حضرت ابوعبیدہ بن الجراح (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ قَالَ فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَعَلَّهُ يُدْرِكُهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي أَوْ سَمِعَ كَلَامِي قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ أَمِثْلُهَا الْيَوْمَ قَالَ أَوْ خَيْرٌ
حضرت ابوعبیدہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ہر آنے والے نبی نے اپنی اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے اور میں بھی تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں، پھر نبی ﷺ نے ہمارے سامنے اس کی کچھ صفات بیان فرمائیں اور فرمایا ہوسکتا ہے کہ مجھے دیکھنے والا یا میری باتیں سننے والا کوئی شخص اسے پالے، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ اس وقت ہمارے دلوں کی کیفیت کیا ہوگی؟ کیا آج کی طرح ہوں گے؟ فرمایا بلکہ اس سے بھی بہتر کیفیت ہوگی۔
حضرت ابوعبیدہ بن الجراح (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ كَانَ آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَخْرِجُوا يَهُودَ الْحِجَازِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَاعْلَمُوا أَنَّ شِرَارَ النَّاسِ الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ
حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا سب سے آخری کلام یہ تھا کہ حجاز میں جو یہودی آباد ہیں اور جزیرہ عرب میں جو اہل نجران آباد ہیں انہیں نکال دو اور جان لو کہ بد ترین لوگ وہ ہیں جو اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں۔
حضرت ابوعبیدہ بن الجراح (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَجَارَ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا وَعَلَى الْجَيْشِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لَا نُجِيرُهُ وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ نُجِيرُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَحَدُهُمْ
حضرت ابوامامہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان نے کسی شخص کو پناہ دے دی، اس وقت امیرلشکر حضرت ابوعبیدہ ؓ تھے، حضرت خالد بن ولید ؓ اور حضرت عمروبن العاص ؓ کی رائے یہ تھی کہ اسے پناہ نہ دی جائے، لیکن حضرت ابوعبیدہ ؓ نے فرمایا کہ ہم اسے پناہ دیں گے، کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی بھی شخص کسی کبھی شخص کو مسلمانوں پر پناہ دے سکتا ہے۔
حضرت ابوعبیدہ بن الجراح (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو حِسْبَةَ مُسْلِمُ بْنُ أُكَيْسٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ ذَكَرَ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ يَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ فَقَالَ نَبْكِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ يَوْمًا مَا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَيُفِيءُ عَلَيْهِمْ حَتَّى ذَكَرَ الشَّامَ فَقَالَ إِنْ يُنْسَأْ فِي أَجَلِكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ فَحَسْبُكَ مِنْ الْخَدَمِ ثَلَاثَةٌ خَادِمٌ يَخْدُمُكَ وَخَادِمٌ يُسَافِرُ مَعَكَ وَخَادِمٌ يَخْدُمُ أَهْلَكَ وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ وَحَسْبُكَ مِنْ الدَّوَابِّ ثَلَاثَةٌ دَابَّةٌ لِرَحْلِكَ وَدَابَّةٌ لِثَقَلِكَ وَدَابَّةٌ لِغُلَامِكَ ثُمَّ هَذَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَى بَيْتِي قَدْ امْتَلَأَ رَقِيقًا وَأَنْظُرُ إِلَى مِرْبَطِي قَدْ امْتَلَأَ دَوَابَّ وَخَيْلًا فَكَيْفَ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذَا وَقَدْ أَوْصَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي مَنْ لَقِيَنِي عَلَى مِثْلِ الْحَالِ الَّذِي فَارَقَنِي عَلَيْهَا
ایک مرتبہ ایک صاحب حضرت ابو عبیدہ ؓ سے ملنے کے لئے آئے تو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں، انہوں نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو حضرت ابو عبیدہ ؓ نے فرمایا کہ میں اس لئے رو رہا ہوں کہ ایک دن نبی ﷺ نے مسلمانوں کو ملنے والی فتوحات اور حاصل ہونے والے مال غنیمت کا تذکرہ کیا، اس دوران شام کا تذکرہ بھی ہوا، تو نبی ﷺ نے مسلمانوں کو ملنے والی فتوحات اور حاصل ہونے والے مال غنیمت کا تذکرہ کیا، اس دوران شام کا تذکرہ بھی ہوا، تو نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا ابو عبیدہ! اگر تمہیں زندگی مل جائے تو صرف تین خادموں کو اپنے لئے کافی سمجھنا، ایک اپنے لئے، ایک اپنے ساتھ سفر کرنے کے لئے اور ایک اپنے اہل خانہ کے لئے جو ان کی خدمت کرے اور ان کی ضروریات مہیا کرے اور تین سواریوں کو اپنے لئے کافی سمجھنا، ایک جانور تو اپنی سواری کے لئے، ایک اپنے سامان اور بار برداری کے لئے اور ایک اپنے غلام کے لئے۔ لیکن اب میں اپنے گھر پر نظر ڈالتا ہوں تو یہ مجھے غلاموں سے بھرا ہوا دکھائی دیتا ہے، میں اپنے اصطبل کی طرف نگاہ دوڑاتا ہوں تو وہ مجھے سواریوں اور گھوڑوں سے بھرا ہوا دکھائی دیتا ہے، اس صورت میں، میں نبی ﷺ کا سامنا کس منہ سے کروں گا؟ جبکہ نبی ﷺ نے ہمیں یہ وصیت فرمائی تھی کہ میری نگاہوں میں تم میں سب سے زیادہ محبوب اور میرے قریب ترین وہ شخص ہوگا جو مجھ سے اسی حال میں آکر ملاقات کرے جس کیفیت پر وہ مجھ سے جدا ہوا تھا۔
حضرت ابوعبیدہ بن الجراح (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ رَابِّهِ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ كَانَ خَلَفَ عَلَى أُمِّهِ بَعْدَ أَبِيهِ كَانَ شَهِدَ طَاعُونَ عَمَوَاسَ قَالَ لَمَّا اشْتَعَلَ الْوَجَعُ قَامَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي النَّاسِ خَطِيبًا فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ وَإِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ يَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَقْسِمَ لَهُ مِنْهُ حَظَّهُ قَالَ فَطُعِنَ فَمَاتَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَاسْتُخْلِفَ عَلَى النَّاسِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فَقَامَ خَطِيبًا بَعْدَهُ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ وَإِنَّ مُعَاذًا يَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَقْسِمَ لِآلِ مُعَاذٍ مِنْهُ حَظَّهُ قَالَ فَطُعِنَ ابْنُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاذٍ فَمَاتَ ثُمَّ قَامَ فَدَعَا رَبَّهُ لِنَفْسِهِ فَطُعِنَ فِي رَاحَتِهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ يُقَبِّلُ ظَهْرَ كَفِّهِ ثُمَّ يَقُولُ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِمَا فِيكِ شَيْئًا مِنْ الدُّنْيَا فَلَمَّا مَاتَ اسْتُخْلِفَ عَلَى النَّاسِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَامَ فِينَا خَطِيبًا فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ إِذَا وَقَعَ فَإِنَّمَا يَشْتَعِلُ اشْتِعَالَ النَّارِ فَتَجَبَّلُوا مِنْهُ فِي الْجِبَالِ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبُو وَاثِلَةَ الْهُذَلِيُّ كَذَبْتَ وَاللَّهِ لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتَ شَرٌّ مِنْ حِمَارِي هَذَا قَالَ وَاللَّهِ مَا أَرُدُّ عَلَيْكَ مَا تَقُولُ وَايْمُ اللَّهِ لَا نُقِيمُ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ وَخَرَجَ النَّاسُ فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ وَدَفَعَهُ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْ رَأْيِ عَمْرٍو فَوَاللَّهِ مَا كَرِهَهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد بْن حَنْبَلٍ أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ جَدُّ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُشْكُدَانَةَ
طاعون عمواس کے واقعے کے ایک عینی شاہد کا بیان ہے کہ جب حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ کی تکلیف شدت اختیار کرگئی تو وہ لوگوں کے سامنے خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگو! یہ تکلیف تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعوت اور تم سے پہلے صالحین کی موت رہ چکی ہے اور ابو عبیدہ اللہ سے دعاء کرتا ہے کہ اسے اس میں سے اس کا حصہ عطاء کیا جائے، چناچہ اسی طاعون کی وباء میں وہ شہید ہوگئے۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ ان کے بعد حضرت معاذ بن جبل ؓ نے ان کیا نیابت سنبھالی اور خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا لوگو! یہ تکلیف تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعوت اور تم سے پہلے صالحین کی موت رہ چکی ہے اور معاذ، اللہ سے دعاء کرتا ہے کہ آل معاذ کو بھی اس میں سے حصہ عطاء کیا جائے، چناچہ ان کے صاحبزادے عبدالرحمن اس مرض میں مبتلا ہو کر شہید ہوگئے اور حضرت معاذ ؓ نے دوبارہ کھڑے ہو کر اپنے لئے دعاء کی چناچہ ان کی ہتھیلی میں بھی طاعون کی گلٹی نکل آئی۔ میں نے انہیں دیکھا ہے کہ وہ طاعون کی اس گلٹی کو دیکھتے تھے اور اپنی ہتھیلی کو چومتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ تیرے عوض مجھ پوری دنیا بھی مل جائے تو مجھے خوشی نہ ہوگی، بہرحال! وہ بھی شہید ہوگئے، ان کے بعد حضرت عمرو بن العاص ؓ ان کے نائب مقرر ہوئے، انہوں نے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا لوگو! یہ تکلیف جب آجاتی ہے تو آگ کی طرح بھڑکنا شروع ہوجاتی ہے، اس لئے تم اس سے اپنی حفاظت کرتے ہوئے پہاڑوں میں چلے جاؤ۔ یہ سن کر ابو واثلہ ہذلی کہنے لگے کہ آپ نبی ﷺ کے صحابی ہونے کے باوجود صحیح بات نہیں کہہ رہے، بخدا! آپ میرے اس گدھے سے بھی زیادہ برے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں آپ کی بات کا جواب نہیں دوں گا، لیکن بخدا! ہم اس حالت میں نہیں رہیں گے، چناچہ وہ اس علاقے سے نکل گئے اور لوگ بھی نکل کر منتشر ہوگئے، اس طرح اللہ نے ان سے اس بیماری کو ٹالا، حضرت عمرو ؓ کو یہ فیصلہ کرتے ہوئے دیکھنے والے کسی صاحب نے یہ بات حضرت عمر ؓ کو بات بتائی تو انہوں نے اس پر کسی قسم کی ناگواری کا اظہار نہ کیا۔
حضرت ابوعبیدہ بن الجراح (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ ذَاتِ السُّلَاسِلِ فَاسْتَعْمَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْمُهَاجِرِينَ وَاسْتَعْمَلَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى الْأَعْرَابِ فَقَالَ لَهُمَا تَطَاوَعَا قَالَ وَكَانُوا يُؤْمَرُونَ أَنْ يُغِيرُوا عَلَى بَكْرٍ فَانْطَلَقَ عَمْرٌو فَأَغَارَ عَلَى قُضَاعَةَ لِأَنَّ بَكْرًا أَخْوَالُهُ فَانْطَلَقَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَكَ عَلَيْنَا وَإِنَّ ابْنَ فُلَانٍ قَدْ ارْتَبَعَ أَمْرَ الْقَوْمِ وَلَيْسَ لَكَ مَعَهُ أَمْرٌ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَتَطَاوَعَ فَأَنَا أُطِيعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ عَصَاهُ عَمْرٌو
امام شعبی (رح) کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جب جیش ذات السلاسل کو روانہ فرمایا تو حضرت ابو عبیدہ ؓ کو مہاجرین پر اور حضرت عمرو بن العاص ؓ کو دیہاتیوں پر امیر مقرر فرمایا اور دونوں سے فرمایا کہ ایک دوسرے کی بات ماننا، راوی کہتے ہیں کہ انہیں بنو بکر پر حملہ کرنے حکم دیا گیا تھا لیکن حضرت عمرو ؓ بنو قضاعہ پر حملہ کردیا کیونکہ بنو بکر سے ان کی رشتہ داری بھی تھی، یہ دیکھ کر حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے حضرت ابو عبیدہ ؓ کے پاس آکر کہا کہ نبی ﷺ نے آپ کو ہم پر امیر مقرر کر کے بھیجا ہے جبکہ فلاں کا بیٹا لوگوں کے معاملات پر غالب آگیا ہے اور محسوس ایسا ہوتا ہے کہ آپ کا حکم نہیں چلتا؟ حضرت ابو عبیدہ ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ہمیں ایک دوسرے کی بات ماننے کا حکم دیا تھا، میں تو نبی ﷺ کے حکم کی پیروی کرتا رہوں گا، خواہ عمرو نہ کریں۔
حضرت ابوعبیدہ بن الجراح (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ مَوْلَى آلِ سَمُرَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ إِنَّ آخِرَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَخْرِجُوا يَهُودَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ
حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا سب سے آخری کلام یہ تھا کہ حجاز میں جو یہودی آباد ہیں اور جزیرہ عرب میں جو اہل نجران آباد ہیں انہیں نکال دو۔
حضرت ابوعبیدہ بن الجراح (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ عَنْ وَاصِلٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَبِي عُبَيْدَةَ نَعُودُهُ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فَاضِلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبِسَبْعِ مِائَةٍ وَمَنْ أَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ أَوْ عَلَى أَهْلِهِ أَوْ عَادَ مَرِيضًا أَوْ مَازَ أَذًى عَنْ طَرِيقٍ فَهِيَ حَسَنَةٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا وَمَنْ ابْتَلَاهُ اللَّهُ بَلَاءً فِي جَسَدِهِ فَهُوَ لَهُ حِطَّةٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا بَشَّارُ بْنُ أَبِي سَيْفٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَبِي عُبَيْدَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
عیاض بن غطیف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ بیمار ہوگئے، ہم ان کی عیادت کے لئے گئے تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں اپنی زائد چیز خرچ کر دے اس کا ثواب سات سو گنا ہوگا، جو اپنی ذات اور اپنے اہل خانہ پر خرچ کرے، کسی بیمار کی عیادت کرے یا کسی تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹا دے تو ہر نیکی کا بدلہ دس نیکیاں ہوگی اور روزہ ڈھال ہے بشرطیکہ اسے انسان پھاڑ نہ دے اور جس شخص کو اللہ جسمانی طور پر کسی آزمائش میں مبتلا کرے، وہ اس کے لئے بخشش کا سبب بن جاتی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِضَيْفٍ لَهُ أَوْ بِأَضْيَافٍ لَهُ قَالَ فَأَمْسَى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا أَمْسَى قَالَتْ لَهُ أُمِّي احْتَبَسْتَ عَنْ ضَيْفِكَ أَوْ أَضْيَافِكَ مُنْذُ اللَّيْلَةِ قَالَ أَمَا عَشَّيْتِهِمْ قَالَتْ لَا قَالَتْ قَدْ عَرَضْتُ ذَاكَ عَلَيْهِ أَوْ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا أَوْ فَأَبَى قَالَ فَغَضِبَ أَبُو بَكْرٍ وَحَلَفَ أَنْ لَا يَطْعَمَهُ وَحَلَفَ الضَّيْفُ أَوْ الْأَضْيَافُ أَنْ لَا يَطْعَمُوهُ حَتَّى يَطْعَمَهُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنْ كَانَتْ هَذِهِ مِنْ الشَّيْطَانِ قَالَ فَدَعَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ وَأَكَلُوا قَالَ فَجَعَلُوا لَا يَرْفَعُونَ لُقْمَةً إِلَّا رَبَتْ مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرَ مِنْهَا فَقَالَ يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هَذَا قَالَ فَقَالَتْ قُرَّةُ عَيْنِي إِنَّهَا الْآنَ لَأَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ نَأْكُلَ قَالَ فَأَكَلُوا وَبَعَثَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَنَّهُ أَكَلَ مِنْهَا
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر ؓ کچھ مہمانوں کو لے کر آئے، خود انہوں نے شام کا وقت نبی ﷺ کے پاس گذارا، رات کو جب وہ واپس آئے تو والدہ نے ان سے کہا کہ آج رات آپ اپنے مہمانوں کو بھول کر کہاں رہے؟ انہوں نے فرمایا کیا تم نے انہیں رات کا کھانا نہیں کھلایا، انہوں نے کہا نہیں! میں نے تو ان کے سامنے کھانا لاکر پیش کردیا تھا لیکن انہوں نے ہی کھانے سے انکار کردیا، اس پر وہ ناراض ہوگئے اور قسم کھائی کہ وہ کھانا نہیں کھائیں گے، مہمانوں نے بھی قسم کھالی کہ وہ اس وقت تک نہیں کھائیں گے جب تک حضرت ابوبکر ؓ نہیں کھائیں گے، جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ یہ تو شیطان کی طرف سے ہوگیا ہے۔ پھر انہوں نے کھانا منگوایا اور خود بھی کھایا اور مہمانوں نے بھی کھایا، یہ لوگ جو لقمہ بھی اٹھاتے تھے، اس میں نیچے سے اضافہ ہوجاتا تھا، حضرت ابوبکر ؓ نے اپنی اہلیہ کو مخاطب کر کے فرمایا اے بنو فراس کی بہن! یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے کہا اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک! یہ تو اصل مقدار سے بھی زیادہ ہوگیا ہے، چناچہ ان سب نے یہ کھانا کھایا اور نبی ﷺ کو بھی بھجوایا اور راوی نے ذکر کیا کہ نبی ﷺ نے بھی اس کھانے کو تناول فرمایا۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً أَوْ قَالَ أَمْ هَدِيَّةً قَالَ لَا بَلْ بَيْعٌ فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى قَالَ وَايْمُ اللَّهِ مَا مِنْ الثَّلَاثِينَ وَالْمِائَةِ إِلَّا قَدْ حَزَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ قَالَ وَجَعَلَ مِنْهَا قَصْعَتَيْنِ قَالَ فَأَكَلْنَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ فَجَعَلْنَاهُ عَلَى الْبَعِيرِ أَوْ كَمَا قَالَ
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ہم ایک سو تیس آدمی تھے، نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی کے پاس کچھ کھانا ہے؟ ایک آدمی کے پاس سے ایک صاع آٹا نکلا، اسے گوندھا گیا، اتنی دیر میں ایک موٹا تازہ لمبا تڑنگا مشرک ایک بکری ہانکتا ہوا لایا، نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ یہ بیچنے کے لئے لائے ہو یا ہدیہ کے طور پر لائے ہو؟ اس نے کہا کہ بیچنے کے لئے، نبی ﷺ نے اس سے وہ بکری خرید لی اور اسے بھی تیار کیا جانے لگا۔ نبی ﷺ نے اس موقع پر یہ حکم بھی دیا کہ اس کی کلیجی بھون لی جائے، بخدا! ہم ایک سو تیس آدمیوں میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جسے نبی ﷺ نے کلیجی کی بوٹی کاٹ کر نہ دی ہو، جو موجود تھے انہیں اسی وقت اور جو موجود نہیں تھے ان کے لئے بچا کر رکھ لی، پھر دو بڑے پیالوں میں کھانا نکالا، ہم سب نے کھایا اور خوب سیر ہو کر کھایا لیکن پیالوں میں پھر بھی کچھ بچ گیا، ہم نے اسے اپنے اونٹ پر لاد لیا۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَارِمٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّةً مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ وَقَالَ عَفَّانُ بِثَلَاثَةٍ وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ سَادِسٍ أَوْ كَمَا قَالَ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ وَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ وَأَبُو بَكْرٍ بِثَلَاثَةٍ قَالَ عَفَّانُ بِسَادِسٍ
حضرت عبدالرحمن ؓ سے مروی ہے کہ اصحاب صفہ تنگدست لوگ تھے، ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ اپنے ساتھ تیسرے کو لے جائے، جس کے پاس چار کا کھانا ہو وہ پانچویں چھٹے کو لے جائے، حضرت صدیق اکبر ؓ اپنے ساتھ تین آدمیوں کو لے گئے اور نبی ﷺ دس افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ أَخْبَرَهُ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُرْدِفَ عَائِشَةَ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأُعْمِرَهَا
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ عائشہ صدیقہ ؓ کو اپنے پیچھے بٹھا کر تنعیم لے جاؤں اور انہیں عمرہ کرا لاؤں۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ رَبِّي أَعْطَانِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَهَلَّا اسْتَزَدْتَهُ قَالَ قَدْ اسْتَزَدْتُهُ فَأَعْطَانِي مَعَ كُلِّ رَجُلٍ سَبْعِينَ أَلْفًا قَالَ عُمَرُ فَهَلَّا اسْتَزَدْتَهُ قَالَ قَدْ اسْتَزَدْتُهُ فَأَعْطَانِي هَكَذَا وَفَرَّجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَبَسَطَ بَاعَيْهِ وَحَثَا عَبْدُ اللَّهِ و قَالَ هِشَامٌ وَهَذَا مِنْ اللَّهِ لَا يُدْرَى مَا عَدَدُهُ
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے رب نے میری امت میں سے مجھے ستر ہزار ایسے افراد عطاء کئے ہیں جو جنت میں بلا حساب کتاب داخل ہوں گے، حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے اس سے زائد کی درخواست نہیں کی؟ فرمایا میں نے درخواست کی تھی جس پر اللہ نے مجھے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ مزید ستر ہزار عطاء فرما دیئے، حضرت عمر ؓ نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے اس سے زائد کی درخواست نہیں کی؟ فرمایا میں نے درخواست کی تھی جس پر اللہ نے مجھے اتنے اور افراد عطاء فرمائے، یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ پھیلا دیئے، جس کی وضاحت کرتے ہوئے راوی کہتے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد جسے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ قَيْسِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ قَاضِي الْمِصْرَيْنِ وَهُوَ شُرَيْحٌ وَالْمِصْرَانِ الْبَصْرَةُ وَالْكُوفَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَدْعُو بِصَاحِبِ الدَّيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقِيمُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيَقُولُ أَيْ عَبْدِي فِيمَ أَذْهَبْتَ مَالَ النَّاسِ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي لَمْ أُفْسِدْهُ إِنَّمَا ذَهَبَ فِي غَرَقٍ أَوْ حَرَقٍ أَوْ سَرِقَةٍ أَوْ وَضِيعَةٍ فَيَدْعُو اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِشَيْءٍ فَيَضَعُهُ فِي مِيزَانِهِ فَتَرْجَحُ حَسَنَاتُهُ
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مقروض کو بلا کر اپنے سامنے کھڑا کریں گے اور اس سے پوچھیں گے کہ بندے! تو نے لوگوں کا مال کہاں اڑایا؟ وہ عرض کرے گا پروردگار! آپ تو جانتے ہیں کہ میں نے اسے یونہی برباد نہیں کیا، بلکہ وہ تو سمندر میں ڈوب کر، جل کر، چوری ہو کر یا ٹیکسوں کی ادائیگی میں ضائع ہوگیا یہ سن کر اللہ تعالیٰ کوئی چیز منگوا کر اس کے میزان عمل میں رکھ دیں گے جس سے اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو کر جھک جائے گا۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ قَاضِي الْمِصْرَيْنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْعُو اللَّهُ بِصَاحِبِ الدَّيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُقَالُ يَا ابْنَ آدَمَ فِيمَ أَخَذْتَ هَذَا الدَّيْنَ وَفِيمَ ضَيَّعْتَ حُقُوقَ النَّاسِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي أَخَذْتُهُ فَلَمْ آكُلْ وَلَمْ أَشْرَبْ وَلَمْ أَلْبَسْ وَلَمْ أُضَيِّعْ وَلَكِنْ أَتَى عَلَى يَدَيَّ إِمَّا حَرَقٌ وَإِمَّا سَرَقٌ وَإِمَّا وَضِيعَةٌ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَدَقَ عَبْدِي أَنَا أَحَقُّ مَنْ قَضَى عَنْكَ الْيَوْمَ فَيَدْعُو اللَّهُ بِشَيْءٍ فَيَضَعُهُ فِي كِفَّةِ مِيزَانِهِ فَتَرْجَحُ حَسَنَاتُهُ عَلَى سَيِّئَاتِهِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مقروض کو بلا کر اپنے سامنے کھڑا کریں گے اور اس سے پوچھیں گے کہ بندے! تو نے لوگوں سے قرض لے کر ان کا مال کہاں اڑایا؟ وہ عرض کرے گا پروردگار! آپ تو جانتے ہیں کہ میں نے اسے لیا تھا لیکن میں اسے کھا سکا اور نہ پی سکا، میں اسے پہن بھی نہیں سکا اور یونہی برباد نہیں کیا، بلکہ وہ تو سمندر میں ڈوب کر، جل کر، چوری ہو کر یا ٹیکسوں کی ادائیگی میں ضائع ہوگیا یہ سن کر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے بندے نے سچ کہا، میں اس بات کا زیادہ حقدار ہوں کہ آج تمہاری طرف تمہارا قرض ادا کروں، پھر اللہ تعالیٰ کوئی چیز منگوا کر اس کے میزان عمل میں رکھ دیں گے جس سے اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو کر جھک جائے گا اور وہ اللہ کے فضل سے جنت میں داخل ہوجائے گا۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ أَنْبَأَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْحَلْ هَذِهِ النَّاقَةَ ثُمَّ أَرْدِفْ أُخْتَكَ فَإِذَا هَبَطْتُمَا مِنْ أَكَمَةِ التَّنْعِيمِ فَأَهِلَّا وَأَقْبِلَا وَذَلِكَ لَيْلَةُ الصَّدَرِ
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اس اونٹنی پر سوار ہو، پیچھے اپنی بہن کو بٹھاؤ جب تنعیم کے ٹیلے سے اترو تو عمرہ کرا لاؤ، یہ موقع لیلۃ الصدر کا تھا۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ الدَّبَّاغُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِيهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ أَرْدِفْ أُخْتَكَ يَعْنِي عَائِشَةَ فَأَعْمِرْهَا مِنْ التَّنْعِيمِ فَإِذَا هَبَطْتَ بِهَا مِنْ الْأَكَمَةِ فَمُرْهَا فَلْتُحْرِمْ فَإِنَّهَا عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اس اونٹنی پر سوار ہو، پیچھے اپنی بہن کو بٹھاؤ، جب تنعیم کے ٹیلے سے اترو تلبیہ و احرام کر کے واپس آجاؤ یعنی عمرہ کرا لاؤ، کہ یہ مقبول عمرہ ہوگا۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً أَوْ قَالَ أَمْ هِبَةً قَالَ لَا بَلْ بَيْعٌ فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى قَالَ وَايْمُ اللَّهِ مَا مِنْ الثَّلَاثِينَ وَالْمِائَةِ إِلَّا قَدْ حَزَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ قَالَ وَجَعَلَ مِنْهَا قَصْعَتَيْنِ قَالَ فَأَكَلْنَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ فَحَمَلْنَاهُ عَلَى بَعِيرٍ أَوْ كَمَا قَالَ
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ہم ایک سو تیس آدمی تھے، نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی کے پاس کچھ کھانا ہے؟ ایک آدمی کے پاس سے ایک صاع آٹا نکلا، اسے گوندھا گیا، اتنی دیر میں ایک موٹا تازہ لمبا تڑنگا مشرک ایک بکری ہانکتا ہوا لایا، نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ یہ بیچنے کے لئے لائے ہو یا ہدیہ کے طور پر لائے ہو؟ اس نے کہا کہ بیچنے کے لئے، نبی ﷺ نے اس سے وہ بکری خرید لی اور اسے بھی تیار کیا جانے لگا۔ نبی ﷺ نے اس موقع پر یہ حکم بھی دیا کہ اس کی کلیجی بھون لی جائے، بخدا! ہم ایک سو تیس آدمیوں میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جسے نبی ﷺ نے کلیجی کی بوٹی کاٹ کر نہ دی ہو، جو موجود تھے انہیں اسی وقت اور جو موجود نہیں تھے ان کے لئے بچا کر رکھ لی، پھر دو بڑے پیالوں میں کھانا نکالا، ہم سب نے کھایا اور خوب سیر ہو کر کھایا لیکن پیالوں میں پھر بھی کچھ بچ گیا، ہم نے اسے اپنے اونٹ پر لاد لیا۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّةً مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ بِسَادِسٍ أَوْ كَمَا قَالَ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ فَانْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ وَأَبُو بَكْرٍ بِثَلَاثَةٍ قَالَ فَهُوَ أَنَا وَأَبِي وَأُمِّي وَلَا أَدْرِي هَلْ قَالَ وَامْرَأَتِي وَخَادِمٌ بَيْنَ بَيْتِنَا وَبَيْتِ أَبِي بَكْرٍ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَتَّى صَلَّيْتُ الْعِشَاءَ ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى نَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بَعْدَمَا مَضَى مِنْ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ مَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ أَوْ قَالَتْ ضَيْفِكَ قَالَ أَوَمَا عَشَّيْتِهِمْ قَالَتْ أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ قَدْ عَرَضُوا عَلَيْهِمْ فَغَلَبُوهُمْ قَالَ فَذَهَبْتُ أَنَا فَاخْتَبَأْتُ قَالَ يَا غُنْثَرُ أَوْ يَا عَنْتَرُ فَجَدَّعَ وَسَبَّ وَقَالَ كُلُوا لَا هَنِيًّا وَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا قَالَ وَحَلَفَ الضَّيْفُ أَنْ لَا يَطْعَمَهُ حَتَّى يَطْعَمَهُ أَبُو بَكْرٍ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ هَذِهِ مِنْ الشَّيْطَانِ قَالَ فَدَعَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ قَالَ فَايْمُ اللَّهِ مَا كُنَّا نَأْخُذُ مِنْ لُقْمَةٍ إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرَ مِنْهَا قَالَ حَتَّى شَبِعُوا وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هِيَ كَمَا هِيَ أَوْ أَكْثَرُ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هَذَا قَالَتْ لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي لَهِيَ الْآنَ أَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلَاثِ مِرَارٍ فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ الشَّيْطَانِ يَعْنِي يَمِينَهُ ثُمَّ أَكَلَ لُقْمَةً ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ فَمَضَى الْأَجَلُ فَعَرَّفْنَا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا مَعَ كُلِّ رَجُلٍ أُنَاسٌ اللَّهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ غَيْرَ أَنَّهُ بَعَثَ مَعَهُمْ فَأَكَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ أَوْ كَمَا قَالَ
حضرت عبدالرحمن ؓ سے مروی ہے کہ اصحاب صفہ تنگدست لوگ تھے، ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ اپنے ساتھ تیسرے کو لے جائے، جس کے پاس چار کا کھانا ہو وہ پانچویں چھٹے کو لے جائے، حضرت صدیق اکبر ؓ اپنے ساتھ تین آدمیوں کو لے گئے اور نبی ﷺ دس افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ عبدالرحمن ؓ کہتے ہیں کہ میرے گھر میں میرے علاوہ والدین (غالبا بیوی کا بھی ذکر کیا) اور ایک خادم رہتا تھا جو ہمارے درمیان مشترک تھا، اس دن حضرت صدیق اکبر ؓ نے شام کا وقت نبی ﷺ کے پاس گذارا، رات کو جب وہ واپس آئے تو والدہ نے ان سے کہا کہ آج رات آپ اپنے مہمانوں کو بھول کر کہاں رہے؟ انہوں نے فرمایا کیا تم نے انہیں رات کا کھانا نہیں کھلایا، انہوں نے کہا نہیں! میں نے تو ان کے سامنے کھانا لاکر پیش کردیا تھا لیکن انہوں نے ہی کھانے سے انکار کردیا، میں جا کر ایک جگہ چھپ گیا، حضرت صدیق اکبر ؓ نے مجھے سخت سست کہتے ہوئے آوازیں دیں، پھر مہمانوں سے فرمایا کھاؤ، تم نے اچھا نہیں کیا اور قسم کھائی کہ وہ کھانا نہیں کھائیں گے، مہمانوں نے بھی قسم کھالی کہ وہ اس وقت تک نہیں کھائیں گے جب تک حضرت ابوبکر ؓ نہیں کھائیں گے، جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ یہ تو شیطان کی طرف سے ہوگیا ہے۔ پھر انہوں نے کھانا منگوایا اور خود بھی کھایا اور مہمانوں نے بھی کھایا، یہ لوگ جو لقمہ بھی اٹھاتے تھے، اس میں نیچے سے مزید اضافہ ہوجاتا تھا، حتی کہ وہ سب سیراب ہوگئے اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ بچ رہا، حضرت ابوبکر ؓ نے اپنی اہلیہ کو مخاطب کر کے فرمایا اے بنو فراس کی بہن! یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے کہا اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک! یہ تو اصل مقدار سے بھی تین گنا زیادہ ہوگیا ہے، چناچہ ان سب نے یہ کھانا کھایا اور نبی ﷺ کو بھی بھجوایا اور راوی نے ذکر کیا کہ ہمارے اور ایک قوم کے درمیان ایک معاہدہ تھا، اس کی مدت ختم ہوگئی، ہم نے بارہ آدمیوں کو چوہدری مقرر کیا جن میں سے ہر ایک کے ساتھ کچھ آدمی تھے، جن کی صحیح تعداد اللہ ہی کو معلوم ہے، التبہ یہ واضح ہے کہ وہ بھی ان کے ساتھ شامل تھے اور ان سب نے بھی اس کھانے کو کھایا۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَلَاثَةٍ وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ بِسَادِسٍ أَوْ كَمَا قَالَ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ وَانْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ قَالَ فَهُوَ وَأَنَا وَأَبِي وَأُمِّي وَلَا أَدْرِي هَلْ قَالَ امْرَأَتِي وَخَادِمٌ بَيْنَ بَيْتِنَا وَبَيْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ سے مروی ہے کہ اصحاب صفہ تنگدست لوگ تھے، ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ اپنے ساتھ تیسرے کو لے جائے، جس کے پاس چار کا کھانا ہو وہ پانچویں چھٹے کو لے جائے، حضرت صدیق اکبر ؓ اپنے ساتھ تین آدمیوں کو لے گئے اور نبی ﷺ دس افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ عبدالرحمن ؓ کہتے ہیں کہ میرے گھر میں میرے علاوہ والدین، (غالبا بیوی کا بھی ذکر کیا) اور ایک خادم رہتا تھا جو ہمارے درمیان مشترک تھا۔