Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 87 of 1,321

1721Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَتْ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْحَجِّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى دَابَّتِهِ قَالَ فَحُجِّي عَنْ أَبِيكِ

حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہوچکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہوچکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے؟ نبی ﷺ نے فرمایا ان کی طرف سے تم حج کرلو۔

1722Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو ابْنُ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ فِي الْبَيْتِ حِينَ دَخَلَهُ وَلَكِنَّهُ لَمَّا خَرَجَ فَنَزَلَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ بَابِ الْبَيْتِ

حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے لیکن نماز نہیں پڑھی، البتہ باہر نکل کر باب کعبہ کے سامنے دو رکعتیں پڑھی تھیں۔

1723Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى جَاءَ جَمْعًا وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى جَاءَ مِنًى قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَخْبَرَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ

حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ ﷺ کے پیچھے حضرت اسامہ بن زید ؓ بیٹھے ہوئے تھے، یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے اور جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو نبی ﷺ کے پیچھے حضرت فضل ؓ سوار تھے، یہاں تک کہ منیٰ پہنچے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔

1724Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَبُو مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنًى حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا قَالَ عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ

حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ عرفہ کی رات گذارنے کے بعد جب صبح کے وقت ہم نے وادی مزدلفہ کو چھوڑا ہے تو نبی ﷺ نے لوگوں سے فرمایا اطمینان اور سکون اختیار کرو، اس وقت نبی ﷺ اپنی سواری کو تیز چلنے سے روک رہے تھے، یہاں تک کہ وادی محسر سے اتر کر جب نبی ﷺ منی میں داخل ہوئے تو فرمایا ٹھیکری کی کنکریاں لے لو تاکہ رمی جمرات کی جاسکے اور نبی ﷺ اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرنے لگے جس طرح انسان کنکری پھینکتے وقت کرتا ہے۔

1725Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبِي أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ قَالَ فَحُجِّي عَنْهُ

حضرت فضل ؓ سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہوچکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہوچکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے؟ نبی ﷺ نے فرمایا ان کی طرف سے تم حج کرلو۔

1726Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى وَأَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ وَأَعْرَابِيٌّ يُسَايِرُهُ وَرِدْفُهُ ابْنَةٌ لَهُ حَسْنَاءُ قَالَ الْفَضْلُ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِي يَصْرِفُنِي عَنْهَا فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ

حضرت فضل ؓ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ سے منیٰ کی طرف واپسی پر نبی ﷺ کا ردیف تھا، ابھی آپ ﷺ چل ہی رہے تھے کہ ایک دیہاتی اپنے پیچھے اپنی ایک خوبصورت بیٹی کو بٹھا کرلے آیا، وہ نبی ﷺ سے باتوں میں مشغول ہوگیا اور میں اس لڑکی کو دیکھنے لگا، نبی ﷺ نے مجھے دیکھ لیا اور میرے چہرے کا رخ اس طرف سے موڑ دیا اور نبی ﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔

1727Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَاثَةَ عَنْ مَسْلَمَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَبَرِحَ ظَبْيٌ فَمَالَ فِي شِقِّهِ فَاحْتَضَنْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَطَيَّرْتَ قَالَ إِنَّمَا الطِّيَرَةُ مَا أَمْضَاكَ أَوْ رَدَّكَ

حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی ﷺ کے ساتھ نکلا، اچانک ہمارے قریب سے ایک ہرن گذر کر ایک سوراخ میں گھس گیا میں نے اسے پکڑ لیا اور نبی ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ نے شگون لیا ہے؟ فرمایا شگون تو ان چیزوں میں ہوتا ہے جو گذر گئی ہوں۔

1728Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ

حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے تھے۔

1729Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ قَالَ بَنَى يَعْلَى بْنُ عُقْبَةَ فِي رَمَضَانَ فَأَصْبَحَ وَهُوَ جُنُبٌ فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ أَفْطِرْ قَالَ أَفَلَا أَصُومُ هَذَا الْيَوْمَ وَأُجْزِئُهُ مِنْ يَوْمٍ آخَرَ قَالَ أَفْطِرْ فَأَتَى مَرْوَانَ فَحَدَّثَهُ فَأَرْسَلَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ قَدْ كَانَ يُصْبِحُ فِينَا جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا فَرَجَعَ إِلَى مَرْوَانَ فَحَدَّثَهُ فَقَالَ الْقَ بِهَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ جَارٌ جَارٌ فَقَالَ أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَتَلْقَانِهِ بِهِ قَالَ فَلَقِيَهُ فَحَدَّثَهُ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَنْبَأَنِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لَقِيتُ رَجَاءً فَقُلْتُ حَدِيثُ يَعْلَى مَنْ حَدَّثَكَهُ قَالَ إِيَّايَ حَدَّثَهُ

یعلی بن عقبہ نے ماہ رمضان میں شادی کی، رات اپنی بیوی کے پاس گذاری، صبح ہوئی تو وہ جنبی تھے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے ملاقات کی اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ روزہ نہ رکھو، یعلی نے کہا کہ میں آج کا روزہ رکھ کسی دوسرے دن کی نیت نہ کرلوں؟ فرمایا روزہ نہ رکھو، پھر یعلی مروان کے پاس آئے اور ان سے یہ واقعہ بیان کیا۔ مروان نے ابوبکر بن عبدالرحمن کو ام المومنین کے پاس یہ مسئلہ دریافت کرنے کے لئے بھیجا، انہوں نے فرمایا کہ بعض اوقات نبی ﷺ بھی صبح کے وقت جنبی ہوتے تھے اور ایسا ہونا احتلام کی وجہ سے نہیں ہوتا تھا، پھر نبی ﷺ روزہ بھی رکھ لیتے تھے، قاصد نے مروان کے پاس آکر یہ بات بتادی، مروان نے یعلی سے کہا کہ جاکر یہ بات حضرت ابوہریرہ ؓ کو بتانا، یعلی نے کہا کہ وہ میرے پڑوسی ہیں، مروان نے کہا کہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ ان سے مل کر انہیں یہ بات ضرور بتانا۔ چناچہ یعلی نے ان سے ملاقات کی اور انہیں یہ حدیث سنائی، حضرت ابوہریرہ ؓ کہنے لگے کہ میں نے وہ بات نبی ﷺ سے خود نہیں سنی تھی، بلکہ مجھے وہ بات فضل بن عباس ؓ نے بتائی تھی، راوی کہتے ہیں کہ بعد میں میری ملاقات رجاء سے ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ یعلی کی یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے فرمایا خود یعلی نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے۔

1730Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَكَانَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ قَالَ رَوْحٌ فِي الْحَجِّ قَالَ رَوْحٌ يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ كِلَاهُمَا قَالَ ابْنُ مَاهَكَ

حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی ﷺ کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی ﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔

1731Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ وَكَانَتْ جَارِيَةٌ خَلْفَ أَبِيهَا فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهِي عَنْهَا فَلَمْ يَزَلْ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ

حضرت فضل ؓ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ سے منیٰ کی طرف واپسی پر نبی ﷺ کا ردیف تھا، ابھی آپ ﷺ چل ہی رہے تھے کہ ایک دیہاتی اپنے پیچھے اپنی ایک خوبصورت بیٹی کو بٹھا کرلے آیا، وہ نبی ﷺ سے باتوں میں مشغول ہوگیا اور میں اس لڑکی کو دیکھنے لگا، نبی ﷺ نے مجھے دیکھ لیا اور میرے چہرے کا رخ اس طرف سے موڑ دیا اور نبی ﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔

1732Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنِي عَزْرَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ الْفَضْلَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ فَلَمْ تَرْفَعْ رَاحِلَتُهُ رِجْلَهَا غَادِيَةً حَتَّى بَلَغَ جَمْعًا قَالَ و حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ أَنَّ أُسَامَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ فَلَمْ تَرْفَعْ رَاحِلَتُهُ رِجْلَهَا غَادِيَةً حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ

حضرت فضل ؓ سے مروی ہے کہ عرفہ سے روانگی کے وقت وہ نبی ﷺ کے ردیف تھے، آپ کی سواری صبح تک مسلسل چلتی رہی، تاآنکہ آپ ﷺ مزدلفہ پہنچ گئے، امام شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت اسامہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی کے وقت نبی ﷺ کے ردیف تھے اور آپ کی سواری مسلسل چلتی رہی یہاں تک کہ آپ ﷺ نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی۔

1733Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي الْكَعْبَةِ فَسَبَّحَ وَكَبَّرَ وَدَعَا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَهُ وَلَمْ يَرْكَعْ وَلَمْ يَسْجُدْ

حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ خانہ کعبہ کے اندر کھڑے ہوئے اور تسبیح و تکبیر کہی، اللہ سے دعاء کی اور استغفار کیا، لیکن رکوع سجدہ نہیں کیا۔

1734Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَ أُسَامَةَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى جَمْعٍ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى فَأَخْبَرَهُ بِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ

حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے عرفات سے مزدلفہ کی طرف جاتے ہوئے حضرت اسامہ بن زید ؓ کو اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا اور وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی ﷺ کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی ﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔

1735Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

أَنْبَأَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا فُرَاتٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ عَنْ سَعْدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ

حضرت فضل بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی ﷺ کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی ﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔

1736Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَوْ أَحَدِهِمَا عَنْ صَاحِبِهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَحُجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ فَإِنَّهُ قَدْ تَضِلُّ الضَّالَّةُ وَيَمْرَضُ الْمَرِيضُ وَتَكُونُ الْحَاجَةُ

حضرت فضل ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کا حج کا ارادہ ہو، اسے یہ ارادہ جلد پورا کرلینا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات سواری گم ہوجاتی ہے، کبھی کوئی بیمار ہوجاتا ہے اور کبھی کوئی ضرورت آڑے آجاتی ہے۔

1737Musnad Imam Ahmad

حضرت فضل بن عباس (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ الْعَبْسِيُّ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ أَوْ أَحَدِهِمَا عَنِ الْآخَرِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ فَإِنَّهُ قَدْ يَمْرَضُ الْمَرِيضُ وَتَضِلُّ الضَّالَّةُ وَتَعْرِضُ الْحَاجَةُ

حضرت فضل ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کا حج کا ارادہ ہو، اسے یہ ارادہ جلد پورا کرلینا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات سواری گم ہوجاتی ہے، کبھی کوئی بیمار ہوجاتا ہے اور کبھی کوئی ضرورت آڑے آجاتی ہے۔

1738Musnad Imam Ahmad

حضرت تمام بن عباس (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الزَّرَّادِ قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُتِيَ فَقَالَ مَا لِي أَرَاكُمْ تَأْتُونِي قُلْحًا اسْتَاكُوا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمْ السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمْ الْوُضُوءَ

حضرت تمام بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں کچھ لوگ حاضر ہوئے، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کیا بات ہے، مجھے تمہارے دانت پیلے زرد دکھائی دے رہے ہیں؟ مسواک کیا کرو، اگر مجھے اپنی امت پر دشواری کا احساس نہ ہوتا تو میں ان پر مسواک کو اسی طرح فرض قرار دے دیتا جیسے وضو کو فرض قرار دیا ہے۔

1739Musnad Imam Ahmad

حضرت تمام بن عباس (رض) کی حدیثیں

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُفُّ عَبْدَ اللَّهِ وَعُبَيْدَ اللَّهِ وَكَثِيرًا مِنْ بَنِي الْعَبَّاسِ ثُمَّ يَقُولُ مَنْ سَبَقَ إِلَيَّ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَيَسْتَبِقُونَ إِلَيْهِ فَيَقَعُونَ عَلَى ظَهْرِهِ وَصَدْرِهِ فَيُقَبِّلُهُمْ وَيَلْزَمُهُمْ

عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ عبداللہ، عبیداللہ اور کثیر، جو کہ حضرت عباس ؓ کے صاحبزادگان، تھے کو ایک صف میں کھڑا کرتے اور فرماتے کہ جو میرے پاس پہلے آئے گا، اسے یہ یہ ملے گا، چناچہ یہ سب دوڑ کر نبی ﷺ کے پاس آتے، کوئی پشت پر گرتا اور کوئی سینہ مبارک پر آکر گرتا، نبی ﷺ انہیں پیار کرتے اور اپنے جسم کے ساتھ لگاتے۔

1740Musnad Imam Ahmad

حضرت عبیداللہ بن عباس (رض) کی حدیث

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ جَاءَتْ الْغُمَيْصَاءُ أَوْ الرُّمَيْصَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو زَوْجَهَا وَتَزْعُمُ أَنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَيْهَا فَمَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ زَوْجُهَا فَزَعَمَ أَنَّهَا كَاذِبَةٌ وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَكِ ذَلِكَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ رَجُلٌ غَيْرُهُ

حضرت عبیداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک عورت جس کا نام غمیصاء یا رمیصاء تھا نبی ﷺ کی خدمت میں اپنے خاوند کی شکایت لے کر آئی، اس کا کہنا یہ تھا کہ یہ اس کا خاوند اس کے قریب پہنچنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا، تھوڑی دیر بعد اس کا شوہر بھی آگیا، اس کا خیال یہ تھا کہ اس کی بیوی جھوٹ بول رہی ہے، اصل بات یہ ہے کہ وہ اپنے پہلے خاوند سے دوبارہ شادی کرنا چاہتی ہے، نبی ﷺ نے اس عورت سے مخاطب ہو کر فرمایا تمہارے لئے ایسا کرنا اس وقت جائز نہیں ہے جب تک تمہارا شہد اس (پہلے شوہر) کے علاوہ کوئی دوسرا مرد نہ چکھ لے۔