالَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ قَالَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ مَا دَامُوا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا وَإِذَا قَسَمُوا أَقْسَطُوا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ایک گھرکے دروازے پر پہنچے جہاں کچھ قریشی جمع تھے اور دروازے کے دونوں کواڑ پکڑ کر پوچھا کہ کیا اس گھر میں قریشیوں کے علاوہ بھی کوئی ہے؟ کسی نے جواب دیا ہمارا فلاں بھانجا ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے پھر فرمایا حکومت قریش ہی میں رہے گی جب تک ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ رحم کرتے رہیں فیصلہ کریں تو انصاف کریں تقسیم کریں تو عدل سے کام لیں جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوگا۔

18725Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مُوسَى وَعَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَلَمْ تَسْمَعْ لِقَوْلِ عَمَّارٍ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ مَسَحَ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِصَاحِبَتِهَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ لَمْ يُجِزْ الْأَعْمَشُ الْكَفَّيْنِ

شقیق (رح) کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابوموسی اشعری ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابوموسیٰ ؓ کہنے لگے کیا آپ نے حضرت عمار ؓ کی یہ بات نہیں سنی کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھے کسی کام سے بھیجا مجھ پر دوران سفر غسل واجب ہوگیا مجھے پانی نہیں ملا تو میں اسی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا جیسے چوپائے ہوتے ہیں پھر میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس واقعے کا بھی ذکر کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے لئے تو صرف یہی کافی تھا یہ کہہ کر نبی کریم ﷺ نے زمین پر اپنا ہاتھ مارا پھر دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر ملا اور چہرے پر مسح کرلیا۔

18726Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَيُقَاتِلُ رِيَاءً فَأَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ آدمی اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے کے لئے لڑتا ہے ایک آدمی قومی غیرت کے جذبے سے قتال کرتا ہے اور ایک آدمی ریاکاری کے لئے قتال کرتا ہے ان میں سے اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا کون ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اس لئے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے وہی اللہ کے راستہ میں قتال کرنے والا ہے۔

18727Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا وَأَبَا مُوسَى إِلَى الْيَمَنِ فَأَمَرَهُمَا أَنْ يُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ ؓ اور ابوموسیٰ ؓ کو یمن کی طرف بھیجا اور انہیں حکم کہ لوگوں کو قرآن سکھائیں۔

18728Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِالنَّبْلِ فِي مَسَاجِدِنَا أَوْ أَسْوَاقِنَا فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ عَلَى مَشَاقِصِهَا لَا يَعْقِرْ أَحَدًا

حضرت عبداللہ بن قیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو لگ جائے اور تم کسی کو اذیت پہنچاؤ یا زخمی کردو۔

18729Musnad Imam Ahmad

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنْ أَحَدِكُمْ مِنْ الْإِبِلِ مِنْ عُقُلِهِ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ قُلْتُ لِبُرَيْدٍ هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي حَدَّثْتَنِي عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ لَا أَقُولُ لَكَ

حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ اس قرآن کی حفاظت کیا کرو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ اپنی رسی چھڑا کر بھاگ جانے والے اونٹ سے زیادہ تم میں سے کسی کے سینے سے جلدی نکل جاتا ہے۔