صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَنْشِقْ بِمَنْخِرَيْهِ مِنْ الْمَاءِ ثُمَّ لِيَنْثُرْ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے اسے ناک کے نتھنوں میں پانی ڈال کر اسے اچھی طرح صاف کرنا چاہئے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أُحُدًا عِنْدِي ذَهَبًا لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ أَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنِّي لَيْسَ شَيْئًا أَرْصُدُهُ فِي دَيْنٍ عَلَيَّ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر میرے پاس احد پہاڑ بھی سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کردوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دینار یا درہم بھی میرے پاس باقی نہ بچے سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَكُمْ الصَّانِعُ بِطَعَامِكُمْ قَدْ أَغْنَى عَنْكُمْ عَنَاءَ حَرِّهِ وَدُخَانِهِ فَادْعُوهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَكُمْ وَإِلَّا فَلَقِّمُوهُ فِي يَدِهِ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں گرمی سردی اور مشقت سے اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر اس کے ہاتھ پر رکھ دے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ اسْقِ رَبَّكَ أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ رَبِّي وَلْيَقُلْ سَيِّدِي وَمَوْلَايَ وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَايَ فَتَاتِي وَغُلَامِي
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص آقا کے متعلق یہ نہ کہے کہ اپنے رب کو پانی پلاؤ اپنے رب کو کھانا کھلاؤ اپنے رب کو وضو کراؤ اسی طرح کوئی شخص اپنے آقا کو میرا رب نہ کہے بلکہ میرا سردار میرا آقا کہے اور تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام کے متعلق یہ نہ کہے عبدی، اَمَتی بلکہ یوں کہے میرا جوان میری جوان میرا غلام۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُورَتُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَا يَبْصُقُونَ وَلَا يَتْفِلُونَ فِيهَا وَلَا يَتَمَخَّطُونَ فِيهَا وَلَا يَتَغَوَّطُونَ فِيهَا آنِيَتُهُمْ وَأَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ وَرَشْحُهُمْ الْمِسْكُ وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ يَرَى مُخَّ سَاقَيْهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ مِنْ الْحُسْنِ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ وَلَا تَبَاغُضَ قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبٍ وَاحِدٍ يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے یہ لوگ پیشاب پاخانہ نہیں کریں گے نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے ان کی کنگھیاں اور برتن سونے کے ہوں گے ان کے پسینے سے مشک کی مہک آئے گی ان کی انگیٹھیوں میں عود مہک رہا ہوگا ان کی بیویاں بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوگی جن کی پنڈلیوں کا گودا حسن کی وجہ سے گوشت سے باہر نظر آئے گا ان کے درمیان کوئی اختلاف اور بغض نہیں ہوگا ان سب کے دل قلب قلب واحد کی طرح ہوں گے اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے ہوں گے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے اللہ میں تجھ سے یہ وعدہ لیتا ہوں جس کی تو مجھ سے کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا کہ میں نے انسان ہونے کے ناطے جس مسلمان کو کوئی اذیت پہنچائی ہو یا اسے برا بھلا کہا ہو یا اسے کوڑے مارے ہوں یا اسے لعنت کی ہو تو تو اس شخص کے حق میں اسے باعث رحمت و تزکیہ اور قیامت کے دن اپنی قربت کا سبب بنا دے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِمَنْ قَبْلَنَا ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجَزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہم سے پہلے کسی کے لئے مال غنیمت کو استعمال کرنا حلال قرار نہیں دیا گیا لیکن اللہ نے جب ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا تو اسے ہمارے لئے حلال قرار دے دیا۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتْ النَّارَ امْرَأَةٌ مِنْ جَرَّاءِ هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تُرَمِّمُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ هَزْلًا
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْرِقُ سَارِقٌ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَزْنِي زَانٍ حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الشَّارِبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ يَعْنِي الْخَمْرَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ وَلَا يَنْتَهِبُ أَحَدُكُمْ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ إِلَيْهِ الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ فِيهَا وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ وَلَا يَغِلُّ أَحَدُكُمْ حِينَ يَغِلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَإِيَّاكُمْ إِيَّاكُمْ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس وقت کوئی شخص چوری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شراب پیتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور جس وقت کوئی شخص بدکاری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے تم میں سے کوئی شخص کوئی عمدہ چیز جس کی طرف لوگ نگاہیں اٹھا کر دیکھیں لوٹتے وقت مومن نہیں ہوتا اور تم میں سے کوئی شخص خیانت کرتے وقت مومن نہیں رہتا اس لئے ان چیزوں سے اپنے آپ کو بچاؤ۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ وَمَاتَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اس امت میں یا کسی یہودی اور عیسائی کو میرا کلمہ پہنچے اور وہ اسے سنے اور اس وحی پر ایمان لائے بغیر مرجائے جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے تو وہ جہنمی ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّسْبِيحُ لِلْقَوْمِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا امام بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہے اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ يَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا إِذَا طُعِنَتْ تَنْفَجِرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ قَالَ أَبِي يَعْنِي الْعَرْفَ الرِّيحَ
اور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس شخص کو کوئی زخم لگتا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تر و تازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي أَوْ فِي بَيْتِي فَأَرْفَعُهَا لِآكُلَهَا ثُمَّ أَخْشَى أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً فَأُلْقِيهَا وَلَا آكُلُهَا
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا واللہ جب میں اپنے گھر واپس جاتاہوں اور مجھے اپنے بستر پر یا گھر کے اندر کوئی کھجور گری پڑی نظر آتی ہے تو میں اسے کھانے کے لئے اٹھا لیتا ہوں لیکن پھر مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہیں یہ صدقہ کی نہ ہو تو میں اسے ایک طرف رکھ دیتا ہوں۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَزَالُونَ تَسْتَفْتُونَ حَتَّى يَقُولَ أَحَدُكُمْ هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم لوگوں پر سوال کی عادت غالب آجائے گی حتی کہ تم میں سے بعض لوگ یہ سوال بھی کرنے لگیں گے کہ ساری مخلوق کو تو اللہ نے پیدا کیا پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَأَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے اہل خانہ کے متعلق اپنی قسم پر (غلط ہونے کے باوجود) اصرار کرے تو یہ اس کے لئے بارگاہ الٰہی میں اس کفارہ سے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے زیادہ بڑے گناہ کی بات ہے
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ وَاسْتَحَبَّاهَا فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَا
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب دو آدمیوں کو قسم کھانے پر مجبور کیا جائے اور دونوں قسم کھانا چاہیں تو قرعہ اندازی کر لینی چاہئے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَا أَحَدُكُمْ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا إِمَّا يَرْضَى وَإِلَّا فَلْيَرُدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کر دے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّيْخُ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ طُولِ الْحَيَاةِ وَكَثْرَةِ الْمَالِ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت پیدا ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْشِيَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَحَدُكُمْ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنْ نَارٍ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ نہ کرے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ ہوسکتا ہے شیطان اس کے ہاتھ سے اسے چھین لے اور وہ آدمی جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى قَوْمٍ فَعَلُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُشِيرُ إِلَى رَبَاعِيَتِهِ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب نازل ہوا جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ ایسا کیا۔ اس وقت نبی کریم ﷺ اپنے سامنے کے چار دانتوں کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔