حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 32 · 2,096 hadiths · Page 16 of 105

11803Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَخَذَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِيَدِي مَقْدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَتَتْ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ابْنِي وَهُوَ غُلَامٌ كَاتِبٌ قَالَ فَخَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ قَطُّ صَنَعْتُهُ أَسَأْتَ أَوْ بِئْسَ مَا صَنَعْتَ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر حضرت ام سلیم ؓ میرا ہاتھ پکڑ کر نبی ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ﷺ! یہ میرا بیٹا ہے اور لکھنا جانتا ہے، چناچہ میں نے نو سال تک نبی ﷺ کی خدمت کی، میں نے جس کام کو کرلیا ہو نبی ﷺ نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا، یا غلط کیا۔

11804Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ حَارِثَةَ خَرَجَ نَظَّارًا فَأَتَاهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ فَقَالَتْ أُمُّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَرَفْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنِّي فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ وَإِلَّا رَأَيْتَ مَا أَصْنَعُ قَالَ يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِجَنَّةٍ وَاحِدَةٍ وَلَكِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّ حَارِثَةَ لَفِي أَفْضَلِهَا أَوْ قَالَ فِي أَعَلَى الْفِرْدَوْسِ شَكَّ يَزِيدُ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ ؓ سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی ﷺ نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔

11805Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِيدُ فَخَلَقَ الْجِبَالَ فَأَلْقَاهَا عَلَيْهَا فَاسْتَقَرَّتْ فَتَعَجَّبَتْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ خَلْقِ الْجِبَالِ فَقَالَتْ يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنْ الْجِبَالِ قَالَ نَعَمْ الْحَدِيدُ قَالَتْ يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنْ الْحَدِيدِ قَالَ نَعَمْ النَّارُ قَالَتْ يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنْ النَّارِ قَالَ نَعَمْ الْمَاءُ قَالَتْ يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنْ الْمَاءِ قَالَ نَعَمْ الرِّيحُ قَالَتْ يَا رَبِّ فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنْ الرِّيحِ قَالَ نَعَمْ ابْنُ آدَمَ يَتَصَدَّقُ بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا مِنْ شِمَالِهِ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب اللہ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ڈانواں ڈول ہونے لگی، اللہ نے پہاڑوں کو پیدا کر کے اس پر رکھ دیا تو وہ اپنی جگہ ٹھہر گئی، ملائکہ کو پہاڑوں کی تخلیق پر تعجب ہوا اور وہ کہنے لگے کہ پروردگار! کیا آپ نے پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز پیدا کی ہے؟ اللہ نے فرمایا ہاں! لوہا، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار! کیا لوہے سے بھی زیادہ کوئی سخت چیز آپ نے پیدا کی ہے؟ فرمایا ہاں! آگ، فرشتوں نے پوچھا کہ کیا آپ نے آگ سے بھی زیادہ کوئی سخت چیز پیدا کی ہے؟ فرمایا ہاں! ہوا، فرشتوں نے پوچھا کہ پروردگار! کیا آپ نے ہوا سے بھی زیادہ کوئی سخت چیز پیدا کی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ابن آدم، جو دائیں ہاتھ سے خرچ کرتا ہے تو بائیں ہاتھ کو پتہ بھی نہیں چلتا۔

11806Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَأَخَذَهُمْ سَلَمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ صلح حدیبیہ کے دن جبل تنعیم کی جانب سے اسلحہ سے لیس اسی اہل مکہ نبی ﷺ اور صحابہ ؓ کی طرف بڑھنے لگے، وہ دھوکے سے نبی ﷺ اور صحابہ ؓ پر حملہ کرنا چاہتے تھے، لیکن انہیں بڑی آسانی سے پکڑ لیا گیا تاہم نبی ﷺ نے انہیں چھوڑ دیا اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی " وھوالذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیھم "

11807Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَيَقُولُ تَرَاصُّوا وَاعْتَدِلُوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایک دن نماز کھڑی ہوئی تو نبی ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا صفیں سیدھی کرلو اور جڑ کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔

11808Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشَفَةً بَيْنَ يَدَيَّ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا الْغُمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے کسی کی آہٹ سنی، دیکھا تو وہ غمیصاء بنت ملحان تھیں جو کہ حضرت انس ؓ کی والدہ تھیں۔

11809Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ اطَّلَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ خَلَلٍ فَسَدَّدَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِشْقَصًا حَتَّى أَخَذَ رَأْسَهُ قَالَ يَحْيَى قُلْتُ مَنْ حَدَّثَكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ يَعْنِي حُمَيْدًا قَالَ أَنَسٌ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آکر کسی سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی اسے دے ماری ( تو وہ آدمی پیچھے ہٹ گیا)۔

11810Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ الْمَعْنَى قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ النَّارَ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِي حَتَّى إِذَا كَانُوا حُمَمًا أُدْخِلُوا الْجَنَّةَ فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ هَؤُلَاءِ فَيُقَالُ هُمْ الْجَهَنَّمِيُّونَ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کو کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔

11811Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يُتِمُّونَ التَّكْبِيرَ يُكَبِّرُونَ إِذَا سَجَدُوا وَإِذَا رَفَعُوا قَالَ يَحْيَى أَوْ خَفَضُوا

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان ؓ تکبیر مکمل کیا کرتے تھے، جب سجدے میں جاتے یا سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہا کرتے تھے۔

11812Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ قَالَ قَالَ هَكَذَا يَعْنِي أَنَّهُ أَخْرَجَ طَرَفَ الْخِنْصَرِ قَالَ أَبِي أَبِي أَرَانَا مُعَاذٌ قَالَ فَقَالَ لَهُ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ قَالَ فَضَرَبَ صَدْرَهُ ضَرْبَةً شَدِيدَةً وَقَالَ مَنْ أَنْتَ يَا حُمَيْدُ وَمَا أَنْتَ يَا حُمَيْدُ يُحَدِّثُنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَقُولُ أَنْتَ مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد ربانی " جب اس کے رب نے اپنی تجلی ظاہر فرمائی " کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ چھنگلیا کے ایک کنارے کے برابر تجلی ظاہر ہوئی۔ امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ ہمیں معاذ نے انگلی کی کیفیت دکھائی، تو حمید الطویل، ان سے کہنے لگے کہ اے ابو محمد! اس سے آپ کا کیا مقصد ہے؟ انہوں نے ان کے سینے پر زور سے ایک ہاتھ مارا اور کہنے لگے کہ حمید! تم کون ہو اور کیا ہو؟ مجھ سے یہ بات حضرت انس ؓ نے نبی ﷺ کے حوالے سے بیان کی ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ اس سے آپ کا مقصد کیا ہے؟

11813Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ أَنْ يَبْعَثَ مَعَهُمْ رَجُلًا يُعَلِّمُهُمْ فَبَعَثَ مَعَهُمْ أَبَا عُبَيْدَةَ وَقَالَ هُوَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیں، جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی ﷺ نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ ؓ کو بھیج دیا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں۔

11814Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ فَقَالَ يَا فُلَانَةُ يُعْلِمُهُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَظُنُّ بِي قَالَ فَقَالَ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْكَ الشَّيْطَانُ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس سے گذرا، اس وقت نبی ﷺ کے پاس ان کی کوئی زوجہ محترمہ تھیں، نبی ﷺ نے انہیں ان کا نام لے کر پکارا تاکہ وہ آدمی سمجھ لے کہ یہ نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں، وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ مجھے ایسا سمجھتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا مجھے اس بات سے اندیشہ ہوا کہ کہیں شیطان تمہارے دماغ میں نہ گھس جائے۔

11815Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهِمْ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کو بلا اطلاع سفر سے واپسی پر اپنے گھر میں نہیں آتے تھے بلکہ صبح یا دوپہر کو تشریف لاتے تھے۔

11816Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُعْطَى بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا فَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کسی مسلمان کی نیکی ضائع نہیں کرتا، دنیا میں بھی اس پر عطاء فرماتا ہے اور آخرت میں بھی ثواب دیتا ہے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو وہاں اس کی کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جائے۔

11817Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضْرِبُ شَعْرُهُ إِلَى مَنْكِبَيْهِ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے بال کندھوں تک آتے تھے۔

11818Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَوْ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ضَخْمَ الْقَدَمَيْنِ ضَخْمَ الْكَفَّيْنِ حَسَنَ الْوَجْهِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ

حضرت انس ؓ یا حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے پاؤں اور ہتھیلیاں بھرئی ہوئی اور چہرہ حسین و جمیل تھا، میں نے آپ ﷺ کے بعد آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔ ﷺ۔

11819Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بَعَثَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِنَاعٍ عَلَيْهِ رُطَبٌ فَجَعَلَ يَقْبِضُ قَبْضَتَهُ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ وَيَقْبِضُ الْقَبْضَةَ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ جَلَسَ فَأَكَلَ بَقِيَّتَهُ أَكْلَ رَجُلٍ يُعْلَمُ أَنَّهُ يَشْتَهِيهِ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم ؓ نے ایک تھالی میں کھجوریں رکھ کر نبی ﷺ کے پاس بھیجیں، نبی ﷺ نے اس میں سے ایک مٹھی بھر کر اپنی زوجہ محترمہ کو بھجوا دیں، پھر ایک مٹھی بھر کر دوسری زوجہ محترمہ کو بھجوا دیں، پھر جو باقی بچ گئیں وہ بیٹھ کر اس طرح تناول فرمالیں جیسے وہ آدمی کھاتا ہے جسے کھانے کی خواہش ہو اور وہ اس کے کھانے سے معلوم ہو رہی ہو۔

11820Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ قَالَ حَدَّثَنِي مُرَجَّي بْنُ رَجَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْفِطْرِ لَمْ يَخْرُجْ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ يَأْكُلُهُنَّ إِفْرَادًا

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن نبی ﷺ عید گاہ کی طرف اس وقت تک نہیں نکلتے تھے جب تک ایک ایک کر کے چند کھجوریں نہ کھالیتے۔

11821Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ فِي رَمَضَانَ فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ أَفْطَرُوا

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی ﷺ سفر پر تھے، نبی ﷺ کے سامنے ایک برتن لایا گیا، آپ ﷺ نے اسے اپنے ہاتھ پر رکھا، نبی ﷺ کو دیکھ کر لوگوں نے بھی روزہ ختم کردیا۔

11822Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَبْصَرَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ قَالُوا هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ

حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا (میری امت کے کچھ لوگ جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کر کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا) اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔