حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 26 · 849 hadiths · Page 15 of 43

3647Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ مَا صُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ ماہ رمضان کے تیس روزے جس کثرت کے ساتھ رکھے ہیں، اتنی کثرت کے ساتھ ٢٩ کبھی نہیں رکھے۔

3648Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى وَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ فَقَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامٌ يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَنْزِلُ فِيهِنَّ الْجَهْلُ وَيَظْهَرُ فِيهِنَّ الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ الْقَتْلُ

ابو وائل کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے قریب جو زمانہ ہوگا اس میں جہالت کا نزول ہوگا، علم اٹھا لیا جائے گا اور اس میں ہرج کی کثرت ہوگی اور ہرج کا معنی ہے قتل۔

3649Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ الْأَنْصَارُ مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ فَأَتَاهُمْ عُمَرُ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّ النَّاسَ قَالُوا بَلَى قَالَ فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ قَالَتْ الْأَنْصَارُ نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ کا وصال مبارک ہوگیا تو انصار کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے اور ایک امیر تم میں سے ہوگا، حضرت عمر ؓ ان کے پاس آئے اور فرمایا اگر وہ انصار! کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں حضرت صدیق اکبر ؓ کو لوگوں کی امامت کا حکم خود دیا تھا؟ آپ میں سے کون شخص اپنے دل کی بشاشت کے ساتھ ابوبکر سے آگے بڑھ سکتا ہے؟ اس پر انصار کہنے لگے اللہ کی پناہ! کہ ہم حضرت ابوبکر ؓ سے آگے بڑھیں۔

3650Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ أَسْوَدُ فَمَاتَ فَأُوذِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْظُرُوا هَلْ تَرَكَ شَيْئًا فَقَالُوا تَرَكَ دِينَارَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيَّتَانِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام غلام آکر نبی ﷺ سے مل گیا، کچھ عرصے بعد اس کا انتقال ہوگیا نبی ﷺ کو بتایا گیا، نبی ﷺ نے پوچھا یہ دیکھو کہ اس نے کچھ چھوڑا بھی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اس نے ترکہ میں دو دینار چھوڑے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔

3651Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ وَمَنْ يَتَّخِذُ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سب سے بدترین لوگ وہ ہوں گے جو اپنی زندگی میں قیامت کا زمانہ پائیں گے یا وہ جو قبرستان کو سجدہ گاہ بنالیں۔

3652Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ وَمَا سَمَّاهُ لَنَا قَالَ لَمَّا أَرَادَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ أَصْحَابَهُ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أَصْبَحَ الْيَوْمَ فِيكُمْ مِنْ أَفْضَلِ مَا أَصْبَحَ فِي أَجْنَادِ الْمُسْلِمِينَ مِنْ الدِّينِ وَالْفِقْهِ وَالْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى حُرُوفٍ وَاللَّهِ إِنْ كَانَ الرَّجُلَانِ لَيَخْتَصِمَانِ أَشَدَّ مَا اخْتَصَمَا فِي شَيْءٍ قَطُّ فَإِذَا قَالَ الْقَارِئُ هَذَا أَقْرَأَنِي قَالَ أَحْسَنْتَ وَإِذَا قَالَ الْآخَرُ قَالَ كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ فَأَقْرَأَنَا إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَالْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَالْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَالْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَاعْتَبِرُوا ذَاكَ بِقَوْلِ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ كَذَبَ وَفَجَرَ وَبِقَوْلِهِ إِذَا صَدَّقَهُ صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ لَا يَخْتَلِفُ وَلَا يُسْتَشَنُّ وَلَا يَتْفَهُ لِكَثْرَةِ الرَّدِّ فَمَنْ قَرَأَهُ عَلَى حَرْفٍ فَلَا يَدَعْهُ رَغْبَةً عَنْهُ وَمَنْ قَرَأَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ تِلْكَ الْحُرُوفِ الَّتِي عَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَدَعْهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِنَّهُ مَنْ يَجْحَدْ بِآيَةٍ مِنْهُ يَجْحَدْ بِهِ كُلِّهِ فَإِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ اعْجَلْ وَحَيَّ هَلًا وَاللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ رَجُلًا أَعْلَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي لَطَلَبْتُهُ حَتَّى أَزْدَادَ عِلْمَهُ إِلَى عِلْمِي إِنَّهُ سَيَكُونُ قَوْمٌ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَارَضُ بِالْقُرْآنِ فِي كُلِّ رَمَضَانَ وَإِنِّي عَرَضْتُ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ مَرَّتَيْنِ فَأَنْبَأَنِي أَنِّي مُحْسِنٌ وَقَدْ قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً

حضرت ابن مسعود ؓ کے ایک شاگرد جن کا تعلق ہمدان سے ہے کہتے ہیں کہ جب حضرت ابن مسعود ؓ نے مدینہ منورہ تشریف آوری کا ارادہ کیا تو اپنے شاگردوں کو جمع کیا اور فرمایا مجھے امید ہے کہ تمہارے پاس دین، علم قرآن اور فقہ کی جو دولت ہے، وہ عساکر مسلمین میں سے کسی پاس نہیں ہے، یہ قرآن کئی حروف (متعدد قراءتوں پر) نازل ہوا ہے، بخدا! دو آدمی بعض اوقات اس معاملے میں اتنا شدید جھگڑا کرتے تھے جو لوگ کسی معاملے میں کرسکتے ہیں، ایک قاری کہتا کہ نبی ﷺ نے مجھے یوں پڑھایا ہے، نبی ﷺ اس کی تحسین فرماتے اور جب دوسرا یہ کہتا تو آپ ﷺ فرماتے کہ تم دونوں ہی درست ہو، اسی طرح نبی ﷺ نے ہمیں پڑھایا۔ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے، جھوٹ گناہ کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ جہنم کی راہ دکھاتا ہے، تم اسی سے اندازہ لگالو کہ تم میں سے بھی بعض لوگ اپنے ساتھی کے متعلق کہتے ہیں کذب وفجر اس نے جھوٹ بولا اور گناہ کیا اور سچ بولنے پر کہتے ہو کہ تم نے سچ بولا اور نیکی کا کام کیا۔ یہ قرآن بدلے گا اور نہ پرانا ہوگا اور نہ کوئی شخص بار بار پڑھنے سے اس سے اکتائے گا، جو شخص اس کی تلاوت کسی ایک قراءت کے مطابق کرتا ہے وہ دوسری قراءتوں کو بےرغبتی کی وجہ سے نہ چھوڑے، کیونکہ جو شخص اس کی کسی آیت کا انکار کرتا ہے گویا وہ پورے قرآن کا انکار کرتا ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے تمام میں سے کوئی شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ جلدی کرو، ادھر آؤ۔ بخدا! اگر میرے علم میں ہوتا کہ کوئی شخص نبی ﷺ پر نازل ہونے والے قرآن کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو میں اس سے علم حاصل کرتا تاکہ اس کا علم بھی میرے علم میں شامل ہوجائے، عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو نماز کو مار دیں، اس لئے تم وقت پر نماز ادا کیا کرو اور اس کے ساتھ نفلی نماز بھی شامل کیا کرو اور نبی ﷺ ہر سال رمضان میں قرآن کریم کا دور کرتے تھے لیکن جس سال نبی ﷺ کا وصال ہوا میں نے نبی ﷺ کو دو مرتبہ قرآن سنایا تھا اور نبی ﷺ نے میری تحسین فرمائی تھی اور میں نے نبی ﷺ کے دہن مبارک سے سن کر ستر سورتیں یاد کیں تھیں۔

3653Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً وَإِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَهُ ذُؤَابَةٌ فِي الْكُتَّابِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے مبارک منہ سے سن کر ستر سورتیں پڑھی ہیں اور حضرت زید بن ثابت ؓ کاتبان وحی میں سے تھے جن کی مینڈھیاں تھیں۔

3654Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمٍ و حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ قَالَ أَحَدُهُمْ مِنْ النَّارِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے۔

3655Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَى الرَّجُلِ لَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِلَّا لِلْمَعْرِفَةِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا یہ بات قیامت کی علامات میں سے ہے کہ انسان صرف اپنی جان پہچان کے آدمی کو سلام کیا کرے۔

3656Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَحُسَيْنٌ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ وَعَنْ يَسَارِهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ ﷺ کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔

3657Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَلَأُنَازَعَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِي وَلَأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ ثُمَّ لَيُقَالَنَّ لِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا جائے گا اور میں مغلوب ہوجاؤں گا، میں عرض کروں گا پروردگار! میرے ساتھی؟ ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔

3658Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ صِلَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ مُسَيْلِمَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنِّي لَا أَقْتُلُ الرُّسُلَ أَوْ لَوْ قَتَلْتُ أَحَدًا مِنْ الرُّسُلِ لَقَتَلْتُكَ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ مسیلمہ کذاب کی طرف سے نبی ﷺ کے پاس قاصد آیا تھا، نبی ﷺ نے اس سے پوچھا تھا کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہو؟ اس نے کہا کہ ہم تو مسیلمہ کے پیغمبر اللہ ہونے کی گواہی دیتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اگر میں قاصدوں کو قتل کرتا ہوتا تو میں تم دونوں کی گردن اڑا دیتا۔

3659Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَدْ نُعِتَ لَهُ الْكَيُّ فَقَالَ اكْوُوهُ أَوْ ارْضِفُوهُ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی کو لے کر حاضر ہوئے جس کا علاج داغنا تجویز کیا گیا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا اس کو داغ دو اور پتھر گرم کر کے لگاؤ۔

3660Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہ آیت اس طرح پڑھتے تھے " ولقد یسرنا القرآن للذکر فہل من مدکر "

3661Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَرْوٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ مِنْ امْرَأَةٍ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ أَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں نے ایک عورت کے ساتھ سوائے مباشرت کے سب ہی کچھ کرلیا ہے، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ " دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں "

3662Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَقَتَلْتُكَ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کردیتا۔

3663Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَتَلَ أَبَا جَهْلٍ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَصَرَ عَبْدَهُ وَأَعَزَّ دِينَهُ وَقَالَ مَرَّةً يَعْنِي أُمَيَّةَ صَدَقَ عَبْدَهُ وَأَعَزَّ دِينَهُ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ابوجہل مارا گیا، نبی ﷺ نے فرمایا اس اللہ کا شکر جس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اپنے دین کو عزت بخشی۔

3664Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ أَبِي الْيَعْفُورِ عَنْ أَبِي الصَّلْتِ عَنْ أَبِي عَقْرَبٍ قَالَ غَدَوْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ذَاتَ غَدَاةٍ فِي رَمَضَانَ فَوَجَدْتُهُ فَوْقَ بَيْتِهِ جَالِسًا فَسَمِعْنَا صَوْتَهُ وَهُوَ يَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ فَقُلْنَا سَمِعْنَاكَ تَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي النِّصْفِ مِنْ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ غَدَاتَئِذٍ صَافِيَةً لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَوَجَدْتُهَا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ عَنْ أَبِي الصَّلْتِ عَنْ أَبِي عَقْرَبٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ غَدَوْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

ابو عقرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں صبح کے وقت حضرت ابن مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انہیں اپنے گھر کی چھت پر بیٹھے ہوئے پایا، ہم نے ان کی آواز سنی کہ وہ کہہ رہے تھے، اللہ نے سچ کہا اور نبی ﷺ نے پہنچا دیا، ہم نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے پوچھا کہ ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اللہ نے سچ کہا اور نبی ﷺ نے پہنچا دیا، اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شب قدر رمضان کی آخری سات راتوں کے نصف میں ہوتی ہے اور اس رات کے بعد جب صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ بالکل صاف ہوتا ہے، اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی، میں ابھی یہی دیکھ رہا تھا تو میں نے اسے بعینہ اسی طرح پایا جیسے نبی ﷺ نے فرمایا تھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

3665Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ يُقْرِئُنَا فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ هَلْ حَدَّثَكُمْ نَبِيُّكُمْ كَمْ يَكُونُ مِنْ بَعْدِهِ خَلِيفَةً قَالَ نَعَمْ كَعِدَّةِ نُقَبَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ

مسروق (رح) کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابن مسعود ؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمیں قرآن پڑھا رہے تھے، اسی اثناء میں ایک آدمی آکر کہنے لگا اے ابو عبد الرحمن! کیا آپ لوگوں کو نبی ﷺ نے یہ بتایا تھا کہ اس امت میں کتنے خلفاء ہوں گے؟ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا (ہاں! ہم نے نبی ﷺ سے یہ سوال پوچھا تھا اور) آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ بارہ خلفاء ہوں گے، نقباء بنی اسرائیل کی تعداد کی طرح۔

3666Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ هِلَالٍ وَقَلَّمَا كَانَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ ہر نئے مہینے کے آغاز میں تین روزے رکھا کرتے تھے اور جمعہ کے دن بہت کم روزہ چھوڑا کرتے تھے۔