حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا وَلَا يَزَالُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان مسلسل سچ بولتا اور اس کی تلاش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور انسان مسلسل جھوٹ بولتا اور اسی میں غور و فکر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هُنَيِّ بْنِ نُوَيْرَةَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَعَفُّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيمَانِ
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قتل کے معاملے میں اہل ایمان تمام لوگوں سے زیادہ عفیف اور عمدہ طریقہ رکھتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا مُغِيرَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَعَفَّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيمَانِ
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قتل کے معاملے میں اہل ایمان تمام لوگوں سے زیادہ عفیف اور عمدہ طریقہ رکھتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ نَاجِيَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ بِخَمْسٍ وَثَلَاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ أَوْ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ فَإِنْ يَهْلَكُوا فَسَبِيلُ مَنْ قَدْ هَلَكَ وَإِنْ يَقُمْ لَهُمْ دِينُهُمْ يَقُمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا قَالَ قُلْتُ أَمِمَّا مَضَى أَمْ مِمَّا بَقِيَ قَالَ مِمَّا بَقِيَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ نَاجِيَةَ الْكَاهِلِيِّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَضَى أَمْ مَا بَقِيَ قَالَ مَا بَقِيَ
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام کی چکی ٣٥، ٣٦ یا ٣٧ سال تک گھومتی رہے گی، اس کے بعد اگر مسلمان ہلاک ہوئے تو ہلاک ہونے والوں کی راہ پر چلے جائیں گے اور اگر باقی بچ گئے تو ستر سال تک ان کا دین باقی رہے گا، راوی نے پوچھا کہ اس کا تعلق ماضی کے ایام سے ہے یا مستقبل سے؟ انہوں نے فرمایا مستقبل سے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! جو گذر گئے ہیں یا جو باقی ہیں؟ فرمایا جو باقی ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَذِنْتُ لَكَ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ وَتَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرما رکھا تھا میری طرف سے تمہیں اس بات کی اجازت ہے کہ میرے گھر کا پردہ اٹھا کر اندر آجاؤ اور میری راز کی باتوں کو سن لو، تاآنکہ میں خود تمہیں منع کر دوں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ سَعْدِ بْنِ عِيَاضٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ أَحَبَّ الْعُرَاقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذِّرَاعُ ذِرَاعُ الشَّاةِ وَكَانَ قَدْ سُمَّ فِي الذِّرَاعِ وَكَانَ يَرَى أَنَّ الْيَهُودَ هُمْ سَمُّوهُ
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو ہڈی والے گوشت میں بکری کی دستی کا گوشت زیادہ پسند تھا اور دستی ہی کے گوشت میں زہر ملا کر آپ ﷺ کو کھلایا گیا تھا اور عام خیال یہی تھا کہ یہودیوں نے نبی ﷺ کے کھانے میں زہر ملایا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى الْجَابِرُ أَبُو الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ أَنَّ أَبَا مَاجدٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ حَدَّثَهُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ فَقَالَ السَّيْرُ مَا دُونَ الْخَبَبِ فَإِنْ يَكُ خَيْرًا تُعْجَلْ إِلَيْهِ أَوْ قَالَ لِتُعْجَلْ إِلَيْهِ وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَاكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَا تَتْبَعُ لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَقَدَّمَهَا
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی ﷺ سے جنازے کے ساتھ چلنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا جنازہ کو متبوع ہونا چاہئے نہ کہ تابع (جنازے کو آگے اور چلنے والوں کو اس کے پیچھے ہونا چاہئے)
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے قیامت کا قیام بدترین لوگوں پر ہی ہوگا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنِ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَوَضْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى أَرَى بَيَاضَ خَدِّهِ وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَفْعَلَانِ ذَاكَ
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ وہ ہر مرتبہ جھکتے اٹھتے، کھڑے اور بیٹھے ہوئے تکبیر کہتے تھے اور دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ ﷺ کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی اور میں نے حضرات ابوبکر و عمر ؓ کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ
حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملے پر گواہ بننے والے اور اسے تحریر کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ
حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ہمیں تشہد اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَبَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي قَوْلِهِ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
حضرت ابن مسعود ؓ سے اس ارشاد باری تعالیٰ دل نے جھوٹ نہیں بولا جو دیکھا کی تفسیر میں مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو باریک ریشمی حلے میں دیکھا کہ انہوں نے آسمان و زمین کے درمیان تمام حصے کو پر کر رکھا تھا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ
حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت نبی ﷺ نے مجھے اس طرح پڑھائی تھی انی اناالرزاق ذو القوۃ المتین
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ عَلَى فِرَاشِهِ قَالَ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب اپنے بستر پر آکر لیٹتے تو یہ دعاء فرماتے کہ پروردگار! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ثُمَّ آمُرَ بِأُنَاسٍ لَا يُصَلُّونَ مَعَنَا فَتُحَرَّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتُهُمْ
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک مرتبہ میں نے یہ ارادہ کرلیا کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے اور جو لوگ نماز میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوتے، ان کے متعلق حکم دوں کہ ان کے گھروں کو آگ لگا دی جائے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ وَأَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو تین مرتبہ دعاء مانگنا اور تین مرتبہ استغفار کرنا اچھا لگتا تھا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ إِذَا قَرَأَهَا ثُمَّ رَكَعَ بِهَا أَنْ يَقُولَ سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ثَلَاثًا
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ پر سورت نصر نازل ہوئی تو آپ ﷺ اگر اسے نماز میں پڑھتے تو اس کے رکوع میں تین مرتبہ یوں کہتے سبحانک ربنا وبحمدک اے اللہ مجھے بخش دے کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزيِدَ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ الْفُرَاتِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْأَعْيَنِ الْعَبْدِيِّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ قَالَ بَيْنَمَا ابْنُ مَسْعُودٍ يَخْطُبُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ تَمْشِي عَلَى الْجِدَارِ فَقَطَعَ خُطْبَتَهُ ثُمَّ ضَرَبَهَا بِقَضِيبِهِ أَوْ بِقَصَبَةٍ قَالَ يُونُسُ بِقَضِيبِهِ حَتَّى قَتَلَهَا ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَتَلَ حَيَّةً فَكَأَنَّمَا قَتَلَ رَجُلًا مُشْرِكًا قَدْ حَلَّ دَمُهُ
ابو الاحوص جشمی کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابن مسعود ؓ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اچانک ان کی نظر ایک سانپ پر پڑی جو دیوار پر چل رہا تھا، انہوں نے اپنی تقریر روکی اور اسے اپنی چھڑی سے مار دیا، یہاں تک کہ وہ مرگیا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی سانپ کو مارے، گویا اس نے کسی مباح الدم مشرک کو قتل کیا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْأَعْيَنِ الْعَبْدِيِّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ أَهِيَ مِنْ نَسْلِ الْيَهُودِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَلْعَنْ قَوْمًا قَطُّ فَمَسَخَهُمْ فَكَانَ لَهُمْ نَسْلٌ حِينَ يُهْلِكُهُمْ وَلَكِنْ هَذَا خَلْقٌ كَانَ فَلَمَّا غَضِبَ اللَّهُ عَلَى الْيَهُودِ مَسَخَهُمْ فَجَعَلَهُمْ مِثْلَهُمْ
حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ یہ بندر اور خنزیر کیا یہودیوں کی نسل میں سے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ نے جس قوم کو بھی ملعون قرار دے کر ان کی شکلوں کو مسخ کیا تو انہیں ہلاک کرنے کے بعد ان کی نسل کو باقی نہیں رکھا، لیکن یہ مخلوق پہلے سے موجود تھی، جب یہودیوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور اس نے ان کی شکلوں کو مسخ کیا تو انہیں ان جیسا بنادیا۔