Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 182 of 1,321

3621Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَإِنِّي سَأُنَازَعُ رِجَالًا فَأُغْلَبُ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيُقَالُ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا کیا جائے گا اور میں مغلوب ہوجاؤں گا، میں عرض کروں گا پروردگار! میرے ساتھی؟ ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔

3622Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ لَا يَدَعُهُمَا يَقُولُ لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا يَعْنِي الْفَرِيضَةَ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سفر میں روزہ بھی رکھتے تھے اور افطار بھی فرماتے تھے، دوران سفر آپ ﷺ فرض نمازوں کی دو رکعتیں پڑھتے تھے، ان پر اضافہ نہیں فرماتے تھے۔

3623Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمًا يُحَدِّثُ عَنْ زِرٍّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے۔

3624Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔

3625Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ الْجُمُعَةِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الْأَحْوَصِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے جمعہ میں شریک نہ ہونے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا ایک مرتبہ میں نے یہ ارادہ کرلیا کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے اور جو لوگ نماز میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوتے، ان کے متعلق حکم دوں کہ ان کے گھروں کو آگ لگا دی جائے۔

3626Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهِنَّ الْعِلْمُ وَيَنْزِلُ فِيهِنَّ الْجَهْلُ وَيَكْثُرُ فِيهِنَّ الْهَرْجُ قَالَ وَالْهَرْجُ الْقَتْلُ

ابو وائل کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے قریب جو زمانہ ہوگا اس میں جہالت کا نزول ہوگا، علم اٹھا لیا جائے گا اور اس میں ہرج کی کثرت ہوگی، ہم نے ہرج کا معنی پوچھا تو فرمایا قتل۔

3627Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ فَإِنَّهُنَّ يَجْتَمِعْنَ عَلَى الرَّجُلِ حَتَّى يُهْلِكْنَهُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ لَهُنَّ مَثَلًا كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا أَرْضَ فَلَاةٍ فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْطَلِقُ فَيَجِيءُ بِالْعُودِ وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ حَتَّى جَمَعُوا سَوَادًا فَأَجَّجُوا نَارًا وَأَنْضَجُوا مَا قَذَفُوا فِيهَا

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا چھوٹے گناہوں سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ بعض اوقات بہت سے چھوٹے گناہ بھی اکٹھے ہو کر انسان کو ہلاک کردیتے ہیں اور نبی ﷺ نے اس کی مثال اس قوم سے دی جنہوں نے کسی جنگل میں پڑاؤ ڈالا، کھانے کا وقت آیا تو ایک آدمی جا کر ایک لکڑی لے آیا، دوسرا جا کر دوسری لکڑی لے آیا یہاں تک کہ بہت سی لکڑیاں جمع ہوگئیں اور انہوں نے آگ جلا کر جو اس میں ڈالا تھا وہ پکا لیا۔

3628Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيَ الْأُمَمَ بِالْمَوْسِمِ فَرَاثَتْ عَلَيْهِ أُمَّتُهُ قَالَ فَأُرِيتُ أُمَّتِي فَأَعْجَبَنِي كَثْرَتُهُمْ قَدْ مَلَئُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ فَقِيلَ لِي إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ هُمْ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَالَ عُكَّاشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهُ ثُمَّ قَامَ يَعْنِي آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مَعَهُمْ قَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو مختلف امتیں دکھائی گئیں، آپ کی امت کے آنے میں تاخیر ہوئی، نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ پھر مجھے میری امت دکھائی گئی، جس کی کثرت پر مجھے بہت تعجب ہوا کہ انہوں نے ہر ٹیلے اور پہاڑ کو بھر رکھا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے، ان کے ساتھ ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں، یہ سن کر عکاشہ بن محصن اسدی کھڑے ہو کر پوچھنے لگے یا رسول اللہ! اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کرلے؟ نبی ﷺ نے ان کے لئے دعاء کردی، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کرلے؟ نبی ﷺ نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔

3629Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَرَكَ مِنْ أُمَّتِكَ فَقَالَ إِنَّهُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ بُلْقٌ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے اپنے جن امتیوں کو نہیں دیکھا، انہیں آپ کیسے پہچانیں گے؟ فرمایا ان کی پیشانیاں وضو کے آثار کی وجہ سے انتہائی روشن اور چمکدار ہوں گی جیسے چتکبرا گھوڑا ہوتا ہے۔

3630Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْبَاقِي يَهْبِطُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَفْتَحُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَهُ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَى سُؤْلَهُ وَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يَسْطَعَ الْفَجْرُ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتے ہیں، آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر فرماتے ہیں ہے کوئی مانگنے والا کہ اس کی درخواست پوری کی جائے؟ اور یہ سلسلہ طلوع فجر تک چلتا رہتا ہے۔

3631Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ عَنْ كَرِيمِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى بِنْتِ جَابِرٍ أَنَّ زَوْجَهَا اسْتُشْهِدَ فَأَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ اسْتُشْهِدَ زَوْجِي وَقَدْ خَطَبَنِي الرِّجَالُ فَأَبَيْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ حَتَّى أَلْقَاهُ فَتَرْجُو لِي إِنْ اجْتَمَعْتُ أَنَا وَهُوَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَزْوَاجِهِ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مَا رَأَيْنَاكَ نَقَلْتَ هَذَا مُذْ قَاعَدْنَاكَ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَسْرَعَ أُمَّتِي بِي لُحُوقًا فِي الْجَنَّةِ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْمَسَ

حضرت سلمی بنت جابر کہتی ہیں کہ ان کے شوہر شہید ہوگئے، وہ حضرت ابن مسعود ؓ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ میرے شوہر شہید ہوگئے ہیں، مجھے کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا ہے لیکن میں نے اب مرنے تک شادی کرنے سے انکار کردیا ہے، کیا آپ کو امید ہے کہ اگر میں اور وہ جنت میں اکٹھے ہوگئے تو میں ان کی بیویوں میں شمار ہوں گی؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ایک آدمی یہ سن کر کہنے لگا کہ ہم نے جب سے آپ کو یہاں بیٹھے ہوئے دیکھا ہے، کبھی اس طرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا کہ (کہ کسی کو آپ نے اس طرح یقین دلایا ہو)؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جنت میں میری امت میں سے مجھے سب سے پہلے ملنے والی ایک عورت ہوگی جس کا تعلق قریش سے ہوگا۔

3632Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ أَبُو الْمُوَرِّعِ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ عَوْسَجَةَ بْنِ الرَّمَّاحِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ آئینہ دیکھتے ہوئے یہ دعاء پڑھتے تھے کہ اے اللہ! جس طرح آپ نے میری صورت اچھی بنائی ہے، میری سیرت بھی اچھی کر دے۔

3633Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا جَهْلٍ وَقَدْ جُرِحَ وَقُطِعَتْ رِجْلُهُ قَالَ فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ بِسَيْفِي فَلَا يَعْمَلُ فِيهِ شَيْئًا قِيلَ لِشَرِيكٍ فِي الْحَدِيثِ وَكَانَ يَذُبُّ بِسَيْفِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَمْ أَزَلْ حَتَّى أَخَذْتُ سَيْفَهُ فَضَرَبْتُهُ بِهِ حَتَّى قَتَلْتُهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ قَدْ قُتِلَ أَبُو جَهْلٍ وَرُبَّمَا قَالَ شَرِيكٌ قَدْ قَتَلْتُ أَبَا جَهْلٍ قَالَ أَنْتَ رَأَيْتَهُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ آللَّهِ مَرَّتَيْنِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاذْهَبْ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ فَذَهَبَ فَأَتَاهُ وَقَدْ غَيَّرَتْ الشَّمْسُ مِنْهُ شَيْئًا فَأَمَرَ بِهِ وَبِأَصْحَابِهِ فَسُحِبُوا حَتَّى أُلْقُوا فِي الْقَلِيبِ قَالَ وَأُتْبِعَ أَهْلُ الْقَلِيبِ لَعْنَةً وَقَالَ كَانَ هَذَا فِرْعَوْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ حَدَّثَنَا أَسْودُ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ هَذَا فِرْعَوْنُ أُمَّتِي

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ میں غزوہ بدر میں ابو جہل کے پاس پہنچا تو وہ زخمی پڑا ہوا تھا اور اس کی ٹانگ کٹ چکی تھی، میں اسے اپنی تلوار سے مارنے لگا لیکن تلوار نے اس پر کچھ اثر نہ کیا، میں اسے مسلسل تلوار مارتا رہا یہاں تک کہ میں نے اپنی تلوار سے اسے قتل کردیا، پھر میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ابو جہل مارا گیا، نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم نے خود اسے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، دو مرتبہ اسی طرح سوال و جواب ہوئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے خود اسے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، دو مرتبہ اسی طرح سوال و جواب ہوئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا میرے ساتھ چلو تاکہ میں بھی دیکھوں، چناچہ نبی ﷺ اس کی لاش کے پاس تشریف لائے، سورج کی تمازت کی وجہ سے اس کی لاش سڑنے لگی تھی، نبی ﷺ نے فرمایا اسے اور اس کے ساتھیوں کو کھینچ کر کنوئیں میں ڈال دو اور ان کنوئیں والوں کے پیچھے پیچھے لعنت کو لگا دیا گیا نبی ﷺ نے فرمایا یہ اس امت کا فرعون تھا۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ابو جہل کے متعلق فرمایا یہ میری امت کا فرعون ہے۔

3634Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامِ بْنِ طَلْقٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ إِمَّا قَالَ شَقِيقٌ وَإِمَّا قَالَ زِرٌّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ النَّخَعِ أَوْ قَالَ يُثْنِي عَلَيْهِمْ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي رَجُلٌ مِنْهُمْ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ میں حاضر ہوا تو نبی ﷺ بنو نخع کے اس قبیلے کے لئے دعاء یا تعریف فرما رہے تھے حتی کہ میں تمنا کرنے لگا کہ کاش! میں بھی ان ہی میں سے ہوتا۔

3635Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ اللَّحْمَ ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ فَمَا يَمَسُّ قَطْرَةً مِنْ مَاءٍ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ کو گوشت تناول فرماتے ہوئے دیکھا، پھر نبی ﷺ پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز پڑھانے کھڑے ہوگئے۔

3636Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ الشَّيْطَانِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ قَالَ وَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ وَنَفْخُهُ الْكِبْرِيَاءُ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ شیطان کے بھینچنے سے، اس کے تھوک اور اس کی پھونک سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، راوی کہتے ہیں کہ بھینچنے سے مراد موت ہے، تھوک سے مراد شعراء اور پھونک سے مراد تکبر ہے۔

3637Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى اصْفَرَّتْ أَوْ احْمَرَّتْ الشَّمْسُ فَقَالَ شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ أَوْ حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین نے نبی ﷺ کو نماز عصر پڑھنے کی مہلت نہ دی، حتی کہ سورج غروب ہوگیا، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔

3638Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّيْطَانِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ فَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ شیطان کے بھینچنے سے، اس کے تھوک اور اس کی پھونک سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، راوی کہتے ہیں کہ بھینچنے سے مراد موت ہے، تھوک سے مراد شعراء اور پھونک سے مراد تکبر ہے۔

3639Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ أَحْدَاثٌ أَوْ قَالَ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ النَّاسِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ فَمَنْ أَدْرَكَهُمْ فَلْيَقْتُلْهُمْ فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا عِنْدَ اللَّهِ لِمَنْ قَتَلَهُمْ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آخر زمانے میں ایک ایسی قوم کا خروج ہوگا جو بیوقوف اور نوعمر ہوگی، یہ لوگ انسانوں میں سے سب سے بہتر انسان (نبی ﷺ کی بات کریں گے اور اپنی زبانوں سے قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہ جاتی ہوگی، یہ لوگ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، جو شخص انہیں پائے تو انہیں قتل کر دے کیونکہ ان کے قتل کرنے پر قاتل کے لئے اللہ کے یہاں بڑا ثواب ہے۔

3640Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَوَّلُ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعَمَّارٌ وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ وَصُهَيْبٌ وَبِلَالٌ وَالْمِقْدَادُ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمْ الْمُشْرِكُونَ فَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ فَمَا مِنْهُمْ إِنْسَانٌ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا إِلَّا بِلَالٌ فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللَّهِ وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ وَأَخَذُوا يَطُوفُونَ بِهِ شِعَابَ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُولُ أَحَدٌ أَحَدٌ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اپنے اسلام کا اظہار کرنے والے سات افراد تھے، نبی ﷺ حضرت ابوبکر ؓ عنہ، حضرت عمار ؓ اور ان کی والدہ حضرت سمیہ ؓ، حضرت صہیب، حضرت بلال اور حضرت مقداد ؓ جن میں سے نبی ﷺ کی حفاظت اللہ نے ان کے چچا خواجہ ابو طالب کے ذریعے کروائی اور حضرت صدیق اکبر ؓ کی ان کی قوم کے ذریعے اور جو باقی بچے انہیں مشرکین نے پکڑ لیا، وہ انہیں لوہے کی زرہیں پہناتے اور دھوپ میں تپنے کے لئے چھوڑ دیتے، ان میں سے سوائے بلال کے کوئی بھی ایسا نہ تھا جو ان کی خواہش کے مطابق نہ چلا ہو، کہ بلال نے تو اپنی ذات کو اللہ کے معاملے میں فناء کردیا تھا اور انہیں ان کی قوم کی وجہ سے ذلیل کیا جاتا تھا، قریش انہیں بچوں کے حوالے کردیتے اور وہ انہیں مکہ مکرمہ کی گلیوں میں لئے پھرتے تھے لیکن حضرت بلال ؓ پھر بھی احد، احد کہتے تھے۔