Musnad Imam Ahmad 11803

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

11803Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَخَذَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِيَدِي مَقْدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَتَتْ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ابْنِي وَهُوَ غُلَامٌ كَاتِبٌ قَالَ فَخَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ قَطُّ صَنَعْتُهُ أَسَأْتَ أَوْ بِئْسَ مَا صَنَعْتَ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر حضرت ام سلیم ؓ میرا ہاتھ پکڑ کر نبی ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ﷺ! یہ میرا بیٹا ہے اور لکھنا جانتا ہے، چناچہ میں نے نو سال تک نبی ﷺ کی خدمت کی، میں نے جس کام کو کرلیا ہو نبی ﷺ نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا، یا غلط کیا۔