Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 23 of 1,321

441Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ يُرِيدُ سَفَرًا أَوْ غَيْرَهُ فَقَالَ حِينَ يَخْرُجُ بِسْمِ اللَّهِ آمَنْتُ بِاللَّهِ اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِلَّا رُزِقَ خَيْرَ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ وَصُرِفَ عَنْهُ شَرُّ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ

حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مسلمان اپنے گھر سے نکلتے وقت خواہ سفر کے ارادے سے یا ویسے ہی یہ دعاء پڑھ لے بسم اللہ آمنت باللہ، اعتصمت باللہ، توکلت علی اللہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ، تو اسے اس کی خیر عطاء فرمائی جائے گی اور اس نکلنے کے شر سے اس کی حفاظت کی جائے گی۔

442Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ غَسْلًا

حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ نے تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا اور پاؤں کو اچھی طرح دھویا۔

443Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ وَأَنَا قَائِمٌ مَعَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَالصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ

حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص حکم الٰہی کے مطابق اچھی طرح مکمل وضو کرے تو فرض نمازیں درمیانی اوقات کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی۔

444Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ فِي أَوَّلِ يَوْمِهِ أَوْ فِي أَوَّلِ لَيْلَتِهِ بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ أَوْ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ

حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص دن یا رات کے آغاز میں یہ دعا تین مرتبہ پڑھ لیا کرے اسے اس دن یا رات میں کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمہ شیء فی الارض و لا فی السماء وہو السمیع العلیم

445Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا أَبُو سِنَانٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اقْضِ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ لَا أَقْضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَلَا أَؤُمُّ رَجُلَيْنِ أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَقَدْ عَاذَ بِمَعَاذٍ قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَلَى قَالَ فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تَسْتَعْمِلَنِي فَأَعْفَاهُ وَقَالَ لَا تُخْبِرْ بِهَذَا أَحَدًا

یزید بن موہب کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی ؓ نے حضرت ابن عمر ؓ کو قاضی بننے کی پیشکش کی، انہوں نے فرمایا کہ میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کروں گا اور نہ ہی امامت کروں گا، کیا آپ نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا جو اللہ کی پناہ میں آجائے وہ مکمل طور پر محفوظ ہوجاتا ہے؟ فرمایا کیوں نہیں! اس پر حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا پھر میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی عہدہ دیں، چناچہ حضرت عثمان ؓ نے انہیں چھوڑ دیا اور فرمایا کسی کو اس بارے میں مت بتائیے۔

446Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ حُمْرَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ

حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے تو اس کے جسم سے اس کے گناہ نکل جاتے ہیں، حتی کہ اس کے ناخن کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔

447Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَاه سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ سَنَةَ سِتٍّ وَعِشْرِينَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ هَجِّرُوا فَإِنِّي مُهَجِّرٌ فَهَجَّرَ النَّاسُ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ مَا تَكَلَّمْتُ بِهِ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِي هَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رِبَاطَ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ مِمَّا سِوَاهُ فَلْيُرَابِطْ امْرُؤٌ حَيْثُ شَاءَ هَلْ بَلَّغْتُكُمْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ

ابوصالح جو حضرت عثمان ؓ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی ؓ نے فرمایا لوگو! روانہ ہوجاؤ کیونکہ میں بھی روانہ ہونے لگاہوں، لوگ روانہ ہونے لگے تو فرمایا کہ میں نے اب تک نبی ﷺ سے سنی ہوئی ایک حدیث تم سے بیان نہیں کی، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں ایک دن کی پہرہ داری دوسری جگہوں پر ہزار دن کی پہرہ داری سے بھی افضل ہے، اس لئے جو شخص چاہے وہ پہرہ داری کرے، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا جی ہاں! فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ۔

448Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمْرَانَ قَالَ كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَاعِدًا فِي الْمَقَاعِدِ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فِي مَقْعَدِي هَذَا ثُمَّ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَغْتَرُّوا

حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی ؓ بنچ پر بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے پانی منگوا کر خوب اچھی طرح وضو کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو اسی جگہ بہترین انداز میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور مسجد میں آکر دو رکعت نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ تمام گناہ معاف فرمادے گا، نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا دھوکے کا شکار نہ ہوجانا۔

449Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْذِرِ أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ هَلْ أَنْتَ مُنْتَهٍ عَمَّا بَلَغَنِي عَنْكَ فَاعْتَذَرَ بَعْضَ الْعُذْرِ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَيْحَكَ إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ وَحَفِظْتُ وَلَيْسَ كَمَا سَمِعْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيُقْتَلُ أَمِيرٌ وَيَنْتَزِي مُنْتَزٍ وَإِنِّي أَنَا الْمَقْتُولُ وَلَيْسَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّمَا قَتَلَ عُمَرَ وَاحِدٌ وَإِنَّهُ يُجْتَمَعُ عَلَيَّ

ابو عون انصاری کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود ؓ سے ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی ؓ نے درخواست کی کہ آپ کے حوالے سے مجھے جو باتیں معلوم ہوئی ہیں، آپ ان سے رک جائیے، حضرت ابن مسعود ؓ نے ان کے سامنے کچھ عذر پیش کئے، حضرت عثمان ؓ نے فرمایا افسوس! میں نے اس بات کو سنا بھی ہے اور محفوظ بھی کیا ہے خواہ آپ نے نہ سنا ہو کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا ایک حکمران قتل کیا جائے گا اور شر پھیلانے والے اس میں جلد بازی کریں گے، یاد رکھو! وہ مقتول ہونے والا امیر میں ہی ہوں، اس سے مراد حضرت عمر ؓ نہیں ہیں، کیونکہ انہیں تو صرف ایک آدمی نے شہید کیا تھا، جب کہ مجھ پر یہ سب مل کر حملہ کرنے والے ہیں۔

450Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَهُ ابْنَ أَخِي أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ لَا وَلَكِنْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ وَالْيَقِينِ مَا يَخْلُصُ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا قَالَ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ فَكُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَآمَنَ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ هَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ كَمَا قُلْتُ وَنِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

عبیداللہ بن عدی بن الخیار کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی ؓ نے ان سے فرمایا بھتیجے! کیا تم نے نبی ﷺ کو پایا ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں! البتہ ان کے حوالے سے خالص معلومات اور ایسا یقین ضرور میرے پاس ہیں جو کنواری دوشیزہ کو اپنے پردے میں ہوتا ہے، اس پر حضرت عثمان ؓ نے حمدوثناء اور اقرار شہادتین کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا: اللہ و رسول کی دعوت پر لبیک کہنے والوں میں بھی تھا، نیز نبی ﷺ کی شریعت پر ایمان لانے والوں میں، میں بھی تھا، پھر میں نے حبشہ کی طرف دونوں مرتبہ ہجرت کی، مجھے نبی ﷺ کی دامادی کا شرف بھی حاصل ہوا اور میں نے نبی ﷺ کے دست حق پر بیعت بھی کی ہے، اللہ کی قسم! میں نے کبھی ان کی نافرمانی کی اور نہ ہی دھوکہ دیا، یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔

451Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ إِنَّكَ إِمَامُ الْعَامَّةِ وَقَدْ نَزَلَ بِكَ مَا تَرَى وَإِنِّي أَعْرِضُ عَلَيْكَ خِصَالًا ثَلَاثًا اخْتَرْ إِحْدَاهُنَّ إِمَّا أَنْ تَخْرُجَ فَتُقَاتِلَهُمْ فَإِنَّ مَعَكَ عَدَدًا وَقُوَّةً وَأَنْتَ عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ وَإِمَّا أَنْ نَخْرِقَ لَكَ بَابًا سِوَى الْبَابِ الَّذِي هُمْ عَلَيْهِ فَتَقْعُدَ عَلَى رَوَاحِلِكَ فَتَلْحَقَ بِمَكَّةَ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّوكَ وَأَنْتَ بِهَا وَإِمَّا أَنْ تَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَّا أَنْ أَخْرُجَ فَأُقَاتِلَ فَلَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ خَلَفَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ بِسَفْكِ الدِّمَاءِ وَأَمَّا أَنْ أَخْرُجَ إِلَى مَكَّةَ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّونِي بِهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُلْحِدُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ يَكُونُ عَلَيْهِ نِصْفُ عَذَابِ الْعَالَمِ فَلَنْ أَكُونَ أَنَا إِيَّاهُ وَأَمَّا أَنْ أَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ فَلَنْ أُفَارِقَ دَارَ هِجْرَتِي وَمُجَاوَرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ يُلْحِدُ

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی ؓ کے یہاں آئے، ان دنوں باغیوں نے ان کا محاصرہ کر رکھا تھا اور آکر عرض کیا کہ آپ مسلمانوں کے عمومی حکمران ہیں، آپ پر جو پریشانیاں آرہی ہیں، وہ بھی نگاہوں کے سامنے ہیں، میں آپ کے سامنے تین درخواستیں رکھتا ہوں، آپ کسی ایک کو اختیار کرلیجئے یا تو آپ باہر نکل کر ان باغیوں سے قتال کریں، آپ کے پاس افراد بھی ہیں، طاقت بھی ہے اور آپ برحق بھی ہیں اور یہ لوگ باطل پر ہیں یا جس دروازے پر یہ لوگ کھڑے ہیں، آپ اسے چھوڑ کر اپنے گھر کی دیوار توڑ کر کوئی دوسرا دروازہ نکلوائیں، سواری پر بیٹھیں اور مکہ مکرمہ چلے جائیں، جب آپ وہاں ہوں گے تو یہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، یا پھر آپ شام چلے جائیے کیونکہ وہاں اہل شام کے علاوہ حضرت امیر معاویہ ؓ بھی موجود ہیں حضرت عثمان ؓ نے فرمایا جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ میں باہر نکل کر ان باغیوں سے قتال کروں تو میں نبی ﷺ کے پیچھے سب سے پہلا وہ آدمی ہرگز نہیں بنوں گا جو امت میں خونریزی کرے، رہی یہ بات کہ میں مکہ مکرمہ چلا جاؤں تو یہ میرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے تو میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قریش کا ایک آدمی مکہ مکرمہ میں الحاد پھیلائے گا، اس پر اہل دنیا کو ہونے والے عذاب کا نصف عذاب دیا جائے گا، میں وہ آدمی نہیں بننا چاہتا اور جہاں تک شام جانے والی بات ہے کہ وہاں اہل شام کے علاوہ امیر معاویہ ؓ بھی ہیں تو میں دارالہجرۃ اور نبی ﷺ کے پڑوس کو کسی صورت نہیں چھوڑ سکتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

452Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ وَنَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عُثْمَانَ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَصَلَّاهَا غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ

حضرت عثمان غنی ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص خوب اچھی طرح وضو کرے اور فرض نماز کے لئے روانہ ہو اور اسے ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ تمام گناہ معاف فرمادے گا۔

453Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ حُمْرَانَ قَالَ كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً مِنْ مُنْذُ أَسْلَمَ فَوَضَعْتُ وَضُوءًا لَهُ ذَاتَ يَوْمٍ لِلصَّلَاةِ فَلَمَّا تَوَضَّأَ قَالَ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بَدَا لِي أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمُوهُ فَقَالَ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ كَانَ خَيْرًا فَنَأْخُذُ بِهِ أَوْ شَرًّا فَنَتَّقِيهِ قَالَ فَقَالَ فَإِنِّي مُحَدِّثُكُمْ بِهِ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ هَذَا الْوُضُوءَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا كَفَّرَتْ عَنْهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى مَا لَمْ يُصِبْ مَقْتَلَةً يَعْنِي كَبِيرَةً

حمران کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی ؓ نے جب سے اسلام قبول کیا تھا، ان کا معمول تھا کہ وہ روزانہ نہایا کرتے تھے، ایک دن نماز کے لئے میں نے وضو کا پانی رکھا، جب وہ وضو کرچکے تو فرمانے لگے کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کرنا چاہتا تھا، پھر میں نے سوچا کہ نہ بیان کروں، یہ سن کر حکم بن ابی العاص نے کہا کہ امیرالمومنین! بیان کردیں، اگر خیر کی بات ہوگی تو ہم بھی اس پر عمل کرلیں گے اور اگر شر کی نشاندہی ہوگی تو ہم بھی اس سے بچ جائیں گے، فرمایا میں تم سے یہ حدیث بیان کرنے لگا تھا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اسی طرح وضو کیا اور فرمایا جو شخص اس طرح وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر نماز کے لئے کھڑا ہو اور رکوع و سجود کو اچھی طرح مکمل کرے تو یہ وضو اگلی نماز تک اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا، بشرطیکہ کسی گناہ کبیرہ کا ارتکاب نہ کرے۔

454Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يُونُسَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَدْخَلَ اللَّهُ الْجَنَّةَ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا قَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا وَبَائِعًا وَمُشْتَرِيًا

حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں ضرور داخل کرے گا جو نرم خو ہو خواہ خریدار ہو یا دکاندار، ادا کرنے والا ہو یا تقاضا کرنے والا۔

455Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّ الْمُؤَذِّنَ أَذَّنَ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ قَالَ فَدَعَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِطَهُورٍ فَتَطَهَّرَ قَالَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَطَهَّرَ كَمَا أُمِرَ وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ كُفِّرَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ فَاسْتَشْهَدَ عَلَى ذَلِكَ أَرْبَعَةً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَشَهِدُوا لَهُ بِذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ایک مرتبہ جب مؤذن نے عصر کی اذان دی تو حضرت عثمان ؓ نے وضو کے لئے پانی منگوایا، وضو کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص حکم الٰہی کے مطابق وضو کرے، وہ اس کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، اس کے بعد انہوں نے چار صحابہ ؓ سے اس پر گواہی لی اور چاروں نے اس بات کی گواہی دی کہ واقعی نبی ﷺ نے یہی فرمایا تھا۔

456Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَتَى عُثْمَانُ الْمَقَاعِدَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا يَتَوَضَّأُ يَا هَؤُلَاءِ أَكَذَاكَ قَالُوا نَعَمْ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ

بسر بن سعید کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ بنچوں کے پاس آکر بیٹھ گئے، وضو کا پانی منگوایا، کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا اور تین تین مرتبہ ہاتھ دھوئے، پھر سر اور پاؤں کا تین تین مرتبہ مسح کیا (جو کہ دوسری روایات کے خلاف ہے) پھر فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے اور چند صحابہ کرام ؓ جو وہاں موجود تھے، ان سے فرمایا کیا ایسا ہی ہے؟ انہوں نے اس کی تصدیق کی۔

457Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ عِنْدَ الْمَقَاعِدِ فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ رَأَيْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَذَا قَالُوا نَعَمْ قَالَ أَبِي هَذَا الْعَدَنِيُّ كَانَ بِمَكَّةَ مُسْتَمْلِيَ ابْنِ عُيَيْنَةَ

بسر بن سعید کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ بنچوں کے پاس آکر بیٹھ گئے، وضو کا پانی منگوایا اور تمام اعضاء کو تین تین مرتبہ دھویا اور چند صحابہ کرام ؓ جو وہاں موجود تھے، ان سے فرمایا کیا ایسا ہی ہے؟ انہوں نے اس کی تصدیق کی۔

458Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَا بِوَضُوءٍ وَهُوَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأَمَرَّ بِيَدَيْهِ عَلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِهِمَا عَلَى لِحْيَتِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ تَوَضَّأْتُ لَكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثُمَّ رَكَعْتُ رَكْعَتَيْنِ كَمَا رَأَيْتُهُ رَكَعَ قَالَ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا تَوَضَّأْتُ ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ صَلَاتِهِ بِالْأَمْسِ

حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی ؓ مسجد کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، میں نے دیکھا کہ انہوں نے پانی منگوایا، سب سے پہلے اپنے ہاتھوں کو دھویا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا، کلی بھی کی اور ناک میں پانی بھی ڈالا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت بازؤوں کو بھی دھویا، پھر سر کا مسح کر کے دونوں ہاتھ کانوں کی ظاہری سطح پر گذارے، پھر داڑھی پر پھیرے اور تین تین مرتبہ ٹخنوں سمیت پاؤں دھو لئے پھر کھڑے ہو کردو رکعتیں پڑھیں اور فرمایا کہ میں نے جس طرح نبی ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا اسی طرح تمہیں بھی وضو کر کے دکھا دیا اور جس طرح انہوں نے دو رکعتیں پڑھی تھیں میں نے بھی پڑھ کر دکھا دیں اور ان دو رکعتوں سے فارغ ہو کر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور دو رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ اپنے دل میں خیالات اور وساوس نہ لائے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ تمام گناہ معاف فرمادے گا۔

459Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ فَقَالَ لَهُ الْوَلِيدُ مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَفَوْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَبْلِغْهُ أَنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ قَالَ عَاصِمٌ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَمْ أَتَخَلَّفْ يَوْمَ بَدْرٍ وَلَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَانْطَلَقَ فَخَبَّرَ ذَلِكَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقَالَ أَمَّا قَوْلُهُ إِنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنَ فَكَيْفَ يُعَيِّرُنِي بِذَنْبٍ وَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمْ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ وَأَمَّا قَوْلُهُ إِنِّي تَخَلَّفْتُ يَوْمَ بَدْرٍ فَإِنِّي كُنْتُ أُمَرِّضُ رُقَيَّةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَتْ وَقَدْ ضَرَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِي وَمَنْ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ فَقَدْ شَهِدَ وَأَمَّا قَوْلُهُ إِنِّي لَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنِّي لَا أُطِيقُهَا وَلَا هُوَ فَأْتِهِ فَحَدِّثْهُ بِذَلِكَ

شقیق (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ سے حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کی ملاقات ہوئی، ولید نے کہا کیا بات ہے، آپ امیرالمومنین حضرت عثمان غنی ؓ کے ساتھ انصاف نہیں کر رہے؟ انہوں نے کہا کہ میری طرف سے انہیں یہ پیغام پہنچا دو کہ میں غزوہ احد کے دن فرار نہیں ہوا تھا، میں غزوہ بدر سے پیچھے نہیں رہا تھا اور نہ ہی میں نے حضرت عمر ؓ کی سنت کو چھوڑا ہے، ولید نے جاکر یہ ساری بات حضرت عثمان غنی ؓ کو بتادی۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبدالرحمن ؓ نے یہ جو کہا کہ میں غزوہ احد سے فرار نہیں ہوا تھا، وہ مجھے ایسی لغزش سے کیسے عار دلا سکتے ہیں جسے اللہ نے خود معاف کردیا، چناچہ ارشادباری تعالیٰ ہے کہ تم میں سے جو لوگ دو لشکروں کے ملنے کے دن پیٹھ پھیر کر چلے گئے تھے، انہیں شیطان نے پھسلا دیا تھا بعض ان چیزوں کی وجہ سے جو انہوں نے کیں اور غزوہ بدر سے پیچھے رہ جانے کا جو طعنہ انہوں نے مجھے دیا ہے تو اصل بات یہ ہے کہ میں نبی ﷺ کی صاحبزادی اور اپنی زوجہ حضرت رقیہ ؓ کی تیمارداری میں مصروف تھا، یہاں تک کہ وہ اسی دوران فوت ہوگئیں، جبکہ نبی ﷺ نے شرکاء بدر کے ساتھ مال غنیمت میں میرا حصہ بھی شامل فرمایا اور یہ سمجھا گیا کہ نبی ﷺ نے جس کا حصہ مقرر فرمایا وہ غزوہ بدر میں شریک تھا رہی ان کی یہ بات کہ میں نے حضرت عمر ؓ کی سنت نہیں چھوڑی تو سچی بات یہ ہے کہ اس کی طاقت مجھ میں ہے اور نہ خود ان میں ہے تم جا کر ان سے یہ باتیں بیان کردینا۔

460Musnad Imam Ahmad

حضرت عثمان (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي سَهْلٍ يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ حَكِيمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ نِصْفِ لَيْلَةٍ وَمَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ

حضرت عثمان غنی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے نصف رات قیام کرنا اور جو شخص فجر کی نماز بھی جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ساری رات قیام کرنے کی طرح ہے۔