حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَبَّحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بُكْرَةً وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِي فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ثُمَّ أَحَالُوا يَسْعَوْنَ إِلَى الْحِصْنِ وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ فَأَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجَةً مِنْ الْقَرْيَةِ فَاطَّبَخْنَاهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ قَالَ سُفْيَانُ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ يَقُولُ وَالْجَيْشُ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ خیبر کے لئے صبح کے وقت تشریف لے گئے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر وہ اپنے قلعے کی طرف بھاگنے لگے، نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ بلند کر کے تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا خیبر برباد ہوگیا جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، وہاں بستی میں ہمیں گدھے ہاتھ لگے، ہم نے انہیں پکا لیا، لیکن نبی ﷺ نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول تمہیں پالتو گدھوں سے روکتے ہیں، کیونکہ یہ ناپاک اور شیطانی عمل ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ كَانُوا يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءَ قَالَ سُفْيَانُ نَزَلَ فِيهِمْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا قِيلَ لِسُفْيَانَ فِيمَنْ نَزَلَتْ قَالَ فِي أَهْلِ بِئْرِ مَعُونَةَ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو کسی لشکر کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا بیر معونہ والے لشکر پر ہوا، اس لشکر کے لوگوں کا نام ہی " قراء " پڑگیا تھا اور ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے پروردگار سے راضی ہوگئے اور اس نے ہمیں خوش کردیا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ عَاصِمًا قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا وَجَدَ عَلَى السَّبْعِينَ الَّذِينَ أُصِيبُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو کسی لشکر کا اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا بیر معونہ والے لشکر پر ہوا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ عَاصِمًا عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِنَا قَالَ سُفْيَانُ كَأَنَّهُ يَقُولُ آخَى
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ہمارے گھر میں فرمائی تھی۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ وَكَانَ لَهُ حَادٍ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ وَكَانَتْ أُمُّ أَنَسٍ مَعَهُمْ فَقَالَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک سفر میں تھے نبی ﷺ کا ایک حدی خوان تھا " جس کا نام انجشہ تھا " وہ امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، حضرت انس ؓ کی والدہ بھی ان کے ساتھ تھیں، نبی ﷺ نے فرمایا انجشہ ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْبَيْدَاءِ لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو مقام بیداء میں حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ آپ ﷺ یوں فرما رہے تھے " لبیک بعمرۃ وحجۃ معاً
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ أَنَسٍ وَابْنُ سِيرِينَ قَالَ لَمَّا رَمَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَنَحَرَ هَدْيَهُ حَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً وَأَعْطَى الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ ثُمَّ حَلَقَ الْأَيْسَرَ فَأَعْطَاهُ النَّاسَ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب جمرہ عقبہ کی رمی اور جانور کی قربانی کرچکے تو سینگی لگوائی اور وہاں کاٹنے والے کے سامنے پہلے سر کا داہنا حصہ کیا، اس نے اس حصے کے بال تراشے، نبی ﷺ نے وہ بال حضرت ابوطلحہ ؓ کو دے دیئے، پھر بائیں جانب کے بال منڈوائے تو عام لوگوں کو دے دیئے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَهْدَى أُكَيْدِرُ دُومَةَ لِلنَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يَعْنِي حُلَّةً فَأَعْجَبَ النَّاسَ حُسْنُهَا فَقَالَ لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ أَوْ أَحْسَنُ مِنْهَا
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ اکید رومہ نے نبی ﷺ کی خدمت میں ایک جوڑا ہدیہ کے طور پر بھیجا، لوگ اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے، نبی ﷺ نے فرمایا سعد کے رومال " جو انہیں جنت میں دیئے گئے ہیں " وہ اس سے بہتر اور عمدہ ہیں۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ جُدْعَانَ قَالَ قَالَ ثَابِتٌ لِأَنَسٍ يَا أَنَسُ مَسِسْتَ يَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَرِنِي أُقَبِّلُهَا
ابن جدعان (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ثابت (رح) نے حضرت انس ؓ سے عرض کیا کہ اے انس! کیا آپ نے نبی ﷺ کے دست مبارک کو اپنے ہاتھ سے چھوا ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو ثابت (رح) نے کہا کہ مجھے وہ ہاتھ دکھائیے کہ میں اسے بوسہ دوں۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ مِنِ ابْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا لشکر میں ابو طلحہ ؓ کی آواز میں ہی کئی لوگوں سے بہتر ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعَ قَاسِمٌ الرَّحَّالُ أَنَسًا يَقُولُ دَخَلَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ خَرِبًا لِبَنِي النَّجَّارِ وَكَانَ يَقْضِي فِيهَا حَاجَةً فَخَرَجَ إِلَيْنَا مَذْعُورًا أَوْ فَزِعًا وَقَالَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَسَأَلْتُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ أَهْلِ الْقُبُورِ مَا أَسْمَعَنِي
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی ویرانے میں تشریف لے گئے، وہاں نبی ﷺ قضاء حاجت کے لئے جایا کرتے تھے، تھوڑی دیر بعد نبی ﷺ گھبرائے ہوئے ہمارے پاس آئے اور فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُطِيفُ بِنِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ يَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مَيْسَرَةَ وَمُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يَقُولَانِ سَمِعْنَا أَنَسًا يَقُولُ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ میں چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَفَّتَةِ وَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ قُلْتُ وَمَا الْمُزَفَّتَةُ قَالَ الْمُقَيَّرَةُ قَالَ قُلْتُ فَالرَّصَاصُ وَالْقَارُورَةُ قَالَ مَا بَأْسٌ بِهِمَا قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَهُمَا قَالَ دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ قَالَ قُلْتُ لَهُ صَدَقْتَ السُّكْرُ حَرَامٌ فَالشَّرْبَةُ وَالشَّرْبَتَانِ عَلَى طَعَامِنَا قَالَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ وَقَالَ الْخَمْرُ مِنْ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ فَمَا خَمَّرْتَ مِنْ ذَلِكَ فَهِيَ الْخَمْرُ
مختار بن نوفل (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس ؓ سے پوچھا کہ برتنوں میں پینے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی ﷺ نے " مزفت " سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے، میں نے پوچھا کہ مزفت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا لک لگایا ہوا برتن، میں نے پوچھا کہ شیشی اور بوتل کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں میں کوئی حرج نہیں، میں نے کہا کہ لوگ تو انہیں اچھا نہیں سمجھتے؟ انہوں نے فرمایا کہ پھر جس چیز میں تمہیں شک ہو اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرلو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو، کیونکہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ نے بجا فرمایا کہ نشہ حرام ہے، لیکن کھانے کے بعد ایک دو گھونٹ پی لینے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا نشہ آور چیز خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ حرام ہے اور فرمایا کہ شراب انگور سے بھی بنتی ہے، کھجور، شہد، گندم، جو اور مکئی سے بھی بنتی ہے، ان میں سے جس چیز سے بھی بنے، وہ بہر حال شراب ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَرَّزَ لِحَاجَتِهِ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَيَغْسِلُ بِهِ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب قضاء حاجت کے لئے جاتے تو میں پانی پیش کرتا تھا اور نبی ﷺ اس سے استنجاء فرماتے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ ابْنَ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا لشکر میں ابوطلحہ ؓ کی اواز ہی کئی لوگوں سے بہتر ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضَعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ثُمَّ يَرْجِعُ قَالَ عَمْرٌو فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ فَإِنَّ لَهُ ظِئْرَيْنِ يُكْمِلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے اہل و عیال پر نبی ﷺ سے بڑھ کر کسی کو شفیق نہیں پایا، حضرت ابراہیم ؓ عوالی مدینہ میں دودھ پیتے بچے تھے، نبی ﷺ انہیں ملنے جایا کرتے تھے، ہم بھی نبی ﷺ کے ساتھ ہوتے نبی ﷺ جب اس گھر میں داخل ہوتے تو وہ دھوئیں سے بھرا ہوتا تھا کیونکہ خاتونِ خانہ کا شوہر لوہار تھا، نبی ﷺ انہیں پکڑ کر پیار کرتے اور کچھ دیر بعد واپس آجاتے، جب حضرت ابراہیم ؓ کی وفات ہوگئی تو نبی ﷺ نے فرمایا ابراہیم میرا بیٹا تھا، جو بچپن میں ہی فوت ہوگیا، اس کے لئے دو دائیاں مقرر کی گئی ہیں جو جنت میں اس کی مدت رضاعت کی تکمیل کریں گی۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي وَتُصَلِّيَ فِيهِ قَالَ فَأَتَاهُ وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ تِلْكَ الْفُحُولِ فَأَمَرَ بِجَانِبٍ مِنْهُ فَكُنِسَ وَرُشَّ فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ میرے ایک چچا نے ایک مرتبہ نبی ﷺ کی کھانے پر دعوت کی اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں اور اس میں نماز پڑھیں، چناچہ نبی ﷺ تشریف لائے، وہاں گھر میں ایک چٹائی پڑی ہوئی تھی جو پرانی ہو کر کالی ہوچکی تھی، نبی ﷺ نے اسے ایک کونے میں رکھنے کا حکم دیا، اسے جھاڑا گیا اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا، پھر نبی ﷺ نے وہاں نماز پڑھی اور ہم نے بھی نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دورانِ نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں؟ نبی ﷺ نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں، ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَكَانَ يَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيَّ وَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، نبی ﷺ پانچ مکوک پانی سے غسل اور ایک مکوک پانی سے وضو فرمالیا کرتے تھے۔