Musnad Imam Ahmad 18108

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

18108Musnad Imam Ahmad

حضرت وائل بن حجر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ عَنْهَا فَقَالَ إِنِّي أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا دَاءٌ وَلَيْسَتْ بِدَوَاءٍ

حضرت طارق بن سوید ؓ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم لوگ انگوروں کے علاقے میں رہتے ہیں کیا ہم انہیں نچوڑ کر (ان کی شراب پی سکتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں میں نے اپنی بات کی تکرار کی، تو نبی کریم ﷺ نے پھر فرمایا نہیں، میں نے عرض کیا کہ ہم مریض کو علاج کے طور پر پلاسکتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس میں شفاء نہیں بلکہ یہ تو نری بیماری ہے۔