ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 996 · 2,326 hadiths · Page 56 of 117

24027Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ عَنْ لَمِيسَ أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ لَهَا الْمَرْأَةُ تَصْنَعُ الدُّهْنَ تَحَبَّبُ إِلَى زَوْجِهَا فَقَالَتْ أَمِيطِي عَنْكِ تِلْكَ الَّتِي لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهَا قَالَتْ وَقَالَتْ امْرَأَةٌ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّهْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنِّي لَسْتُ بِأُمِّكُنَّ وَلَكِنِّي أُخْتُكُنَّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْلِطُ الْعِشْرِينَ بِصَلَاةٍ وَنَوْمٍ فَإِذَا كَانَ الْعَشْرُ شَمَّرَ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ وَشَمَّرَ

لمیس کہتی ہیں کی ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ ایک عورت اپنے شوہر کی محبت حاصل کرنے کے لئے تیل لگاتی ہے، انہوں نے فرمایا اپنے آپ سے اس چیز کو دور کرو جس کو اللہ تعالیٰ نظر کرم نہیں فرماتا، پھر ایک عورت نے حضرت عائشہ ؓ کو خطاب کر کے " اماں جان " کہا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تمہاری ماں نہیں ہوں، بلکہ میں تو تمہاری بہن ہوں اور فرمایا کہ ماہ رمضان کے پہلے بیس دنوں میں نبی ﷺ نیند اور نماز دونوں کام کرتے تھے اور جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی ﷺ خوب محنت کرتے اور تہبند کس لیتے تھے۔

24028Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَبْرِ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَنْ يُكَلِّمَهُ وَعَائِشَةُ تُصَلِّي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكِ بِالْكَوَامِلِ أَوْ كَلِمَةً أُخْرَى فَلَمَّا انْصَرَفَتْ عَائِشَةُ سَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهَا قُولِي اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ وَأَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَأَسْأَلُكَ مِنْ الْخَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْتَعِيذُكَ مِمَّا اسْتَعَاذَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُكَ مَا قَضَيْتَ لِي مِنْ أَمْرٍ أَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَهُ رَشَدًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا عَلَيْكِ بِالْجَوَامِعِ الْكَوَامِلِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر ؓ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور ان کا ارادہ نبی ﷺ سے گفتگو کرنے کا تھا لیکن حضرت عائشہ ؓ اس وقت نماز پڑھ رہی تھیں، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کامل چیزوں کو اختیار کرو، جب وہ نماز سے فارغ ہوئیں تو نبی ﷺ سے اس کا مطلب پوچھا، نبی ﷺ نے فرمایا تم یوں کہا کرو، اے اللہ! میں تجھ سے ہر خیر کا سوال کرتا ہوں خواہ وہ فوری ہو یا تاخیر سے، میں اسے جانتا ہوں یا نہ جانتا ہوں اور میں ہر شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں خواہ وہ فوری ہو یا تاخیر سے، میں اسے جانتا ہوں یا نہ جانتاہوں، اے اللہ! میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تجھ سے تیرے بندے اور نبی ﷺ نے کیا ہے اور ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی ﷺ نے پناہ مانگی ہو، اے اللہ میں تجھ سے جنت اور اس کے رقیب کردینے والے ہر قول و عمل کا سوال کرتا ہوں اور جہنم اور اس کے قریب کردینے والے ہر قول و عمل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لئے جو فیصلہ بھی کرے، وہ خیر کا فیصلہ فرما۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

24029Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ أَتَى بَعْضَ جَوَارِيهِ فَطَلَبْتُهُ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ کو اپنے بستر پر نہ پایا، میں سمجھی شاید اپنی کسی باندی کے پاس چلے گئے ہوں، چناچہ میں انہیں تلاش کرنے لگی، دیکھا کہ نبی ﷺ سجدہ ریز ہیں اور یہ دعا کر رہے ہیں کہ پروردگار! میرے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دے۔

24030Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُمَارَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَانِ عُمَانِيَّانِ أَوْ قَطَرِيَّانِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ إِنَّ هَذَيْنِ ثَوْبَانِ غَلِيظَانِ تَرْشَحُ فِيهِمَا فَيَثْقُلَانِ عَلَيْكَ وَإِنَّ فُلَانًا قَدْ جَاءَهُ بَزٌّ فَابْعَثْ إِلَيْهِ يَبِيعُكَ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ قَالَ قَدْ عَرَفْتُ مَا يُرِيدُ مُحَمَّدٌ إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِثَوْبَيَّ أَيْ لَا يُعْطِينِي دَرَاهِمِي فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شُعْبَةُ أُرَاهُ قَالَ قَدْ كَذَبَ لَقَدْ عَرَفُوا أَنِّي أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ قَالَ أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا وَآدَاهُمْ لِلْأَمَانَةِ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے پاس عمان کے دو کپڑے تھے جو بہت موٹے تھے، انہوں نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ یہ دونوں کپڑے بہت موٹے ہیں، جب یہ گیلے ہوجاتے ہیں تو اور بھی وزنی ہوجاتے ہیں، فلاں آدمی کے پاس کچھ کپڑے آئے ہیں، کسی آدمی کو اس کے پاس بھیج دیجئے کہ وہ آپ کو دو کپڑے فروخت کردے اور آپ کشادگی ہونے پر اسے ادائیگی کردیں گے، نبی ﷺ نے اس کے پاس ایک آدمی کو بھیج دیا، وہ کہنے لگا میں جانتا ہوں کہ محمد ﷺ کا کیا ارادہ ہے، یہ چاہتے ہیں کہ میرے کپڑے لیجائیں اور مجھے میرے دراہم نہ دیں، نبی ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا اس نے غلط کہا، یہ جانتے ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں، بات میں سب سے زیادہ سچا اور امانت کو سب سے بڑھ کر ادا کرنے والا ہوں۔

24031Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ رَبٍّ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سَائِبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرِ وَقَالَ إِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ وَيُسْقِطَانِ الْوَلَدَ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ان سانپوں کو مارنے کا حکم دیا ہے جو دم کٹے ہوں یا دو دھاری ہوں کیونکہ ایسے سانپ بینائی کو زائل کردیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل ضائع کردیتے ہیں۔

24032Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ الدَّائِمُ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فَقُلْتُ فَأَيُّ حِينٍ كَانَ يَقُومُ قَالَتْ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ

مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا تھا؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ کیا جائے۔ میں نے پوچھا کہ نبی ﷺ کو کس وقت قیام فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے۔

24033Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ ثُمَّ قَالَ الْأَشْعَثُ أَخِيرًا كَانَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي تَرَجُّلِهِ وَنَعْلِهِ وَطُهُورِهِ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حسب امکان اپنے ہر کام میں مثلا وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔

24034Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ قَالَ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تحَدَّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِ الْمَحِيضِ قَالَ تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتُدَلِّكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا حَتَّى يَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَطَهَّرُ بِهَا قَالَتْ أَسْمَاءُ وَكَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي بِهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ تَبْتَغِي أَثَرَ الدَّمِ وَسَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ قَالَ تَأْخُذِينَ مَاءَكِ فَتَطَهَّرِينَ فَتُحْسِنِينَ الطُّهُورَ أَوْ أَبْلِغِي الطُّهُورَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتُدَلِّكُهُ حَتَّى يَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَاءَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء ؓ سے " غسل حیض " کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا پانی اور بیری لے کر خوب اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرلیا کرو، پھر سر پر پانی بہا کر خوب اچھی طرح اسے ملو تاکہ جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر پانی بہاؤ، پھر مشک کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے طہارت حاصل کرو، وہ کہنے لگیں کہ عورت اس سے کس طرح طہارت حاصل کرے؟ نبی ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ! بھئی اس سے پاکی حاصل کرے دراصل نبی ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ اس سے خون کے نشانات دور کرے، پھر انہوں " غسل جنابت " کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا پانی لے کر خوب اچھی طرح طہارت حاصل کرو اور سر پر پانی ڈال کر اسے اچھی طرح ملو تاکہ جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر اس پر پانی بہاؤ۔ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ انصار کی عورتیں بہت اچھی ہیں جنہیں دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں شرم مانع نہیں ہوتی۔

24035Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ وَرُكُوعِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ

24036Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں کسی حال میں نہیں چھوڑتے تھے۔

24037Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَيَّ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا وَالْبُيُوتُ لَيْسَ يَوْمَئِذٍ فِيهَا مَصَابِيحُ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ بعض اوقات میں نبی ﷺ کے سامنے سو رہی ہوتی تھی اور میرے پاؤں نبی ﷺ کے قبلے کی سمت میں ہوتے تھے، جب نبی ﷺ سجدے میں جانے لگتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی، جب وہ کھڑے ہوجاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔

24038Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاكٍ فَصَلَّى جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ اجْلِسُوا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی بیماری میں کچھ لوگوں کی عیادت کے لئے بارگاہ نبوت میں حاضری ہوئی، نبی ﷺ نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور لوگ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، نبی ﷺ نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کردیا اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا امام اسی لئے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔

24039Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتَسَامَعُ عِنْدَهُ الشِّعْرُ فَقَالَتْ كَانَ أَبْغَضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ

ابو نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کیا نبی ﷺ کے یہاں اشعار سنائے جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ نبی ﷺ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ بات تھی۔

24040Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

وَقَالَ عَنْ عَائِشَةَ كَانَ يُعْجِبُهُ الْجَوَامِعُ مِنْ الدُّعَاءِ وَيَدَعُ مَا بَيْنَ ذَلِكَ

اور حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو جامع دعائیں پسند تھیں، اسی لئے وہ اس کے درمیان کی چیزوں کو چھوڑ دیتے تھے۔

24041Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

قَالَ وَقَالَتْ عَائِشَةُ إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّهَلَا بعُمَرَ

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب نیک لوگوں کا تذکرہ کیا جائے تو حضرت عمر ؓ کا بھی تذکرہ کیا کرو۔

24042Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهَا فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔

24043Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَخِيهِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِرْذَوْنٍ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ طَرَفُهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَأَيْتِيهِ ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ایک ترکی گھوڑے پر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عمامہ باندھ رکھا تھا جس کا ایک کونا ان کے دونوں کندھوں کے درمیان تھا، بعد میں میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو ایک آدمی سے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تھا، نبی ﷺ نے پوچھا کیا تم نے اسے دیکھا تھا؟ وہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے۔

24044Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ فُلَيْتٍ حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَاءً فِيهِ طَعَامٌ فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ كَسَرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَفَّارَتُهُ فَقَالَ إِنَاءٌ كَإِنَاءٍ وَطَعَامٌ كَطَعَامٍ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت صفیہ ؓ سے زیادہ عمدہ کھانے پکانے والی عورت نہیں دیکھی، ایک مرتبہ انہوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا۔ میں اپنے اوپر اور قابو نہ رکھ سکی اور اس برتن کو توڑ ڈالا، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس کا کفارہ کیا ہے؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا برتن جیسا برتن اور کھانے جیسا کھانا۔

24045Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ بُصَاقًا أَوْ مُخَاطًا أَوْ نُخَامَةً فَحَكَّهُ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مسجد میں تھوک دیکھا تو اسے مٹی میں مل دیا۔

24046Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ رَخَّصَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی ہے۔