حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحِلَّ لِإِنَاثِ أُمَّتِي الْحَرِيرُ وَالذَّهَبُ وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے دائیں ہاتھ میں ریشم اور بائیں ہاتھ میں سونا بلند کیا اور فرمایا یہ دونوں میری امت کی عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہیں۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَخِيهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَدِمَ رَجُلَانِ مَعِي مِنْ قَوْمِي قَالَ فَأَتَيْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَا وَتَكَلَّمَا فَجَعَلَا يُعَرِّضَانِ بِالْعَمَلِ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ رُئِيَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَخْوَنَكُمْ عِنْدِي مَنْ يَطْلُبُهُ فَعَلَيْكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَمَا اسْتَعَانَ بِهِمَا عَلَى شَيْءٍ
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ میرے ساتھ میری قوم کے دو آدمی بھی آئے تھے ہم لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے دوران گفتگو کوئی عہدہ طلب کیا جس پر نبی کریم ﷺ کا چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور فرمایا میرے نزدیک تم میں سب سے بڑا خائن وہ ہے جو کسی عہدے کا طلب گار ہوتا ہے لہٰذا تم دونوں تقویٰ کو لازم پکڑو اور نبی کریم ﷺ نے ان سے کوئی خدمت نہیں لی۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسِبْتُهُ قَالَ فِي حَائِطٍ فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَأْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ فَمَا زَالَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى جَلَسَ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَسَلَّمَ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ فَمَا زَالَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى جَلَسَ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَسَلَّمَ فَقَالَ اذْهَبْ فَأْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى شَدِيدَةٍ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى شَدِيدَةٍ قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ اللَّهُمَّ صَبْرًا حَتَّى جَلَسَ
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی باغ میں تھا ایک آدمی آیا اور اس نے سلام کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا جاؤ اسے اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنادو میں گیا تو وہ حضرت ابوبکرصدق ؓ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر دوسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم نے فرمایا اسے بھی اجازت اور خوشخبری دے دو میں گیا تو وہ حضرت عمر ؓ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر تیسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا جا کر اسے بھی اجازت دے دو اور ایک امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری سنا دو میں گیا تو وہ حضرت عثمان ؓ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور ایک سخت امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ یہ کہتے ہوئے کہ " اے اللہ! ثابت قدم رکھنا " آکر بیٹھ گئے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سَعِيدِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَرَجَعَ فَأَرْسَلَ عُمَرُ فِي أَثَرِهِ لِمَ رَجَعْتَ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُجَبْ فَلْيَرْجِعْ
حضرت ابوسعیدخدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ نے حضرت عمر ؓ کو تین مرتبہ سلام کیا، انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے حضرت عمر ؓ نے ان کے پیچھے قاصد کو بھیجا کہ واپس کیوں چلے گئے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تم میں سے کوئی شخص تین مرتبہ سلام کرچکے اور اسے جواب نہ ملے تو اسے واپس لوٹ جانا چاہئے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَضَى عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو اللہ تمہاری سنے گا کیونکہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی زبانی یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ جو اللہ کی تعریف کرتا ہے اللہ اس کی سن لیتا ہے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْخَازِنَ الْأَمِينَ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَدْفَعَهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا امانت دار خزانچی وہ ہوتا ہے کہ اسے جس چیز کا حکم دیا جائے وہ اسے مکمل، پورا اور دل کی خوشی کے ساتھ ادا کردے تاکہ صدقہ کرنے والے نے جسے دینے کا حکم دیا ہے اس تک وہ چیز پہنچ جائے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ أَخْبَرَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ الْحَنَفِيُّ عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر آنکھ بدکاری کرتی ہے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ أَحَدُهُمَا مِنْ أَهْلِ حَضْرَمَوْتَ قَالَ فَجَعَلَ يَمِينَ أَحَدِهِمَا قَالَ فَضَجَّ الْآخَرُ وَقَالَ إِنَّهُ إِذًا يَذْهَبُ بِأَرْضِي فَقَالَ إِنْ هُوَ اقْتَطَعَهَا بِيَمِينِهِ ظُلْمًا كَانَ مِمَّنْ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِ وَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ قَالَ وَوَرِعَ الْآخَرُ فَرَدَّهَا
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے دو آدمی ایک زمین کا مقدمہ لے کر آئے جن میں سے ایک تعلق حضرموت سے تھا نبی کریم ﷺ نے دوسرے کو قسم اٹھانے کا کہہ دیا دوسرا فریق یہ سن کر چیخ پڑا اور کہنے لگا کہ اس طرح تو یہ میری زمین لے جائے گا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر یہ قسم کھاکر ظلماً اسے اپنی ملکیت میں لے لیتا ہے تو یہ ان لوگوں میں سے ہوگا جنہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دیکھے گا اور نہ ہی اس کا تزکیہ کرے گا اور اس کے لئے دردناک عذاب ہوگا پھر دوسرے شخص کو تقویٰ کی ترغیب دی تو اس نے وہ زمین واپس کردی۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَرِيرُ وَالذَّهَبُ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي وَحِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ سونا اور ریشم دونوں میری امت کی عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہیں۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا فَإِنْ سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ وَإِنْ أَبَتْ لَمْ تُكْرَهْ
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بالغ لڑکی سے اس کے نکاح کی اجازت لی جائے گی، اگر وہ خاموش رہے تو گویا اس نے اجازت دے دی اور اگر وہ انکار کردے تو اسے اس رشتے پر مجبور نہ کیا جائے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَفُكُّوا الْعَانِيَ وَعُودُوا الْمَرِيضَ قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَرْضَى
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بھوکے کو کھانا کھلایا کرو، قیدیوں کو چھڑایا کرو اور بیماروں کی عیادت کیا کرو۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ دَجَاجًا
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو مرغی کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي الْأَحْوَلَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَشْرَفْنَا عَلَى وَادٍ فَذَكَرَ مِنْ هَوْلِهِ فَجَعَلَ النَّاسُ يُكَبِّرُونَ وَيُهَلِّلُونَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّهُ مَعَكُمْ
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے ہم ایک وادی پر چڑھے، انہوں نے اس کی ہولناکی بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ لوگ تکبیر و تہلیل کہنے لگے نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگو! اپنے ساتھ نرمی کرو، کیونکہ لوگوں نے آوازیں بلند کر رکھی تھیں، لوگو! تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے ہو وہ ہر لمحہ تمہارے ساتھ ہے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص نردشیر (بارہ ٹانی) کے ساتھ کھیلتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ فِيمَا أَعْلَمُ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص نردشیر (بارہ ٹانی) کے ساتھ کھیلتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَلَ مِنْ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنْ النِّسَاءِ إِلَّا آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مردوں میں سے کامل افراد تو بہت گذرے ہیں لیکن عورتوں میں کامل عورتیں صرف حضرت آسیہ ؓ " جو فرعون کی بیوی تھیں " اور حضرت مریم (علیہا السلام) گذری ہیں اور تمام عورتوں پر عائشہ ؓ کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کو فضیلت حاصل ہے۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ أَسْمَاءَ لَمَّا قَدِمَتْ لَقِيَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ آلْحَبَشِيَّةُ هِيَ قَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ سَبَقْتُمْ بِالْهِجْرَةِ فَقَالَتْ هِيَ لِعُمَرَ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ رَاجِلَكُمْ وَيُعَلِّمُ جَاهِلَكُمْ وَفَرَرْنَا بِدِينِنَا أَمَا إِنِّي لَا أَرْجِعُ حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ لَكُمْ الْهِجْرَةُ مَرَّتَيْنِ هِجْرَتُكُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهِجْرَتُكُمْ إِلَى الْحَبَشَةِ
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ جب حضرت اسماء ؓ حبشہ سے واپس آئیں تو مدینہ منورہ کے کسی راستے میں حضرت عمر ؓ سے ان کا آمنا سامنا ہوگیا حضرت عمر ؓ نے پوچھا حبشہ جانے والی ہو؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں! حضرت عمر ؓ نے کہا کہ تم لوگ بہترین قوم تھے اگر تم سے ہجرت مدینہ نہ چھوٹتی انہوں نے فرمایا کہ تم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے وہ تمہارے پیدل چلنے والوں کو سواری دیتے تمہارے جاہل کو علم سکھاتے اور ہم لوگ اس وقت اپنے دین کو بچانے کے لئے نکلے تھے میں نبی کریم ﷺ سے یہ بات ذکر کئے بغیر اپنے گھر واپس نہ جاؤں گی چناچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ساری بات بتادی نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہاری دوہجرتیں ہوئیں ایک مدینہ منورہ کی طرف اور دوسری ہجرت حبشہ کی جانب۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الْمَسْعُودِيِّ وَيَزِيدُ قَالَ أَنْبَأَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ سَمَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ أَسْمَاءً مِنْهَا مَا حَفِظْنَا فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ قَالَ يَزِيدُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الْمَلْحَمَةِ
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں اپنے کچھ نام بتائے جو ہمیں پہلے سے یاد اور معلوم نہ تھے چناچہ فرمایا کہ میں محمد ہوں، احمد، مقفی، حاشر اور نبی الرحمۃ ہوں ﷺ۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ
حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان تک پہنچ نہیں پاتا تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔