حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ أَرَادَ ابْنُ مَعْمَرٍ أَنْ يُنْكِحَ ابْنَهُ ابْنَةَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ فَبَعَثَنِي إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَوْسِمِ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ أَخَاكَ أَرَادَ أَنْ يُنْكِحَ ابْنَهُ فَأَرَادَ أَنْ يُشْهِدَكَ ذَاكَ فَقَالَ أَلَا أُرَاهُ عِرَاقِيًّا جَافِيًا إِنَّ الْمُحْرِمَ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكِحُ ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمِثْلِهِ يَرْفَعُهُ
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ ابن معمر نے شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے اپنے بیٹے کے نکاح کا پروگرام دوران حج بنایا اور مجھے ابان بن عثمان (رح) کے پاس جو کہ امیر حج تھے بھیجا، میں نے ان کے پاس جا کر کہا کہ آپ کے بھائی اپنے بیٹے کا نکاح کرنا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ آپ بھی اس میں شرکت کریں، انہوں نے کہا کہ میں تو اسے عراقی دیہاتی نہیں سمجھتا تھا، یاد رکھو! محرم نکاح کرسکتا ہے اور نہ کسی کا نکاح کرا سکتا ہے پھر انہوں نے حضرت عثمان ؓ کے حوالے سے اس مضمون کی حدیث سنائی۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ فَغَسَلَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ سَقَطَتْ خَطَايَاهُ يَعْنِي مِنْ وَجْهِهِ وَيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ وَرَأْسِهِ
حمران کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ نے بنچ پر بیٹھ کر وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا اور فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص میری طرح ایسا وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو اس کے گناہ اس کے چہرے، ہاتھوں، پاؤں اور سر سے جھڑ جاتے ہیں۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ عَيْنَيْهِ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُفْيَانُ وَهُوَ أَمِيرٌ مَا يَصْنَعُ بِهِمَا قَالَ قَالَ ضَمَّدَهُمَا بِالصَّبِرِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ کی آنکھیں دکھنے لگیں تو حضرت ابان بن عثمان ؓ سے یہ مسئلہ دریافت کیا کہ وہ کیا کریں؟ انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ صبر کا سرمہ لگا سکتا ہے (صبر کرے جب تک احرام نہ کھل جائے، سرمہ نہ لگائے) کیونکہ میں نے حضرت عثمان غنی ؓ کو نبی ﷺ کے حوالے سے ایسی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ بْنِ مَنَّاحٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى جَنَازَةً مُقْبِلَةً فَلَمَّا رَآهَا قَامَ وَقَالَ رَأَيْتُ عُثْمَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ
ابان بن عثمان (رح) نے ایک جنازے کو دیکھا تو کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی ؓ کی نظر ایک جنازے پر پڑی تو وہ بھی کھڑے ہوگئے تھے اور انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے بھی جنازے کو دیکھا تو کھڑے ہوگئے تھے۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عُثْمَانَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يَخْطُبُ
حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا محرم خود نکاح کرے اور نہ کسی سے پیغام نکاح بھیجے۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ رَجُلٍ مِنْ الْحَجَبَةِ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ أَوْ قَالَ فِي الْمُحْرِمِ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَهُ أَنْ يُضَمِّدَهَا بِالصَّبِرِ
حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے محرم کے متعلق فرمایا ہے کہ اگر اس کی آنکھیں دکھنے لگیں تو صبر کا سرمہ لگا لے۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ عَنْ حُمْرَانَ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ
حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص اس حال میں مرا کہ اسے اس بات کا یقین تھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَارِسِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قُلْتُ لِعُثْمَانَ مَا حَمَلَكُمْ عَلَى أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى سُورَةِ الْأَنْفَالِ وَهِيَ مِنْ الْمَثَانِي وَإِلَى سُورَةِ بَرَاءَةٌ وَهِيَ مِنْ الْمِئِينَ فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا وَلَمْ تَكْتُبُوا بَيْنَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَوَضَعْتُمُوهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ فَمَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَأْتِي عَلَيْهِ الزَّمَانُ وَهُوَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ مِنْ السُّوَرِ ذَوَاتِ الْعَدَدِ فَكَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الشَّيْءُ دَعَا بَعْضَ مَنْ يَكْتُبُ لَهُ فَيَقُولُ ضَعُوا هَذِهِ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا وَإِذَا أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْآيَاتُ قَالَ ضَعُوا هَذِهِ الْآيَاتِ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا وَإِذَا أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْآيَةُ قَالَ ضَعُوا هَذِهِ الْآيَةَ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا وَكَانَتْ سُورَةُ الْأَنْفَالِ مِنْ أَوَائِلِ مَا نَزَلَ بِالْمَدِينَةِ وَكَانَتْ سُورَةُ بَرَاءَةٌ مِنْ أَوَاخِرِ مَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ فَكَانَتْ قِصَّتُهَا شَبِيهًا بِقِصَّتِهَا فَظَنَنَّا أَنَّهَا مِنْهَا وَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ قَرَنْتُ بَيْنَهُمَا وَلَمْ أَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَوَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عثمان غنی ؓ سے عرض کیا کہ آپ لوگوں نے سورت انفال کو جو مثانی میں سے ہے سورت برائۃ کے ساتھ جو کہ مئین میں سے ہے ملانے پر کس چیز کی وجہ سے اپنے آپ کو مجبور پایا اور آپ نے ان کے درمیان ایک سطر کی بسم اللہ تک نہیں لکھی اور ان دونوں کو سبع طوال میں شمار کرلیا آپ نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت عثمان غنی ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ پر جب وحی کا نزول ہو رہا تھا تو بعض اوقات کئی کئی سورتیں اکٹھی نازل ہوجاتی تھیں اور نبی ﷺ کی عادت تھی کہ جب کوئی وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ اپنے کسی کاتب وحی کو بلا کر اسے لکھواتے اور فرماتے کہ اسے فلاں سورت میں فلاں جگہ رکھو، بعض اوقات کئی آیتیں نازل ہوئیں اس موقع پر آپ ﷺ بتا دیتے کہ ان آیات کو اس سورت میں رکھو اور بعض اوقات ایک ہی آیت نازل ہوتی لیکن اس کی جگہ بھی آپ ﷺ بتادیا کرتے تھے۔ سورت انفال مدینہ منورہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی، جبکہ سورت برائۃ نزول کے اعتبار سے قرآن کریم کا آخری حصہ ہے اور دونوں کے واقعات و احکام ایک دوسرے سے حد درجہ مشابہت رکھتے تھے، ادھر نبی صلی اللہ دنیا سے رخصت ہوگئے اور ہم پر یہ واضح نہ فرما سکے کہ یہ اس کا حصہ ہے یا نہیں؟ میرا گمان یہ ہوا کہ سورت برائۃ، سورت انفال ہی کا جزو ہے اس لئے میں نے ان دونوں کو ملا دیا اور ان دونوں کے درمیان، بسم اللہ، والی سطر بھی نہیں لکھی اور اسے سبع طوال میں شمار کرلیا۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُفْيَانُ أَفْضَلُكُمْ وَقَالَ شُعْبَةُ خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سب سے افضل اور بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ قَالَ قَالَ قَيْسٌ فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ حِينَ حُصِرَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ قَالَ قَيْسٌ فَكَانُوا يَرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ
ابو سہلہ کہتے ہیں کہ جس دن حضرت عثمان غنی ؓ کا محاصرہ ہوا اور وہ " یوم الدار " کے نام سے مشہور ہوا، انہوں نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا، میں اس پر ثابت قدم اور قائم ہوں۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَبَاحٌ قَالَ زَوَّجَنِي مَوْلَايَ جَارِيَةً رُومِيَّةً فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَسَمَّيْتُهُ عَبْدَ اللَّهِ ثُمَّ وَقَعْتُ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَسَمَّيْتُهُ عُبَيْدَ اللَّهِ ثُمَّ طَبِنَ لِي غُلَامٌ رُومِيٌّ قَالَ حَسِبْتُهُ قَالَ لِأَهْلِي رُومِيٌّ يُقَالُ لَهُ يُوحَنَّسُ فَرَاطَنَهَا بِلِسَانِهِ يَعْنِي بِالرُّومِيَّةِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا أَحْمَرَ كَأَنَّهُ وَزَغَةٌ مِنْ الْوَزَغَاتِ فَقُلْتُ لَهَا مَا هَذَا فَقَالَتْ هَذَا مِنْ يُوحَنَّسَ قَالَ فَارْتَفَعْنَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَقَرَّا جَمِيعًا فَقَالَ عُثْمَانُ إِنْ شِئْتُمْ قَضَيْتُ بَيْنَكُمْ بِقَضِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ قَالَ حَسِبْتُهُ قَالَ وَجَلَدَهُمَا
رباح کہتے ہیں کہ میرے آقا نے اپنی ایک رومی باندی سے میری شادی کردی، میں اس کے پاس گیا تو اس سے مجھ جیسا ہی ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہوگیا میں نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا، دوبارہ ایسا موقع آیا تو پھر ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہوگیا، میں نے اس کا نام عبیداللہ رکھ دیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ میری بیوی پر میرے آقا کا ایک رومی غلام عاشق ہوگیا جس کا نام یوحنس تھا، اس نے اسے اپنی زبان میں رام کرلیا، چناچہ اس مرتبہ جو بچہ پیدا ہوا وہ رومیوں کے رنگ کے مشابہ تھا میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ یوحنس کا بچہ ہے، ہم نے یہ معاملہ حضرت عثمان غنی ؓ کی خدمت میں پیش کیا، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہارے درمیان وہی فیصلہ کروں جو نبی ﷺ نے فرمایا تھا؟ نبی ﷺ کا فیصلہ یہ ہے کہ بچہ بستر والے کا ہوگا اور غالباً ان دونوں کو کوڑے بھی مارے۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ فِي الْمَسْجِدِ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ فَالصَّلَوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ
حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص حکم الٰہی کے مطابق اچھی طرح مکمل وضو کرے تو فرض نمازیں درمیانی اوقات کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ زَاهِرٍ أَبَا رُوَاعٍ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ فَقَالَ إِنَّا وَاللَّهِ قَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ وَكَانَ يَعُودُ مَرْضَانَا وَيَتْبَعُ جَنَائِزَنَا وَيَغْزُو مَعَنَا وَيُوَاسِينَا بِالْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ وَإِنَّ نَاسًا يُعْلِمُونِي بِهِ عَسَى أَنْ لَا يَكُونَ أَحَدُهُمْ رَآهُ قَطُّ
عباد بن زاہر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان ؓ کو ایک مرتبہ دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا بخدا! ہم لوگ سفر اور حضر میں نبی ﷺ کی ہم نشینی کا لطف اٹھاتے رہے ہیں، نبی ﷺ ہمارے بیماروں کی عیادت کرتے، ہمارے جنازہ میں شرکت کرتے ہمارے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے، تھوڑے اور زیادہ کے ساتھ ہماری غم خواری فرماتے اور اب بعض ایسے لوگ مجھے سکھانے کے لئے آتے ہیں جنہوں نے شاید نبی ﷺ کو کبھی دیکھا بھی نہ ہوگا۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي شُعَيْبٌ أَبُو شَيْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ رَأَيْتُ عُثْمَانَ قَاعِدًا فِي الْمَقَاعِدِ فَدَعَا بِطَعَامٍ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ فَأَكَلَهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى ثُمَّ قَالَ عُثْمَانُ قَعَدْتُ مَقْعَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْتُ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ وَصَلَّيْتُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیعد بن مسیب (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عثمان غنی ؓ کو بنچوں پر بیٹھا ہوا دیکھا، انہوں نے آگ پر پکا ہوا کھانا منگوایا اور کھانے لگے، پھر یوں ہی کھڑے ہو کر تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھ لی اور فرمایا میں نبی ﷺ کی طرح بیٹھا، نبی ﷺ نے جو کھایا، وہی کھایا اور جس طرح نبی ﷺ نے نماز پڑھی، میں نے بھی اسی طرح نماز پڑھی۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَبْنِيَ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَكَرِهَ النَّاسُ ذَاكَ وَأَحَبُّوا أَنْ يَدَعُوهُ عَلَى هَيْئَتِهِ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ
محمود بن لبید کہتے ہیں کہ حضر عثمان غنی ؓ نے جب مسجد نبوی کی توسیع کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اس پر خوشی کا اظہار کرنے کی بجائے اسے پرانی ہیئت پر برقرار رکھنے کو زیادہ پسند کیا، لیکن حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی رضا کے لئے مسجد کی تعمیر میں حصہ لیتا ہے اللہ اسی طرح کا ایک گھر اس کے لئے جنت میں تعمیر کردیتا ہے۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَعَمَّدَ عَلَيَّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ
حضرت عثمان غنی ؓ سے مری ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت میری طرف کرتا ہے، وہ جہنم میں اپنا گھر تیار کرلے۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ فَرُّوخَ مَوْلَى الْقُرَشِيِّينَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْخَلَ اللَّهُ رَجُلًا الْجَنَّةَ كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا وَبَائِعًا وَقَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا
حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں ضرور داخل کرے گا جو نرم خو ہو خواہ خریدار ہو یا دکاندار، ادا کرنے والا ہو یا تقاضا کرنے والا۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ قَالَ وَلِمَ تَقْتُلُونَنِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا
حضرت ابو امامہ بن سہل ؓ سے مروی ہے کہ جن دنوں حضرت عثمان غنی ؓ اپنے گھر میں محصور تھے، ہم ان کے ساتھ ہی تھے فرمانے لگے کہ بھلا کس جرم میں یہ لوگ مجھے قتل کریں گے؟ جب کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین میں سے کسی ایک صورت کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں ہے یا تو وہ آدمی جو اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجائے یا شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے یا قاتل ہو اور مقتول کے عوض اسے قتل کردیا جائے۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُصَلِّيَانِ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ثُمَّ يَنْصَرِفَانِ يُذَكِّرَانِ النَّاسَ قَالَ وَسَمِعْتُهُمَا يَقُولَانِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ
ابوعبید (رح) کہتے ہیں کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی دونوں موقعوں پر مجھے حضرت عثمان غنی ؓ اور حضرت علی ؓ کے ساتھ شریک ہونے کا موقع ملا ہے، یہ دونوں حضرات پہلے نماز پڑھاتے تھے، پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو نصیحت کرتے تھے، میں نے ان دونوں حضرات کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں دنوں کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
قَالَ وَسَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْقَى مِنْ نُسُكِكُمْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ بَعْدَ ثَلَاثٍ
اور میں نے حضرت علی ؓ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نے قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا ہے۔