صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا مالداری ساز و سامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الظُّلْمِ مَطْلَ الْغَنِيِّ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہئے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَخْبَثُهُ وَأَغْيَظُهُ عَلَيْهِ رَجُلٌ كَانَ يُسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ لَا مَلِكَ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں سب سے حقیر اور پسندیدہ نام اس شخص کا ہوگا جو اپنے آپ کو شہنشاہ کہلواتا ہے حالانکہ اصل حکومت تو اللہ کی ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْنِ وَقَدْ أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ خُسِفَتْ بِهِ الْأَرْضُ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا حَتَّى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک آدمی بہترین لباس زیب تن کرکے ناز وتکبر کی چال چلتا ہوا جا رہا تھا اسے اپنے آپ پر بڑا عجب محسوس ہو رہا تھا کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي
اور نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تُنْتِجُونَ الْإِبِلَ فَهَلْ تَجِدُونَ فِيهَا جَدْعَاءَ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک جانور پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نکٹا محسوس کرتے ہو؟ الاّ یہ کہ تم خود ہی اس کی ناک کاٹ دو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ بچے جو بچپن میں ہی مرجاتے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا کرتے؟
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْإِنْسَانِ عَظْمًا لَا تَأْكُلُهُ الْأَرْضُ أَبَدًا فِيهِ يُرَكَّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالُوا أَيُّ عَظْمٍ هُوَ قَالَ عَجْمُ الذَّنَبِ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جسم انسانی میں ایک ہڈی ایسی ہے جسے زمین کبھی نہیں کھاتی۔ اس سے انسان کو قیامت کے دن جوڑ کر کھڑا کردیا جائے گا لوگوں نے پوچھا کہ وہ کون سی ہڈی ہے؟ تو نبی کریم ﷺ فرمایا ریڑھ کی ہڈی۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ قَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَسْتُ فِي ذَاكُمْ مِثْلُكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي فَاكْلَفُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی کریم ﷺ نے دو مرتبہ فرمائی صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يَضَعْ يَدَهُ فِي الْوَضُوءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا إِنَّهُ لَا يَدْرِي أَحَدُكُمْ أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ سُلَامَى مِنْ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ الشَّمْسُ قَالَ تَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِينُ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ تَحْمِلُهُ عَلَيْهَا أَوْ تَرْفَعُ لَهُ مَتَاعَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَقَالَ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَقَالَ كُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَتُمِيطُ الْأَذَى عَنْ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا انسان کے ہر عضو پر صدقہ ہے اور یہ حکم روزانہ کا ہے جب تک سورج طلوع ہوتا رہے نیز فرمایا کہ دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا بھی صدقہ ہے کسی کو جانور پر سوار ہونے میں مدد فراہم کرنا یا اس پر کسی کا سامان لادنا بھی صدقہ ہے اچھی بات بھی صدقہ ہے اور جو قدم مسجد کی طرف اٹھاؤ وہ بھی صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا بھی صدقہ ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَا رَبُّ النَّعَمِ لَمْ يُعْطِ حَقَّهَا تُسَلَّطُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَخْبِطُ وَجْهَهُ بِأَخْفَافِهَا
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو بکریوں کا مالک ان کا حق زکوٰۃ ادانہ کرے قیامت کے دن ان بکریوں کو اس پر مسلط کردیا جائے گا جو اس کے چہرے کو کھروں سے روندتی ہوں گی۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ قَالَ وَيَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ وَيَطْلُبُهُ وَيَقُولُ أَنَا كَنْزُكَ قَالَ وَاللَّهِ لَنْ يَزَالَ يَطْلُبُهُ حَتَّى يَبْسُطَ يَدَهُ فَيُلْقِمَهَا فَاهُ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن خزانے والے کا خزانہ ایک گنجا سانپ بن جائے گا مالک اس سے بھاگے گا اور وہ اس کے پیچھے پیچھے ہوگا اور کہتا جائے کہ میں تیرا خزانہ ہوں واللہ وہ اس کے پیچھے لگا رہے گا یہاں تک کہ ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے منہ میں لقمہ بنا لے گا۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبُلْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي ثُمَّ تَغْتَسِلْ مِنْهُ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے غسل کرنے لگے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْمِسْكِينُ هَذَا الطَّوَافَ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ وَيَسْتَحِي أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں اصل مسکین وہ ہوتا ہے جس کے پاس خود ہی مالی کشادگی نہ ہو اور وہ لوگوں سے سوال کرتے ہوئے بھی شرماتا ہو اور دوسروں کو بھی اس کی ضروریات کا علم نہ ہو کہ لوگ اس پر خرچ ہی کردیں۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَلَا تَأْذَنُ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ كَسْبِهِ عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی عورت جبکہ اس کا خاوند گھر میں موجود ہو کوئی نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے اور کوئی عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کسی کو اس کے گھر میں نہ آنے دے اور عورت اس کے حکم کے بغیر جو کچھ خرچ کرتی ہے اس کا نصف ثواب اس کے شوہر کو ملتا ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ وَلَا يَدْعُ بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ إِنَّهُ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ انْقَطَعَ عَمَلُهُ وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنُ مِنْ عُمْرِهِ إِلَّا خَيْرًا
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنانہ کرے اور موت آنے سے قبل اس کی دعانہ کرے کیونکہ تم میں سے کوئی بھی جب مرجاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں جبکہ مومن اپنی زندگی میں خیر ہی کا اضافہ کرتا ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ الْكَرْمَ إِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی انگور کے باغ کو کرم نہ کہے کیونکہ اصل کرم تو مرد مومن ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا لَهُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ فَقَالَ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ خُذْ ذَهَبَكَ مِنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ وَقَالَ الَّذِي بَاعَ الْأَرْضَ إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا قَالَ فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ أَلَكُمَا وَلَدٌ قَالَ أَحَدُهُمَا لِي غُلَامٌ وَقَالَ الْآخَرُ لِي جَارِيَةٌ قَالَ أَنْكِحْ الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِهِمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقَا
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک آدمی نے دوسرے سے زمین کا ایک حصہ خریدا خریدار کو اس زمین میں سونے سے بھرا ہوا ایک مٹکا ملا اس نے جس سے وہ زمین خریدی تھی اس سے جا کر کہا کہ یہ اپنا سونا لے لیجئے میں نے تو آپ سے زمین خریدی ہے سونا نہیں خریدا بائع (بچنے والا) کہنے لگا کہ میں نے تو آپ کے ہاتھ وہ زمین اس میں موجود تمام چیزوں کے ساتھ فروخت کردی ہے (لہٰذا اس سونے کے مالک آپ ہیں) وہ دونوں اپنا جھگڑا ایک تیسرے آدمی کے پاس فیصلے کے لئے لے گئے فیصلہ کرنے والے نے پوچھا کہ کیا تم دونوں کے یہاں اولاد ہے؟ ایک نے کہا کہ میرا ایک بیٹا ہے دوسرے نے کہا کہ میری ایک بیٹی ہے ثالث نے کہا کہ لڑکے کا نکاح لڑکی سے کردو اور اس سونے کو ان دونوں پر خرچ کرکے صدقہ کردو۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَفْرَحُ أَحَدُكُمْ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا ضَلَّتْ مِنْهُ ثُمَّ وَجَدَهَا قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ إِذَا تَابَ مِنْ أَحَدِكُمْ بِرَاحِلَتِهِ إِذَا وَجَدَهَا
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی شخص کی سواری گم ہوجائے اور کچھ دیر کے بعد دوبارہ مل جائے تو وہ خوش ہوتا ہے یا نہیں؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے جب وہ توبہ کرتا ہے اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جو کسی کو اپنی سواری ملنے پر ہوتی ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِذَا تَلَقَّانِي عَبْدِي بِشِبْرٍ تَلَقَّيْتُهُ بِذِرَاعٍ وَإِذَا تَلَقَّانِي بِذِرَاعٍ تَلَقَّيْتُهُ بِبَاعٍ وَإِذَا تَلَقَّانِي بِبَاعٍ جِئْتُهُ بِأَسْرَعَ
اور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے بندہ جب بھی ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔