حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ جَارِيَةَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْحَكَمِ أَبِي الْحَجَّاجِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص قریش کو ذلیل کرنا چاہے گا اللہ اسے ذلیل کر دے گا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ مَرَّةً أُخْرَى حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ جَارِيَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يُرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ أَهَانَهُ اللَّهُ
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص قریش کو ذلیل کرنا چاہے گا اللہ اسے ذلیل کر دے گا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ لَقَدْ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ فِيهِ لَاخْتَصَيْنَا
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون ؓ نے گوشہ نشینی اختیار کرنا چاہیے لیکن نبی ﷺ نے انہیں اس کی اجازت نہ دی، اگر نبی ﷺ انہیں اس چیز کی اجازت دے دیتے تو ہم بھی کم از کم اپنے آپ کو خصی کرلیتے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ
حضرت سعد ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے قطع کلامی کرے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى فَقَالَ أَصْحَابِي قَدْ قُلْتَ هُجْرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ قَرِيبًا وَإِنِّي حَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ انْفُثْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلَاثًا وَتَعَوَّذْ وَلَا تَعُدْ
حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے لات اور عزی کی قسم کھالی، میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا کہ تم نے بےہودہ بات کہی، میں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں نے ابھی نیا نیا اسلام قبول کیا ہے، میری زبان سے لات اور عزی کے نام کی قسم نکل گئی ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا تین مرتبہ یہ کہہ لو " لاالہ الا اللہ وحدہ " اور بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دو اور اعوذ باللہ پڑھ لو اور آئندہ ایسے مت کہنا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَأَكَلَ فَفَضَلَ مِنْهُ فَضْلَةٌ فَقَالَ يَدْخُلُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَأْكُلُ هَذِهِ الْفَضْلَةَ قَالَ سَعْدٌ وَقَدْ كُنْتُ تَرَكْتُ أَخِي عُمَيْرَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَتَهَيَّأُ لِأَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَمِعْتُ أَنْ يَكُونَ هُوَ فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَأَكَلَهَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَمَرَرْتُ بِعُوَيْمِرِ بْنِ مَالِكٍ
حضرت سعد ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا، نبی ﷺ نے اس میں موجود کھانا تناول فرمایا: اس میں سے کچھ بچ گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اس راہداری سے ابھی ایک جنتی آدمی آئے گا جو یہ بچا ہوا کھانا کھائے گا، حضرت سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے بھائی عمیر کو وضو کرتا ہوا چھوڑ کر آیا تھا، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہاں سے عمیر ہی آئے گا، لیکن وہاں سے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ آئے اور انہوں نے وہ کھانا کھایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظُ أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مَدِينَتِهِمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَإِنِّي عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَإِنَّ إِبْرَاهِيمَ سَأَلَكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَإِنِّي أَسْأَلُكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ كَمَا سَأَلَكَ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ إِنَّ الْمَدِينَةَ مُشَبَّكَةٌ بِالْمَلَائِكَةِ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ مَنْ أَرَادَهَا بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ
حضرت سعد ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! اہل مدینہ کے لئے ان کا مدینہ مبارک فرما اور ان کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما، اے اللہ! ابراہیم آپ کے بندے اور خلیل تھے اور میں آپ کا بندہ اور رسول ہوں، ابراہیم نے آپ سے اہل مکہ کے لئے دعاء مانگی تھی، میں آپ سے اہل مدینہ کے لئے دعا مانگ رہا ہوں۔ پھر فرمایا کہ مدینہ منورہ ملائکہ جال میں جکڑا ہوا ہے، اس کے ہر سوراخ پر دو فرشتے اس کی حفاظت کے لئے مقر رہیں، یہاں طاعون اور دجال داخل نہیں ہوسکتے، جو اس کے ساتھ کوئی ناپاک ارادہ کرے گا، اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جیسے نمک پانی پگھل جاتا ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَضْرِبُ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ يَقُولُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا ثُمَّ نَقَصَ أُصْبُعَهُ فِي الثَّالِثَةِ
حضرت سعد ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، اس وقت آپ ﷺ اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ مہینہ بعض اوقات اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے، تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کی دس انگلیوں میں سے ایک انگلی کو بند کرلیا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا عَشْرٌ وَعَشْرٌ وَتِسْعٌ مَرَّةً
حضرت سعد ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مہینہ بعض اوقات اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے، تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کی دس انگلیوں میں سے ایک انگلی کو بند کرلیا (مراد 29 کا مہینہ ہونا ہے)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الطَّالَقَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي تِسْعًا وَعِشْرِينَ
حضرت سعد ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مہینہ بعض اوقات اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے، تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کی دس انگلیوں میں سے ایک انگلی کو بند کرلیا (مراد 29 کا مہینہ ہونا ہے)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا يَأْكُلُ الْبَقَرُ بِأَلْسِنَتِهَا
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب ایک ایسی قوم آئے گی جو اپنی زبان (چرب لسانی) کے بل بوتے پر کھائے گی جیسے گائے زمین سے اپنی زبان کے ذریعے کھانا کھاتی ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ حَفْصٍ فَذَكَرَ قِصَّةً قَالَ سَعْدٌ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِعْمَ الْمِيتَةُ أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ دُونَ حَقِّهِ
حضرت سعد ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بہترین موت یہ ہے کہ انسان حق کی خاطر مرجائے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ عَمِّهِ جَرِيرٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ لَا قُلْتُ فَثُلُثَيْهِ قَالَ لَا قُلْتُ فَنِصْفَهُ قَالَ لَا قُلْتُ فَالثُّلُثَ قَالَ الثُّلُثَ وَالثُّلُثُ كَبِيرٌ أَحَدُكُمْ يَدَعُ أَهْلَهُ بِخَيْرٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَدَعَهُمْ عَالَةً عَلَى أَيْدِي النَّاسِ
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سارے مال کو اللہ کے راستہ میں دینے کی وصیت کرسکتا ہوں؟ فرمایا نہیں، انہوں نے دو تہائی مال کی وصیت کے بارے پوچھا، نبی ﷺ نے پھر منع فرما دیا، انہوں نے نصف کے متعلق پوچھا تب بھی منع فرما دیا، پھر جب ایک تہائی مال کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا ہاں! ایک تہائی مال کی وصیت کرسکتے ہو اور یہ ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے، یاد رکھو! کہ تم اپنے اہل خانہ کو اچھی حالت میں چھوڑ کر جاؤ، یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ تم انہیں اس حال میں چھوڑ جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوجائیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدٍ قَالَ لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ خَلَّفَ عَلِيًّا فَقَالَ لَهُ أَتُخَلِّفُنِي قَالَ لَهُ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
حضرت سعد ؓ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ نے حضرت علی ؓ کو غزوہ تبوک میں مدینہ منورہ پر اپنا نائب مقرر کر کے وہاں چھوڑ دیا تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں کے پاس چھوڑ جائیں گے؟ نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو سوائے نبوت کے جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تھی۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا قَالَ فِي مَرَضِهِ إِذَا أَنَا مُتُّ فَالْحَدُوا لِي لَحْدًا وَاصْنَعُوا مِثْلَ مَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے اپنی آخری وصیت میں فرمایا تھا کہ جب میں مرجاؤں تو میری قبر کو لحد کی صورت میں بنانا اور اسی طرح کرنا جیسے نبی ﷺ کے ساتھ کیا گیا تھا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ قَالَ الْحَدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَيَّ نَصْبًا كَمَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے اپنی آخری وصیت میں فرمایا تھا کہ میری قبر کو لحد کی صورت میں بنانا اور اس پر کچی اینٹیں نصب کرنا جیسے نبی ﷺ کے ساتھ کیا گیا تھا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ طُفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا مَنْ طَافَ سَبْعًا وَمِنَّا مَنْ طَافَ ثَمَانِيًا وَمِنَّا مَنْ طَافَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَرَجَ
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم طواف میں نبی ﷺ کے ساتھ شریک تھے، ہم میں سے بعض نے طواف میں سات چکر لگائے، بعض نے آٹھ اور بعض نے اس سے بھی زیادہ، لیکن نبی ﷺ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مَنْ هَارُونَ أَنَّ أَبَا حَازِمٍ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنٍ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ الْإِيمَانَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ فَطُوبَى يَوْمَئِذٍ لِلْغُرَبَاءِ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ لَيَأْرِزَنَّ الْإِيمَانُ بَيْنَ هَذَيْنِ الْمَسْجِدَيْنِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ فِي جُحْرِهَا
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایمان کا آغاز بھی اس حال میں ہوا تھا کہ وہ اجنبی تھا اور عنقریب یہ اسی حال پر لوٹ جائے گا جیسے اس کا آغاز ہوا تھا، اس موقع پر جب لوگوں میں فساد پھیل جائے گا غرباء کے لئے خوشخبری ہوگی، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں ابوالقاسم کی جان ہے ایمان ان دو مسجدوں کے درمیان اس طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ
حضرت سعد ابن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سوائے مسجد حرام کے دوسری مسجدوں کی نسبت میری اس مسجد میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب ایک ہزار نمازوں سے بڑھ کر ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ حَرَمَهُ لَا يُقْطَعُ عِضَاهُهَا وَلَا يُقْتَلُ صَيْدُهَا وَلَا يَخْرُجُ مِنْهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَهَا اللَّهُ خَيْرًا مِنْهُ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَلَا يُرِيدُهُمْ أَحَدٌ بِسُوءٍ إِلَّا أَذَابَهُ اللَّهُ ذَوْبَ الرَّصَاصِ فِي النَّارِ أَوْ ذَوْبَ الْمِلْحِ فِي الْمَاءِ
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں مدینہ منورہ کے دو کناروں کے درمیان کی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں، جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا، اس لئے یہاں کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے اور نہ یہ یہاں کا جانور شکار کیا جائے، یہاں سے کوئی شخص بھی اگر بےرغبتی کی وجہ سے چلا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ اس سے بہتر شخص کو وہاں آباد فرما دیتے ہیں اور لوگوں کے لئے مدینہ ہی سب سے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے اور جو شخص بھی اہل مدینہ کے ساتھ برا ارادہ کرے گا، اسے اللہ اسی طرح پگھلا دے گا جیسے تانبا آگ میں یا نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔