حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 26 · 849 hadiths · Page 16 of 43

3667Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْفِطْرَةِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ النَّارِ قَالَ فَابْتَدَرْنَاهُ فَإِذَا هُوَ صَاحِبُ مَاشِيَةٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَنَادَى بِهَا

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے تو ہم نے ایک منادی کو یہ کہتے ہوئے سنا اللہ اکبر اللہ اکبر، نبی ﷺ نے اس جواب میں فرمایا یہ شخص فطرت سلیمہ پر ہے، پھر اس نے کہا اشہد ان لاالہ الا اللہ، تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ آگ سے نکل گیا، ہم جلدی سے اس کی جانب لپکے تو وہ ایک بکریوں والا تھا جس نے نماز کو پا لیا تھا اور اسی نے یہ نداء لگائی تھی۔

3668Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ قَالَ سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ قَالَ سَأَلْتُ عَاصِمًا عَنْ الْأَجْنِحَةِ فَأَبَى أَنْ يُخْبِرَنِي قَالَ فَأَخْبَرَنِي بَعْضُ أَصْحَابِهِ أَنَّ الْجَنَاحَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے سدرۃ المنتہی کے مقام پر جبرئیل کو ان کی اصلی شکل و صورت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے، راوی نے اپنے استاذ عاصم سے اس کی وضاحت معلوم کی تو انہوں نے بتانے سے انکار کردیا، ان کے کسی دوسرے شاگرد نے بتایا کہ ایک پر مشرق اور مغرب کے درمیانی فاصلے کو پر کردیتا ہے۔

3669Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ حَدَّثَنِي حُصَيْنٌ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي جِبْرِيلُ فِي خُضْرٍ مُعَلَّقٌ بِهِ الدُّرُّ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے پاس جبرئیل (علیہ السلام) ایک سبز لباس میں آئے جس پر موتی لٹکے ہوئے تھے۔

3670Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي الْكَهْتَلَةِ قَالَ مُحَمَّدٌ أَظُنُّهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ مُحَمَّداً لَمْ يَرَ جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ أَمَّا مَرَّةٌ فَإِنَّهُ سَأَلَهُ أَنْ يُرِيَهُ نَفْسَهُ فِي صُورَتِهِ فَأَرَاهُ صُورَتَهُ فَسَدَّ الْأُفُقَ وَأَمَّا الْأُخْرَى فَإِنَّهُ صَعِدَ مَعَهُ حِينَ صَعِدَ بِهِ وَقَوْلُهُ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى قَالَ فَلَمَّا أَحَسَّ جِبْرِيلُ رَبَّهُ عَادَ فِي صُورَتِهِ وَسَجَدَ فَقَوْلُهُ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى قَالَ خَلْقَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام

غالبا حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی شکل و صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، ایک مرتبہ تو نبی ﷺ نے خود ان سے اپنی اصل شکل و صورت دکھانے کی فرمائش کی تھی، چناچہ انہوں نے نبی ﷺ کو اپنی اصلی شکل دکھائی جس نے پورے افق کو گھیر رکھا تھا اور دوسری مرتبہ جب وہ نبی ﷺ کو معراج پر لے گئے تھے، یہی مراد ہے اس آیت کی " وہو بالافق الاعلی ثم دنا فتدلی فکان قاب قوسین اوادنی فاحی الی عبدہ ما اوحی " پھر جبرئیل امین (علیہ السلام) کو اپنے پروردگار کا احساس ہوا تو وہ اپنی اصلی شکل میں آکر سجدہ ریز ہوگئے، یہی مراد ہے اس آیت کی " ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتہی عندہا جنۃ الماوی اذ یغشی السدرۃ مایغشی مازاغ البصر وماطغی لقدرأی من آیات ربہ الکبری " یعنی اس سے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی خلقت اور جسم دیکھنا مراد ہے۔

3671Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ جَعَلَ لِلَّهِ نِدًّا جَعَلَهُ اللَّهُ فِي النَّارِ قَالَ وَأُخْرَى أَقُولُهَا لَمْ أَسْمَعْهَا مِنْهُ وَمَنْ مَاتَ لَا يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ وَإِنَّ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَ الْمَقْتَلُ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جن میں سے ایک میں نے نبی ﷺ سے سنی ہے اور دوسری میں اپنی طرف سے کہتا ہوں، نبی ﷺ نے تو یہ فرمایا تھا کہ جو شخص اس حال میں مرجائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہوگا اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا اور یہ نمازیں اپنے درمیانی وقت کے لئے کفارہ بن جاتی ہیں بشرطیکہ آدمی قتل و قتال سے بچتا رہے۔

3672Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَإِنِّي سَأُنَازَعُ رِجَالًا فَأُغْلَبُ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيَقُولُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا جائے گا اور میں مغلوب ہوجاؤں گا، میں عرض کروں گا پروردگار! میرے ساتھی؟ ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔

3673Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ لَا يَدَعُهُمَا يَقُولُ لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا يَعْنِي الْفَرِيضَةَ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سفر میں روزہ بھی رکھتے تھے اور افطار بھی فرماتے تھے، دوران سفر آپ ﷺ فرض نمازوں کی دو رکعتیں پڑھتے تھے، ان پر اضافہ نہیں فرماتے تھے۔

3674Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ قَتَلَهُ نَبِيٌّ أَوْ قَتَلَ نَبِيًّا وَإِمَامُ ضَلَالَةٍ وَمُمَثِّلٌ مِنْ الْمُمَثِّلِينَ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس شخص کو ہوگا جسے کسی نبی نے قتل کیا ہو یا اس نے کسی نبی کو شہید کیا ہو یا گمراہی کا پیشوا ہو یا لاشوں کا مثلہ کرنے والا ہو۔

3675Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ كَانَ يَنْزِلُ فِي مَسْجِدِ الْمَطْمُورَةِ عَنْ سَيَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ بِالْغِنَى إِمَّا أَجَلٌ عَاجِلٌ أَوْ غِنًى عَاجِلٌ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو کوئی ضرورت پیش آئے اور وہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کر دے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کا کام آسان نہ ہو اور جو شخص اسے اللہ کے سامنے بیان کرے تو اللہ اسے فوری رزق یا تاخیر کی موت عطاء فرما دے گا۔

3676Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ قَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ رَأَيْنَا النَّاسَ رُكُوعًا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَكَبَّرَ وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا ثُمَّ مَشَيْنَا وَصَنَعْنَا مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ فَمَرَّ رَجُلٌ يُسْرِعُ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلَمَّا صَلَّيْنَا وَرَجَعْنَا دَخَلَ إِلَى أَهْلِهِ جَلَسْنَا فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ أَمَا سَمِعْتُمْ رَدَّهُ عَلَى الرَّجُلِ صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَتْ رُسُلُهُ أَيُّكُمْ يَسْأَلُهُ فَقَالَ طَارِقٌ أَنَا أَسْأَلُهُ فَسَأَلَهُ حِينَ خَرَجَ فَذَكَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ تَسْلِيمَ الْخَاصَّةِ وَفُشُوَّ التِّجَارَةِ حَتَّى تُعِينَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا عَلَى التِّجَارَةِ وَقَطْعَ الْأَرْحَامِ وَشَهَادَةَ الزُّورِ وَكِتْمَانَ شَهَادَةِ الْحَقِّ وَظُهُورَ الْقَلَمِ

طارق بن شہاب (رح) کہتے ہیں ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ابن مسعود ؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ مسجد میں نماز کھڑی ہوگئی، ہم لوگ حضرت ابن مسعود ؓ کے ساتھ صفوں میں شامل ہونے کے لئے چلے جا رہے تھے، جب لوگ رکوع میں گئے تو حضرت ابن مسعود ؓ کے ساتھ صفوں میں شامل ہونے کے لئے چلے جا رہے تھے، جب لوگ رکوع میں گئے تو حضرت ابن مسعو ؓ بھی رکوع میں چلے گئے، انہیں دیکھ کر ہم نے بھی رکوع کرلیا، اس وقت بھی ہم لوگ چل رہے تھے، ایک آدمی اسی اثناء میں سامنے سے گذرا اور کہنے لگا السلام علیک یا ابا عبدالرحمن! انہوں نے رکوع کی حالت میں فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہ اپنے گھر چلے گئے اور ہم آپس میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے یہ باتیں کرنے لگے کہ تم نے سنا، حضرت ابن مسعود ؓ نے اسے کیا جواب دیا، اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے پیغام پہنچا دیا، تم میں سے کون یہ سوال ان سے پوچھے گا؟ طارق نے کہا کہ میں ان سے پوچھوں گا، چناچہ جب وہ باہر آئے تو انہوں نے ان سے پوچھا کہ جب فلاں شخص نے آپ کو سلام کیا تھا تو آپ نے یہ کیوں کہا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا؟ انہوں نے یہ جواب دیا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ بات علامات قیامت میں سے ہے کہ سلام صرف پہچان کے لوگوں کو کیا جانے لگے گا، تجارت پھیل جائے گی، حتی کہ عورت بھی تجارتی معاملات میں اپنے خاوند کی مدد کرنے لگے گی، قطع رحمی ہونے لگے گی، جھوٹی گواہی دی جانے لگے گی، سچی گواہی کو چھپایا جائے گا اور قلم کا چرچا ہوگا۔

3677Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ مَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ ماہ رمضان کے تیس روزے جس کثرت کے ساتھ رکھے ہیں، اتنی کثرت کے ساتھ ٢٩ کبھی نہیں رکھے۔

3678Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَامَّةً مَا يَنْصَرِفُ مِنْ الصَّلَاةِ عَلَى يَسَارِهِ إِلَى الْحُجُرَاتِ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی نماز کے بعد اپنے حجرے کی طرف واپسی اکثر بائیں جانب سے ہوتی تھی۔

3679Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبدِ اللَّهِ قَالَ لَأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُتِلَ قَتْلًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا قَالَ الْأَعْمَشُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْيَهُودَ سَمُّوهُ وَأَبَا بَكْرٍ

حضرت ابن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے نو مرتبہ اس بات پر قسم کھانا زیادہ پسند ہے کہ نبی ﷺ شہید ہوئے، بہ نسبت اس کے کہ میں ایک مرتبہ قسم کھاؤں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں اپنا نبی بھی بنایا ہے اور انہیں شہید بھی قرار دیا ہے۔

3680Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ الْمَسِيلِ فَقُلْتُ أَمِنْ هَاهُنَا تَرْمِيهَا فَقَالَ مِنْ هَاهُنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ رَمَاهَا الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ

عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود ؓ بطن وادی سے جمرہ عقبہ کی رمی کر رہے تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ یہاں سے رمی کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، یہی وہ جگہ ہے جہاں سے اس ذات نے رمی کی تھی۔

3681Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنِّي لَمُسْتَتِرٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ إِذْ جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ ثَقَفِيٌّ وَخَتْنَاهُ قُرَشِيَّانِ كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ فَتَحَدَّثُوا بَيْنَهُمْ بِحَدِيثٍ قَالَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ تُرَى أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَسْمَعُ مَا قُلْنَا قَالَ الْآخَرُ أُرَاهُ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا وَلَا يَسْمَعُ إِذَا خَفَضْنَا قَالَ الْآخَرَانِ كَانَ يَسْمَعُ شَيْئًا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُهُ كُلَّهُ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ حَتَّى الْخَاسِرِينَ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں غلاف کعبہ سے چمٹا ہوا تھا کہ تین آدمی آئے، ان میں سے ایک ثقفی تھا اور دو قریشی کے جو اس کے داماد تھے، ان کے پیٹ میں چربی زیادہ تھی لیکن دلوں میں سمجھ بوجھ بہت کم تھی وہ چپکے چپکے باتیں کرنے لگے جنہیں میں نہ سن سکا، اتنی دیر میں ان میں سے ایک نے کہا تمہارا کیا خیال ہے، کیا اللہ ہماری ان باتوں کو سن رہا ہے؟ دوسرا کہنے لگا میرا خیال ہے کہ جب ہم اونچی آواز سے باتیں کرتے ہیں تو وہ انہیں سنتا ہے اور جب ہم اپنی آوازیں بلند نہیں کرتے تو وہ انہیں نہیں سن پاتا، تیسرا کہنے لگا اگر وہ کچھ سن سکتا ہے تو سب کچھ بھی سن سکتا ہے، میں نے یہ بات نبی ﷺ سے ذکر کی تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور تم جو چیزیں چھپاتے ہو کہ تمہارے کان، آنکھیں اور کھالیں تم پر گواہ نہ بن سکیں۔۔۔۔۔۔ یہ اپنے رب کے ساتھ تمہارا گھٹیا خیال ہے اور تم نقصان اٹھانے والے ہوگئے۔

3682Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ صَدِيقًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ زَارَهُ فِي أَهْلِهِ فَلَمْ يَجِدْهُ قَالَ فَاسْتَأْذَنَ عَلَى أَهْلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَسْقَى قَالَ فَبَعَثَتْ الْجَارِيَةَ تَجِيئُهُ بِشَرَابٍ مِنْ الْجِيرَانِ فَأَبْطَأَتْ فَلَعَنَتْهَا فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ فَجَاءَ أَبُو عُمَيْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَيْسَ مِثْلُكَ يُغَارُ عَلَيْهِ هَلَّا سَلَّمْتَ عَلَى أَهْلِ أَخِيكَ وَجَلَسْتَ وَأَصَبْتَ مِنْ الشَّرَابِ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ فَأَرْسَلَتْ الْخَادِمَ فَأَبْطَأَتْ إِمَّا لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ وَإِمَّا رَغِبُوا فِيمَا عِنْدَهُمْ فَأَبْطَأَتْ الْخَادِمُ فَلَعَنَتْهَا وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّعْنَةَ إِلَى مَنْ وُجِّهَتْ إِلَيْهِ فَإِنْ أَصَابَتْ عَلَيْهِ سَبِيلًا أَوْ وَجَدَتْ فِيهِ مَسْلَكًا وَإِلَّا قَالَتْ يَا رَبِّ وُجِّهْتُ إِلَى فُلَانٍ فَلَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ سَبِيلًا وَلَمْ أَجِدْ فِيهِ مَسْلَكًا فَيُقَالُ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ الْخَادِمُ مَعْذُورَةً فَتَرْجِعَ اللَّعْنَةُ فَأَكُونَ سَبَبَهَا

ابو عمیر کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود ؓ کا ایک دوست تھا ایک مرتبہ وہ اس سے ملنے کے لئے اس کے گھر گئے لیکن وہاں اس سے ملاقات نہ ہوسکی، انہوں نے اس کے اہل خانہ سے اجازت لی اور سلام کیا اور ان سے پینے کے لئے پانی منگوایا، گھر والوں نے ہمسایوں سے پانی لینے کے لئے باندی کو بھیجا، اس نے آنے میں تاخیر کردی تو اس عورت نے اس پر لعنت بھیجی، حضرت ابن مسعود ؓ اسی وقت گھر سے نکل آئے، اتنی دیر میں ابو عمیر آگئے اور کہنے لگے اے ابو عبدالرحمن! آپ جیسے شخص کے گھر میں آنے پر غیرت مندی نہیں دکھائی جاسکتی (کیونکہ آپ کی طرف سے ہمیں مکمل اطمینان ہے) آپ اپنے بھائی کے گھر میں داخل ہو کر بیٹھے کیوں نہیں اور پانی وغیرہ بھی نہیں پیا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا میں نے ایسا ہی کیا تھا، اہل خانہ نے ایک نوکرانی کو پانی لانے کے لئے بھیجا اسے آنے میں دیر ہوگئی یا تو اس وجہ سے کہ اسے جن لوگوں کے پاس بھیجا گیا تھا ان کے پاس بھی پانی نہیں ہوگا یا تھوڑا ہونے کی وجہ سے وہ خود اس کے ضرورت مند ہوں گے، ادھر اہل خانہ نے اس پر لعنت بھیجی اور میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص پر لعنت بھیجی گئی ہو، لعنت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، اگر وہاں تک پہنچنے کا راستہ مل جائے تو وہ اس پر واقع ہوجاتی ہے ورنہ بارگاہ الٰہی میں عرض کرتی ہے کہ پروردگار! مجھے فلاں شخص کی طرف متوجہ کیا گیا لیکن میں نے اس تک پہنچنے کا راستہ نہ پایا، اب کیا کروں؟ اس سے کہا جاتا ہے کہ جہاں سے آئی ہے وہیں واپس چلی جا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں خادمہ کو کوئی عذر پیش آگیا ہو اور وہ لعنت واپس پلٹ کر یہیں آجائے اور میں اس کا سبب بن جاؤں۔

3683Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَجَوَامِعَهُ أَوْ جَوَامِعَ الْخَيْرِ وَفَوَاتِحَهُ وَإِنَّا كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي صَلَاتِنَا حَتَّى عُلِّمْنَا فَقَالَ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو خیر و بھلائی سے متعلق افتتاحی اور جامع چیزیں سکھائی گئی تھیں، مثلا ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ہمیں نماز میں کیا پڑھنا چاہئے، نبی ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ یوں کہا کرو کہ تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی ﷺ آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

3684Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا أَحَدًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر ؓ کو بناتا۔

3685Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ ﷺ کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔

3686Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّتِهِ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میں ہر دوست کی دوستی سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر ؓ کو بناتا اور تمہارا پیغمبر اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔