حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 613 · 38 hadiths · Page 2 of 2

18108Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ عَنْهَا فَقَالَ إِنِّي أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا دَاءٌ وَلَيْسَتْ بِدَوَاءٍ

حضرت طارق بن سوید ؓ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم لوگ انگوروں کے علاقے میں رہتے ہیں کیا ہم انہیں نچوڑ کر (ان کی شراب پی سکتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں میں نے اپنی بات کی تکرار کی، تو نبی کریم ﷺ نے پھر فرمایا نہیں، میں نے عرض کیا کہ ہم مریض کو علاج کے طور پر پلاسکتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس میں شفاء نہیں بلکہ یہ تو نری بیماری ہے۔

18109Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ الْقَائِلُ قَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا أَرَدْتُ إِلَّا الْخَيْرَ فَقَالَ لَقَدْ فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَلَمْ يُنَهْنِهْهَا دُونَ الْعَرْشِ

حضرت وائل ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی دوران نماز ایک آدمی کہنے لگا الحمدللہ کثیراً طیبا مبارکا فیہ " نماز سے فراغت کے بعد نبی کریم ﷺ نے پوچھا یہ کلمات کس نے کہے تھے؟ اس آدمی نے کہا یا رسول اللہ! میں نے کہے تھے اور صرف خیر ہی کے ارادے سے کہے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کلمات کے لئے آسمان کے دروازے کھل گئے اور عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز انہیں روک نہ سکی۔

18110Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لِي مِنْ وَجْهِهِ مَا لَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِ مِنْ وَجْهِ رَجُلٍ مِنْ بَادِيَةِ الْعَرَبِ صَلَّيْتُ خَلْفَهُ وَكَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا كَبَّرَ وَرَفَعَ وَوَضَعَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ

حضرت وائل ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا مجھے ان کے رخ انور کی زیارت کے بدلے میں کوئی چیز محبوب نہ تھی میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آپ ﷺ ہر مرتبہ جھکتے اور اٹھتے ہوئے تکبیر کہتے تھے اور تکبیر کہتے وقت رفع یدین کرتے تھے اور دائیں بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے تھے۔

18111Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ الْجُعْفِيَّ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ أَوْ كَرِهَ لَهُ أَنْ يَصْنَعَهَا فَقَالَ إِنَّمَا نَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ

حضرت طارق بن سوید ؓ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم لوگ انگوروں کے علاقے میں رہتے ہیں کیا ہم انہیں نچوڑ کر (ان کی شراب) پی سکتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں میں نے اپنی بات کی تکرار کی، تو نبی کریم ﷺ نے پھر فرمایا نہیں، میں نے عرض کیا کہ ہم مریض کو علاج کے طور پر پلاسکتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس میں شفاء نہیں بلکہ یہ تو نری بیماری ہے۔

18112Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ فَقَالَ أَحَدُهُمَا إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدَانَ فَقَالَ لَهُ بَيِّنَتُكَ قَالَ لَيْسَ لِي بَيِّنَةٌ قَالَ يَمِينُهُ قَالَ إِذًا يَذْهَبُ قَالَ لَيْسَ لَكَ إِلَّا ذَلِكَ قَالَ فَلَمَّا قَامَ لِيَحْلِفَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ

حضرت وائل ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ دو آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس ایک زمین کا جھگڑالے کر آئے ان میں سے ایک نے کہا یا رسول اللہ! اس شخص نے زمانہ جاہلیت میں میری زمین پر قبضہ کرلیا تھا (یہ کہنے والا امرؤالقیس بن عابس کندی تھا اور اس کا مخالف ربیعہ بن عبدان تھا) نبی کریم ﷺ نے اس سے گواہوں کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا کہ گواہ تو میرے پاس نہیں ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر یہ قسم کھائے گا اس نے کہا کہ اس طرح تو یہ میری زمین لے جائے گا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کے علاوہ کوئی اور حل نہیں ہے جب وہ دوسرا آدمی قسم کھانے لگا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ظلماً کسی کی زمین ہتھیا لیتا ہے وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہوگا۔

18113Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَسْجُدُ عَلَى الْأَرْضِ وَاضِعًا جَبْهَتَهُ وَأَنْفَهُ فِي سُجُودِهِ

حضرت وائل ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہے کہ جب وہ سجدہ کرتے تو اپنی ناک اور پیشانی پر سجدہ کرتے،

18114Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ ثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ

حضرت وائل سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ دئیے۔

18115Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ ثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ وَمَوْلًى لَهُمْ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ الثَّوْبِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا فَكَبَّرَ فَرَكَعَ فَلَمَّا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ

حضرت وائل ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی نبی کریم ﷺ نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے، پھر اپنے کپڑے میں لپیٹ کر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیاجب رکوع کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھ باہر نکال کر پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا، جب رکوع سے سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنی ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا۔

18116Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا ثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ جَعَلَ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ

حضرت وائل ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ آپ ﷺ کے ہاتھ کانوں کے قریب تھے۔

18117Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ ثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ آمِينَ

حضرت وائل ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو آمین کہتے ہوئے سنا ہے۔

18118Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْهَرُ بِآمِينَ

حضرت وائل ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو " ولا الضالین " کہنے کے بعد بلند آواز سے آمین کہتے ہوئے سنا ہے۔

18119Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ أخْبَرَهُ قَالَ قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ قَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ ثُمَّ قَالَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ قَبَضَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمْ الثِّيَابُ تُحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ مِنْ الْبَرْدِ

حضرت وائل ؓ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو سوچا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ نبی کریم ﷺ کس طرح نماز پڑھتے ہیں چناچہ نبی کریم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے توبائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا: کچھ عرصے بعد میں دوبارہ آیا تو وہ سردی کا موسم تھا میں نے دیکھا کہ لوگوں نے چادریں اوڑھ رکھی ہیں اور سردی کی وجہ سے وہ اپنے ہاتھوں کو چادروں کے نیچے سے ہی حرکت دے رہے ہیں۔

18120Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ حِينَ رَكَعَ ثُمَّ حِينَ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ وَرَأَيْتُهُ مُمْسِكًا يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا جَلَسَ حَلَّقَ بِالْوُسْطَى وَالْإِبْهَامِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى

حضرت وائل ؓ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو سوچا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ نبی کریم ﷺ کس طرح نماز پڑھتے ہیں چناچہ نبی کریم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔

18121Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ اسْتُكْرِهَتْ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا

حضرت وائل ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں ایک عورت کے ساتھ زنا بالجبر کا واقعہ پیش آیا نبی کریم ﷺ نے اس عورت سے سزا کو معاف کردیا اور مرد پر سزاجاری فرمائی راوی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اس کے لئے مہر بھی مقرر کیا (یا نہیں؟ )

18122Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ وَائِلٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ قَرِيبًا مِنْ الرُّسْغِ وَوَضَعَ يَدَهُ حِينَ يُوجِبُ حَتَّى يَبْلُغَا أُذُنَيْهِ وَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَقَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقَالَ آمِينَ يَجْهَرُ

حضرت وائل ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ نماز میں وہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر گٹوں کے قریب رکھتے تھے اور نماز شروع کرتے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھاتے تھے اور میں آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی ہے آپ ﷺ نے ولا الضالین " کہہ کر بلند آواز سے آمین کہی۔

18123Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَتَمَضْمَضَ فَمَجَّ فِيهِ أَطْيَبَ مِنْ الْمِسْكِ أَوْ قَالَ مِسْكٌ وَاسْتَنْثَرَ خَارِجًا مِنْ الدَّلْوِ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْيُسْرَى فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ

حضرت وائل ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک ڈول پیش کیا گیا نبی کریم ﷺ نے اس میں سے کچھ پانی پیا اور ڈول میں کلی کردی، پھر اس ڈول کو کنوئیں میں الٹا دیا یا ڈول میں سے پانی پی کر کنوئیں میں کلی کردی جس سے وہ کنواں مشک کی طرح مہکنے لگا اور ڈول سے ہٹا کر ناک صاف کی۔

18124Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ أَخْبَرَهُ قَالَ قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ سَجَدَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى فَخِذِهِ فِي صِفَةِ عَاصِمٍ ثُمَّ وَضَعَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ ثَلَاثًا وَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا وَأَشَارَ زُهَيْرٌ بِسَبَّابَتِهِ الْأُولَى وَقَبَضَ إِصْبَعَيْنِ وَحَلَّقَ الْإِبْهَامَ عَلَى السَّبَّابَةِ الثَّانِيَةِ قَالَ زُهَيْرٌ قَالَ عَاصِمٌ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ أَنَّ وَائِلًا قَالَ أَتَيْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى وَعَلَى النَّاسِ ثِيَابٌ فِيهَا الْبَرَانِسُ وَفِيهَا الْأَكْسِيَةُ فَرَأَيْتُهُمْ يَقُولُونَ هَكَذَا تَحْتَ الثِّيَابِ

حضرت وائل ؓ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو سوچا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ نبی کریم ﷺ کس طرح نماز پڑھتے ہیں چناچہ نبی کریم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ حضرت وائل سے مروی ہے کہ میں ایک مرتبہ پھر موسم سرما میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے صحابہ کرام ؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو اپنی چادروں کے اندر ہی سے اٹھا رہے تھے۔

18125Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَكَبَّرَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَخَوَّى فِي رُكُوعِهِ وَخَوَّى فِي سُجُودِهِ فَلَمَّا قَعَدَ يَتَشَهَّدُ وَضَعَ فَخِذَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ وَحَلَّقَ بِالْوُسْطَى حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ وَقَالَ فِيهِ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى قَالَ وَزَادَ فِيهِ شُعْبَةُ مَرَّةً أُخْرَى فَلَمَّا كَانَ فِي الرُّكُوعِ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَافَى فِي الرُّكُوعِ

حضرت وائل ؓ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو سوچا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ نبی کریم ﷺ کس طرح نماز پڑھتے ہیں چناچہ نبی کریم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔