حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 32 · 2,096 hadiths · Page 7 of 105

11623Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ قَالَ اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔

11624Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ وَابْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ قَالَ إِنِّي لَأَدْخُلُ الصَّلَاةَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطِيلَهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَاوَزُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ مِنْ بُكَائِهِ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بعض اوقات میں نماز شروع کرتا ہوں اور ارادہ ہوتا ہے کہ لمبی نماز پڑھاؤں، لیکن پھر کسی بچے کے رونے کی آواز آتی ہے تو میں اپنی نماز کو مختصر کردیتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اس کی ماں اس کے رونے کی وجہ سے کتنی پریشان ہو رہی ہوگی؟۔

11625Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوهُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ يَعْنِي مَالِكٍ قَالَ وَلَمْ يَكُنْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی ﷺ جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے خود پہن رکھا تھا، کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کردو۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک (رح) کے سامنے جو حدیث پڑھی تھی، اس میں یہ بھی تھا کہ اس دن نبی ﷺ حالت احرام میں نہ تھے، واللہ اعلم۔

11626Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ يَعْنِي يَوْمَ عَرَفَةَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ

محمد بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں نے خضرت انس ؓ سے پوچھا کہ عرفہ کے دن آپ لوگ کیا کر رہے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے ساتھ ہم میں سے کچھ لوگ تہلیل کہہ رہے تھے، ان پر بھی کوئی نکیر نہ ہوتی تھی اور بعض تکبیر کہہ رہے تھے اور ان پر بھی کوئی نکیر نہ کی گئی۔

11627Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے جس کے سائے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوگا۔

11628Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَأَنْ يُنْبَذَ فِيهِ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دباء اور مزفت سے اور اس میں پینے سے منع فرمایا ہے۔

11629Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ كَشَفَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ فَأَرَادَ النَّاسُ أَنْ يَتَحَرَّكُوا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اثْبُتُوا وَيَلْقَى السَّجْفَ وَتُوُفِّيَ فِي آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ وہ آخری نظر جو میں نے نبی ﷺ پر پیر کے دن ڈالی، وہ اس طرح تھی کہ نبی ﷺ نے اپنے حجرہ مبارکہ کا پردہ ہٹایا، لوگ اس وقت حضرت صدیق اکبر ؓ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے، میں نے نبی ﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو وہ قرآن کا ایک کھلا ہوا صفحہ محسوس ہو رہا تھا، لوگوں نے اپنی جگہ سے حرکت کرنا چاہی، لیکن نبی ﷺ نے انہیں اشارے سے اپنی جگہ رہنے کا حکم دیا اور پردہ لٹکا لیا اور اسی دن آپ ﷺ دنیا سے رخصت ہوگئے۔

11630Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے۔

11631Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّى قَاعِدًا وَصَلَّيْنَا قُعُودًا فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ گھوڑے سے گرپڑے جس سے دائیں حصے پر زخم آگیا، ہم لوگ عیادت کے لئے نبی ﷺ کے پاس آئے، اسی دوران نماز کا وقت آگیا، نبی ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر نبی ﷺ نے فرمایا امام تو ہوتا ہی اس لئے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، (جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو) جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا ولک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔

11632Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ السَّاعَةِ فَقَالَ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ شَيْءٍ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَثِيرَ شَيْءٍ وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ قیامت کب قائم ہوگی؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔

11633Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔

11634Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ وَكُنَّ أُمَّهَاتِي تَحُثُّنِي عَلَى خِدْمَتِهِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ وَشِيبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَعُمَرُ نَاحِيَةً فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ فَنَاوَلَ الْأَعْرَابِيَّ وَقَالَ الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ و قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنَا أَنَسٌ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا، جب دنیا سے رخصت ہوئے تو میں بیس سال کا تھا، میری والدہ مجھے نبی ﷺ کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں، ایک مرتبہ نبی ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنوئیں میں پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا، نبی ﷺ کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر ؓ تھے، حضرت عمر ؓ بھی ایک کونے میں تھے، نبی ﷺ جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی ﷺ نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔

11635Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِتَمْرٍ وَسَوِيقٍ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت صفیہ ؓ کا ولیمہ کھجوروں اور ستو سے کیا۔

11636Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مَيْسَرَةَ وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُهُمَا يَقُولَانِ سَمِعْنَا أَنَسًا يَقُولُ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ میں چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔

11637Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ سَمِعَ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثٌ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدٌ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَيَبْقَى عَمَلُهُ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں اس کے اہل خانہ، مال اور اعمال، دو چیزیں واپس آجاتی ہیں اور ایک چیز اس کے ساتھ رہ جاتی ہیں، اہل خانہ اور مال واپس آجاتا ہے اور اعمال باقی رہ جاتے ہیں۔

11638Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَمِّهِ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ كَانَ عِنْدَنَا فِي الْبَيْتِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فِي بَيْتِنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِهِمْ وَصَلَّتْ أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک یتیم بچے کے ساتھ " جو ہمارے گھر میں تھا " نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، اس وقت نبی ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے تھے اور حضرت ام سلیم ؓ نے ہمارے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔

11639Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ ذَنُوبًا أَوْ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی نے آکر مسجد نبوی میں پیشاب کردیا، نبی ﷺ نے فرمایا اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔

11640Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھی ہیں۔

11641Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَكَانُوا يَفْتَتِحُونَ بِ الْحَمْدُ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات نماز میں قرأت کا آغاز " الحمدللہ رب العالمین " سے کرتے تھے۔

11642Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى قِيلَ لِسُفْيَانَ يَعْنِي سَمِعَ مِنْ أَنَسٍ يَقُولُ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمْ الْبَحْرَيْنِ فَقَالُوا لَا حَتَّى تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَنَا فَقَالَ إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین سے آئے ہوئے مال کا حصہ انہیں تقسیم کردیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ پہلے ہمارے مہاجر بھائیوں کو ہمارے برابر حصہ الگ کیجئے، نبی ﷺ نے ان کے جذبہ ایثار کو دیکھ کر فرمایا میرے بعد تمہیں ترجیحات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن تم صبر کرنا تاکہ آنکہ مجھ سے آملو۔