ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے وصال کے بعد حضرت صدیق اکبر ؓ نے انہیں بو سہ دیا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ كُنْتُ أَنَا وابْنُ عُمَرَ مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ إِنَّا لَنَسْمَعُهَا تَسْتَنُّ قُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ يَا أُمَّتَاهُ مَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ مَا يَقُولُ قُلْتُ يَقُولُ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ قَالَتْ يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ نَسِيَ مَا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ قَالَ وَابْنُ عُمَرَ يَسْمَعُ فَمَا قَالَ لَا وَلَا نَعَمْ سَكَتَ
عروہ بن زبیر (رح) نے حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ نے ماہ رجب میں عمرہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں! عروہ نے یہ بات حضرت عائشہ ؓ کو بتائی تو انہوں نے فرمایا اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے، نبی ﷺ نے جو عمرہ بھی کیا وہ نبی ﷺ کے ساتھ اس میں شریک رہے ہیں (لیکن یہ بھول گئے کہ) نبی ﷺ نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا، حضرت ابن عمر ؓ نے اس کی تائید کی اور نہ تردید، بلکہ خاموش رہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَأْمُرُنِي فَأَتَّزِرُ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ يُبَاشِرُنِي وَكُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ وَأَنَا حَائِضٌ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مجھے حکم دیتے تو میں ازار باندھ لیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی، پھر نبی ﷺ میرے جسم کے ساتھ اپنا جسم لگا لیتے تھے اور میں نبی ﷺ کا سر مبارک ایام سے ہونے کے باوجود دھو دیتی تھی جبکہ نبی ﷺ اعتکاف میں ہوتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ قَالَتْ وَعَلَيْهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا وَ عَلَیہِ وَ رَحمَۃُ اللَہِ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنْ الْأَيَّامِ قَالَتْ لَا كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيقُ
علقمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے نبی ﷺ کے خصوصی ایام میں خصوصی اعمال کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ میں جو طاقت تھی۔ وہ تم میں سے کس میں ہوسکتی ہے؟ البتہ یہ یاد رکھو کہ نبی ﷺ کا ہر عمل دائمی ہوتا تھا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِنْسَانٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلْقَبْرِ ضَغْطَةً وَلَوْ كَانَ أَحَدٌ نَاجِيًا مِنْهَا نَجَا مِنْهَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قبر کو ایک مرتبہ بھینچا جاتا ہے، اگر کوئی شخص اس عمل سے بچ سکتا تو وہ سعد بن معاذ ہوتے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ زَكَرِيَّا قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ هَانِىءٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ سے ملاقات ہونے سے پہلے موت ہوتی ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ كَانَ فِي الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ فَإِنْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِي فَعُمَرُ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا پہلی امتوں میں کچھ لوگ محدث (جنہیں اللہ کی طرف سے الہام ہوتا ہو) ہوئے تھے، اگر میری امت میں ایسا کوئی شخص ہوسکتا ہے تو وہ عمر ہیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ حَتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت عثمان بن مظعون ؓ کی نعش کو بوسہ دیا اور میں نے دیکھا کہ آنسو نبی ﷺ کے چہرے پر بہہ رہے ہیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَإِنَّهُ إِذَا صَلَّى وَهُوَ يَنْعَسُ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو اونگھ آئے تو اسے سو جانا چاہیے، یہاں تک کہ اس کی نیند پوری ہوجائے، کیونکہ اگر وہ اسی اونگھ کی حالت میں نماز پڑھنے لگے تو ہوسکتا ہے کہ وہ استغفار کرنے لگے اور بیخبر ی میں اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهِيَ أَوْبَأُ أَرْضِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا فِي الْجُحْفَةِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہ اللہ کی زمین میں سب سے زیادہ وبائی علاقہ تھا، جس کی بناء پر حضرت صدیق اکبر ؓ بیمار ہوگئے، تو نبی ﷺ نے اللہ سے دعا کی اے اللہ! ہمیں مدینہ کی ویسی ہی بلکہ اس سے زیادہ محبت عطاء فرما جیسے ہم مکہ سے محبت کرتے ہیں، اسے ہمارے موافق فرما، اس کے مد اور صاع میں ہمارے لئے برکتیں پیدا فرما اور یہاں کا بخار جحفہ کی طرف منتقل فرما دے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَمَرَهُمْ بِمَا يُطِيقُونَ مِنْ الْعَمَلِ يَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَتْ فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ اگر نبی ﷺ لوگوں کو کسی ایسے کام کا حکم دیتے جس کی وہ طاقت رکھتے ہوں اور وہ کہتے یا رسول اللہ! ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرمادیئے ہیں، تو نبی ﷺ ناراض ہوجاتے اور غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آنے لگتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجَتْ سَوْدَةُ لِحَاجَتِهَا لَيْلًا بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ قَالَتْ وَكَانَتْ امْرَأَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ جَسِيمَةً فَوَافَقَهَا عُمَرُ فَأَبْصَرَهَا فَنَادَاهَا يَا سَوْدَةُ إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا إِذَا خَرَجْتِ فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ أَوْ كَيْفَ تَصْنَعِينَ فَانْكَفَأَتْ فَرَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا قَالَ لَهَا عُمَرُ وَإِنَّ فِي يَدِهِ لَعَرْقًا فَأُوحِيَ إِلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَإِنَّ الْعَرْقَ لَفِي يَدِهِ فَقَالَ لَقَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد ایک مرتبہ حضرت سودہ ؓ قضاء حاجت کے لئے نکلیں، چونکہ ان کا قد لمبا اور جسم بھاری تھا (اس لئے لوگ انہیں پہچان لیتے تھے) راستے میں انہیں حضرت عمر ؓ مل گئے، انہوں نے حضرت سودہ ؓ کو دیکھ کر دور سے ہی پکارا سودہ! واللہ جب تم نکلتی ہو تو ہم سے پوشیدہ نہیں رہتیں اس لئے دیکھ لیا کرو کہ کس کیفیت میں باہر نکل رہی ہو، حضرت سودہ ؓ الٹے قدموں نبی ﷺ کے پاس واپس آگئیں، اس وقت نبی ﷺ رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے، انہوں نے نبی ﷺ سے حضرت عمر ؓ کی بات ذکر کی، اس وقت نبی ﷺ کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی، اسی لمحے نبی ﷺ پر وحی نازل ہونے لگی، جب وہ کیفیت دور ہوئی تو نبی ﷺ کے دست مبارک میں وہ ہڈی اسی طرح تھی اور نبی ﷺ نے فرمایا تمہیں اپنی ضروریات کے لئے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُقَبِّلُ الصِّبْيَانَ فَوَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَمْلِكُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَزَعَ مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ بچوں کو چومتے ہیں؟ واللہ ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے، نبی ﷺ نے فرمایا مجھے تو اس بات پر قدرت نہیں ہے کہ جب اللہ ہی نے تیرے دل سے رحمت کو کھینچ لیا ہے (تو میں کیسے ڈال دوں؟ )۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فرماتے تھے کہ شب قدر کو ماہ رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ ضِجَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهُ مِنْ لِيفٍ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا بستر جس پر آپ ﷺ رات کو سوتے تھے، چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ حِبَّانُ بْنُ الْعَرِقَةِ فِي الْأَكْحَلِ فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن حضرت سعد بن معاذ ؓ کے بازو کی ایک رگ میں ایک تیر آکر لگا جو قریش کے " حبان بن عرقہ " نامی ایک آدمی نے انہیں مارا تھا، تو نبی ﷺ نے مسجد نبوی میں ہی ان کا خیمہ لگوا دیا تاکہ قریب ہی سے ان کی عیادت کرلیا کریں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَعَلَى رَأْسِهِ الْغُبَارُ قَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ فَوَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهَا اخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ قَالَ هَاهُنَا فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ قَالَ هِشَامٌ فَأَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُمْ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدٍ قَالَ فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقَتَّلَ الْمُقَاتِلَةُ وَتُسْبَى النِّسَاءُ وَالذُّرِّيَّةُ وَتُقَسَّمَ أَمْوَالُهُمْ قَالَ هِشَامٌ قَالَ أَبِي فَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ غزوہ خندق سے واپس آئے اور اسلحہ اتار کر غسل فرمانے لگے تو حضرت جبرائیل اس حال میں حاضر ہوئے کہ ان کے سر پر گردوغبار پڑا ہوا تھا اور عرض کیا کہ آپ نے اسلحہ رکھ بھی دیا؟ واللہ میں نے تو ابھی تک اسلحہ نہیں اتارا، آپ ان کی طرف روانہ ہوجائیے، نبی ﷺ نے فرمایا کس طرف؟ انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہاں، چناچہ نبی ﷺ روانہ ہوگئے اور وہ لوگ نبی ﷺ کے فیصلے پر اپنے قلعوں سے اتر نے کے لئے تیار ہوگئے، نبی ﷺ نے ان کا فیصلہ حضرت سعد بن معاذ ؓ کے سپرد کردیا، انہوں نے فرمایا میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگجو لوگ قتل کردیئے جائیں، عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالیا جائے اور ان کا مال و دولت تقسیم کرلیا جائے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الْحَبَشَةَ كَانُوا يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ قَالَتْ فَاطَّلَعْتُ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِهِ فَطَأْطَأَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْكِبَيْهِ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِهِ حَتَّى شَبِعْتُ ثُمَّ انْصَرَفْتُ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی ﷺ کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی ﷺ کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی ﷺ نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَأَبُو أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الْمَعْنَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ ثُمَّ جَعَلْتُهَا عَلَى أُسِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِنَّ قُرَيْشًا يَوْمَ بَنَتْهَا اسْتَقْصَرَتْ وَلَجَعَلْتُ لَهَا خَلْفًا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ خِلْفًا
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو شہید کرکے اسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر تعمیر کرتا کیونکہ قریش نے جب اسے تعمیر کیا تھا تو اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیا تھا اور میں اس کا ایک دروازہ پیچھے سے بھی نکالتا۔