Musnad Imam Ahmad 23198

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

23198Musnad Imam Ahmad

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَمَرَهُمْ بِمَا يُطِيقُونَ مِنْ الْعَمَلِ يَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَتْ فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ اگر نبی ﷺ لوگوں کو کسی ایسے کام کا حکم دیتے جس کی وہ طاقت رکھتے ہوں اور وہ کہتے یا رسول اللہ! ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرمادیئے ہیں، تو نبی ﷺ ناراض ہوجاتے اور غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آنے لگتے تھے۔