ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيارٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ فَتَبِعَهُ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ فَلَحِقَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ فَقَالَ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَتْبَعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ قَالَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ قَالَ لَا قَالَ ارْجِعْ فَلَنْ نَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ قَالَ ثُمَّ لَحِقَهُ عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَفَرِحَ بِذَاكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهُ قُوَّةٌ وَجَلَدٌ فَقَالَ جِئْتُ لِأَتْبَعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ قَالَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ لَا قَالَ ارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ قَالَ ثُمَّ لَحِقَهُ حِينَ ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَخَرَجَ بِهِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ غزوہ بدر کے لئے روانہ ہوئے تو ایک آدمی نبی ﷺ کے پیچھے چل پڑا اور جمرے کے پاس پہنچ کر ان سے جا ملا اور وہ کہنے لگا کہ میں آپ کے ساتھ لڑائی میں شریک ہونے کے لئے جارہا ہوں، نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کیا تم اللہ اور اسے کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے کہا نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ پھر ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے، اس نے دوبارہ یہی بات دہرائی، نبی ﷺ نے بھی وہی سوال پوچھا، اس مرتبہ اس نے اثبات میں جواب دیا اور پھر نبی ﷺ کے ساتھ روانہ ہوگیا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ قَالَتْ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ وَعَشْرَةٍ وَثَلَاثٍ وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَلَا أَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَكَانَ لَا يَدَعُ رَكْعَتَيْنِ
عبداللہ بن ابی قیس (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ کتنی رکعتوں پر وتر بناتے تھے؟ انہوں نے فرمایا چار اور تین پر، چھ اور تین پر، دس اور تین پر، لیکن تیرہ رکعتوں سے زیادہ اور سات سے کم پر وتر نہیں بناتے تھے اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَابَةِ أَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ فَقَالَتْ كُلَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ قَالَ قُلْتُ لَهَا كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ أَيَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ قَالَتْ كُلَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ
عبداللہ بن ابی قیس (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا یہ بتایئے کہ نبی ﷺ غسل جنابت کرتے تھے یا سونے کے بعد؟ انہوں نے فرمایا کبھی سونے سے پہلے غسل فرما لیتے تھے اور کبھی سونے کے بعد پھر میں نے یہ پوچھا کہ یہ بتایئے نبی ﷺ جہری قرأت فرماتے تھے یا سری؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ هِلَالِ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ ثُمَّ يَصُومُ بِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ شعبان کے چاند کا اتنے اہتمام کے ساتھ خیال رکھتے تھے کہ کسی دوسرے مہینے کا اتنے اہتمام کے ساتھ خیال نہیں رکھتے تھے اور چاند دیکھ کر روزہ رکھ لیتے تھے اور اگر آسمان ابر آلود ہوتا تو تیس دن کی گنتی پوری کر کے پھر روزہ رکھتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ حَدَّثَهُ قَالَ كَتَبَ مَعِي مُعَاوِيَةُ إِلَى عَائِشَةَ قَالَ فَقَدِمْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَدَفَعْتُ إِلَيْهَا كِتَابَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنِّي كُنْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ يَوْمًا مِنْ ذَاكَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُنَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَبْعَثُ لَكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُنَا فَقَالَتْ حَفْصَةُ أَلَا أُرْسِلُ لَكَ إِلَى عُمَرَ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ لَا ثُمَّ دَعَا رَجُلًا فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ فَمَا كَانَ إِلَّا أَنْ أَقْبَلَ عُثْمَانُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ وَحَدِيثِهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ يَا عُثْمَانُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَعَلَّهُ أَنْ يُقَمِّصَكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَأَيْنَ كُنْتِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّ وَاللَّهِ لَقَدْ أُنْسِيتُهُ حَتَّى مَا ظَنَنْتُ أَنِّي سَمِعْتُهُ
حضرت نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ ؓ نے خط لکھ کر میرے ہاتھ حضرت عائشہ کے پاس بھیجا، میں نے ان کے پاس پہنچ کر وہ خط ان کے حوالے کیا تو وہ کہنے لگیں، بیٹا! کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی ﷺ سے سنی ہے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا ایک مرتبہ میں اور حفصہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے، نبی ﷺ نے فرمایا کاش! ہمارے پاس کوئی آدمی ہوتا جو ہم سے باتیں کرتا، حضرت حفصہ ؓ نے کہا کہ میں کسی کو بھیج کر حضرت عمر ؓ کو بلا لوں؟ نبی ﷺ پہلے تو خاموش رہے، پھر فرمایا نہیں، میں نے حضرت ابوبکر ؓ کو بلانے کے لئے کہا، تب بھی یہی ہوا، پھر ایک آدمی کو بلا کر کچھ دیر اس سے سرگوشی کی، تھوڑی ہی دیر میں حضرت عثمان ؓ آگئے، نبی ﷺ مکمل طور پر ان کی جانب متوجہ ہوگئے، میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا، عثمان! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا، اگر منافقین اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے نہ اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو، تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا، حضرت نعمان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: اے ام المومنین! اب تک یہ بات آپ نے کیوں ذکر نہیں فرمائی؟ انہوں نے فرمایا واللہ میں یہ بات بھول گئی تھی، مجھے یاد ہی نہیں رہی تھی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ قَالَ وَقَالَ هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے۔ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ.
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَرَكْعَتَيْ الْفَجْرِ لَهُمَا خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا جَمِيعًا قَالَ وَكَانَ قَتَادَةُ يَسْتَمِعُ هَذَا الْحَدِيثَ فَيَقُولُ لَهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کے متعلق فرمایا کہ یہ دو رکعتیں مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْأَجْرَاسِ أَنْ تُقْطَعَ مِنْ أَعْنَاقِ الْإِبِلِ يَوْمَ بَدْرٍ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اونٹوں کی گردنوں میں پڑی ہوئی گھنٹیاں توڑ دی جائیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی بالغ لڑکی دوپٹے کے بغیر نماز نہ پڑھے کہ وہ قبول نہیں ہوتی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي حَسَّانَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَائِشَةَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الطِّيَرَةَ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّةِ فَغَضِبَتْ غَضَبًا شَدِيدًا فَطَارَتْ شُقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ وَشُقَّةٌ فِي الْأَرْضِ فَقَالَتْ إِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَطَيَّرُونَ مِنْ ذَلِكَ
ابو حسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ ؓ کو بتایا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا نحوست عورت، گھر اور سواری کے جانور میں ہوتی ہے تو وہ سخت غصے میں آئیں، پھر اس آدمی نے کہا کہ اس کا ایک حصہ آسمان کی طرف اڑ جاتا ہے اور ایک حصہ زمین پر رہ جاتا ہے، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اس سے تو اہل جاہلیت بد شگونی لیا کرتے تھے (اسلام نے ایسی چیزوں کو بےاصل قرار دیا ہے)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْشٌ إِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ وَلَعِبَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا أَحَسَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ رَبَضَ فَلَمْ يَتَرَمْرَمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُؤْذِيَهُ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے گھر میں ایک وحشی جانور تھا، جب نبی ﷺ گھر سے ہاہر ہوتے تو وہ کھیلتا کودتا اور آگے پیچھے ہوتا تھا، لیکن جیسے ہی اسے محسوس ہوتا کہ نبی ﷺ گھر میں تشریف لا رہے ہیں تو وہ ایک جگہ سکون کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا اور جب تک نبی ﷺ گھر میں رہتے کوئی شرارت نہ کرتا تھا تاکہ نبی ﷺ کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ مِنْ لَحْمِ الصَّدَقَةِ فَذُهِبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقِيلَ إِنَّهُ مِنْ لَحْمِ الصَّدَقَةِ قَالَ إِنَّمَا هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ کے پاس صدقہ کا گوشت کہیں سے آیا، انہوں نے وہ نبی ﷺ کے پاس ہدیہ کے طور پر بھیج دیا، نبی ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ صدقہ کا گوشت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ تھا، اب ہمارے لئے ہدیہ بن گیا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ لَقَدْ أَعْقَبَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ امْرَأَةٍ قَالَ عَفَّانُ مِنْ عَجُوزَةٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ مِنْ نِسَاءِ قُرَيْشٍ حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ هَلَكَتْ فِي الدَّهْرِ قَالَتْ فَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ تَمَعُّرًا مَا كُنْتُ أَرَاهُ إِلَّا عِنْدَ نُزُولِ الْوَحْيِ أَوْ عِنْدَ الْمَخِيلَةِ حَتَّى يَنْظُرَ أَرَحْمَةٌ أَمْ عَذَابٌ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حضرت خدیجہ ؓ کا تذکرہ جب بھی کرتے تھے تو ان کی خوب تعریف کرتے تھے، ایک دن مجھے غیرت آئی اور میں نے کہا کہ آپ کیا اتنی کثرت کے ساتھ ایک سرخ مسوڑھوں والی عورت کا ذکر کرتے رہتے ہیں جو فوت ہوگئی اور جس کے بدلے میں اللہ نے آپ کو اس سے بہترین بیویاں دے دیں؟ نبی ﷺ کا چہرہ اس طرح سرخ ہوگیا جس طرح صرف نزول وحی کے وقت ہوتا تھا، یا بادل چھا جانے کے وقت جس میں نبی ﷺ یہ دیکھتے تھے کہ یہ باعث رحمت ہے یا باعث زحمت
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيجٍ أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ رَقَدَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فَقَالَ إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ أَنْ أَشُقَّ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے نماز عشاء میں اتنی تاخیر کردی کہ رات کا اکثر حصہ بیت گیا اور مسجد والے بھی سو گئے پھر نبی ﷺ باہر تشریف لائے اور نماز پڑھائی اور فرمایا اگر میری امت پر مشقت نہ ہوتی تو نماز عشاء کا صحیح وقت یہ ہوگا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ فَقَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ تَرَى مَا لَا نَرَى
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا۔ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ۔ یا رسول اللہ! آپ وہ کچھ دیکھ سکتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اجْتَمَعْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلْنَ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ لَهَا قُولِي لَهُ إِنَّ نِسَاءَكَ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ قَالَتْ فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ لَهُ إِنَّ نِسَاءَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبِّينِي قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَأَحِبِّيهَا فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ فَأَخْبَرَتْهُنَّ مَا قَالَ لَهَا فَقُلْنَ إِنَّكِ لَمْ تَصْنَعِي شَيْئًا فَارْجِعِي إِلَيْهِ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبَدًا قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَتْ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ قَالَتْ عَائِشَةُ هِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ قَالَتْ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ تَشْتُمُنِي فَجَعَلْتُ أُرَاقِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْظُرُ إِلَى طَرْفِهِ هَلْ يَأْذَنُ لِي فِي أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا فَلَمْ يَتَكَلَّمْ قَالَتْ فَشَتَمَتْنِي حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا فَاسْتَقْبَلْتُهَا فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ أَفْحَمْتُهَا قَالَتْ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ عَائِشَةُ وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً خَيْرًا مِنْهَا وَأَكْثَرَ صَدَقَةً وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ وَأَبْذَلَ لِنَفْسِهَا فِي كُلِّ شَيْءٍ يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ زَيْنَبَ مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ غَرْبٍ حَدٍّ كَانَ فِيهَا تُوشِكُ مِنْهَا الْفِيئَةَ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی دیگر ازواج مطہرات نے حضرت فاطمہ ؓ کو نبی ﷺ کے پاس بھیجا، انہوں نے نبی ﷺ سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہی، اس وقت نبی ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ ان کی چادر میں تھے، نبی ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کو اندر آنے کی اجازت دے دی، وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! مجھے آپ کی ازواج مطہرات نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کی معاملے میں انصاف کی درخواست کرتی ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا پیاری بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کروگی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کے متعلق فرمایا کہ پھر ان سے بھی محبت کرو، یہ سن کہ حضرت فاطمہ ؓ کھڑی ہوئیں اور واپس چلی گئیں اور ازواج مطہرات کو اپنے اور نبی ﷺ کے درمیان ہونے والی گفتگو بتادی، جسے سن کر انہوں نے کہا آپ ہمارا کوئی کام نہ کرسکیں، آپ دوبارہ نبی ﷺ کے پاس جایئے تو حضرت فاطمہ ؓ نے کہا واللہ اب میں اس سے معاملے میں ان سے بھی بات نہیں کروں گی۔ پھر ازواج مطہرات نے حضرت زینب بنت جحش ؓ کو بھیجا، انہوں نے اجازت طلب کی، نبی ﷺ نے انہیں بھی اجازت دے دی، وہ اندر آئیں تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے آپ کی ازواج مطہرات نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے معاملے میں انصاف کی درخواست کرتی ہیں، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے مجھ پر حملے شروع کر دئیے (طعنے) میں نبی ﷺ کو دیکھتی رہی کہ کیا وہ مجھے جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں؟ جب مجھے محسوس ہوگیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو نبی ﷺ اسے محسوس نہیں فرمائیں گے، پھر میں نے زینب کو جواب دینا شروع کیا اور اس وقت تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑا جب تک انہیں خاموش نہیں کرادیا، نبی ﷺ اس دوران مسکراتے رہے، پھر فرمایا یہ ہے بھی تو ابوبکر کی بیٹی۔ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے زینب بنت جحش ؓ سے اچھی، کثرت سے صدقہ کرنے والی، صلہ رحمی کرنے والی اور اللہ کی ہر عبادت میں اپنے آپ کو گھلانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی، البتہ سوکن کی تیزی ایک الگ چیز ہے جس میں وہ برابری کے قریب آتی تھیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَوْ غَيْرِهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ تُبَايِعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ الْآيَةَ قَالَتْ فَوَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى رَأْسِهَا حَيَاءً فَأَعْجَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى مِنْهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَقِرِّي أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ فَوَاللَّهِ مَا بَايَعَنَا إِلَّا عَلَى هَذَا قَالَتْ فَنَعَمْ إِذًا فَبَايَعَهَا بِالْآيَةِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ نبی ﷺ کی خدمت میں بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئیں، نبی ﷺ نے ان سے آیت بیعت کی شرائط پر بیعت لینا شروع کردی، اس پر فاطمہ نے شرم سے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ دیا، نبی ﷺ کو ان کی اس حرکت پر تعجب ہوا، حضرت عائشہ ؓ فرمانے لگیں اے خاتون! مطمئن رہو، واللہ ہم نے بھی نبی ﷺ سے انہی شرائط پر بیعت کی ہے، تو فاطمہ نے کہا کہ پھر صحیح ہے اور انہوں نے اس آیت کی شرائط پر بیعت کرلی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ مُوسَىِ بْنِ سَرْجِسٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ وَيَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نزع کے وقت میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا ہے اور نبی ﷺ اس پیالے میں ہاتھ ڈالتے جارہے ہیں اور اپنے چہرے پر اسے ملتے جا رہے ہیں اور یہ دعا فرماتے جا رہے ہیں کہ اے اللہ! موت کی بےہوشیوں میں میری مدد فرما۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقِّرَاتِ الذُّنُوبِ فَإِنَّ لَهَا مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ طَالِبًا
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اے عائشہ! معمولی گناہوں سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اللہ کے یہاں ان کی تفتیش بھی ہوسکتی ہے۔