Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 176 of 1,321

3501Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ سِوَادِي سِرِّي قَالَ أَذِنَ لَهُ أَنْ يَسْمَعَ سِرَّهُ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرما رکھا تھا میری طرف تمہیں اس بات کی اجازت ہے کہ میرے گھر کا پردہ اٹھا کر اندر آجاؤ اور میری راز کی باتوں کو سن لو، تاآنکہ میں خود تمہیں منع کر دوں۔

3502Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَهَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَقَالَ الْتَمِسْ لِي ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ قَالَ فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ قَالَ فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ إِنَّهَا رِكْسٌ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ قضاء حاجت کے لئے نکلے تو مجھ سے فرمایا کہ میرے پاس تین پتھر تلاش کر کے لاؤ، میں دو پتھر اور لید کا ایک خشک ٹکڑا لاسکا، نبی ﷺ نے دونوں پتھر لے لئے اور لید کے ٹکڑے کو پھینک کر فرمایا یہ ناپاک ہے۔

3503Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْدِبُ لَنَا السَّمَرَ بَعْدَ الْعِشَاءِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نماز عشاء کے بعد قصہ گوئی کو ہمارے لئے معیوب قرار دیتے تھے۔

3504Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بد شگونی شرک ہے، ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے، لیکن یہ کہ اللہ اسے توکل کے ذریعے ختم کر دے گا۔

3505Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ قَالَ فَمَرَّ بِقَوْمٍ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ قَالَ بَعْضُهُمْ لَا تَسْأَلُوهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ مَا الرُّوحُ فَقَامَ فَتَوَكَّأَ عَلَى الْعَسِيبِ قَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ فَقَالَ وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا قَالَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ قُلْنَا لَكُمْ لَا تَسْأَلُوهُ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی کھیت میں چل رہا تھا، نبی ﷺ اپنی لاٹھی ٹیکتے جارہے تھے، چلتے چلتے یہودیوں کی ایک جماعت پر سے گذر ہوا، وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ان سے روح کے متعلق سوال کرو، لیکن کچھ لوگوں نے انہیں سوال کرنے سے منع کیا، الغرض! انہوں نے نبی ﷺ سے روح کے متعلق دریافت کیا اور کہنے لگے اے محمد ﷺ! روح کیا چیز ہے؟ نبی ﷺ نے کھڑے کھڑے اپنی لاٹھی سے ٹیک لگالی، میں سمجھ گیا کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے، چناچہ وہ کیفیت ختم ہونے کے بعد نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ روح تو میرے رب کا حکم ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے، یہ سن کر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے ہم نے کہا تھا ناں کہ ان سے مت پوچھو۔

3506Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّتِهِ وَلَوْ اتَّخَذْتُ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں ہر دوست کی دوستی سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں، اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر ؓ کو بناتا اور تمہارا پیغمبر اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔

3507Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالسَّبْيِ فَيُعْطِي أَهْلَ الْبَيْتِ جَمِيعًا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنهُمْ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ اگر نبی ﷺ کے پاس ایک ہی خاندان کے کئی غلام آجاتے تو آپ ﷺ وہ سب اکٹھے ہی کسی ایک گھرانے والوں کو دے دیتے کیونکہ آپ ﷺ ان میں تفریق کرانے کو ناپسند سمجھتے تھے۔

3508Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي قَيْسٍ عَنِ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى وَسُلَيْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَسَأَلَهُمَا عَنْ ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنٍ وَأُخْتٍ لِأَبٍ فَقَالَا لِلْبِنْتِ النِّصْفُ وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ وَأْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَإِنَّهُ سَيُتَابِعُنَا قَالَ فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ وَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَا فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُهْتَدِينَ سَأَقْضِي بِمَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ

ہزیل بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص حضرت ابوموسی ؓ اور سلمان بن ربیعہ ؓ کے پاس آیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی شخص کے ورثاء میں ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک حقیقی بہن ہو تو تقسیم وراثت کس طرح ہوگی؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ کل مال کا نصف بیٹی کو مل جائے گا اور دوسرا نصف بہن کو اور ہم نے حضرت ابن مسعود ؓ کے پاس جا کر ان سے بھی یہ مسئلہ پوچھا اور مذکورہ حضرات کا جواب بھی نقل کیا، حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ اگر میں نے بھی یہی فتوی دیا تو میں گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت یافتگان میں سے نہ رہوں گا، میں وہی فیصلہ کروں گا جو نبی ﷺ نے فرمایا تھا، بیٹی کو کل مال کا نصف ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ تاکہ دو ثلث مکمل ہوجائیں اور جو باقی بچے گا وہ بہن کو مل جائے گا۔

3509Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعِفَّةَ وَالْغِنَى

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور غناء (مخلوق کے سامنے عدم احتیاج) کا سوال کرتا ہوں۔

3510Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الدُّهْنِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ سُمَيَّةَ مَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ الْأَرْشَدَ مِنْهُمَا

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے جب بھی دو چیزیں پیش ہوئی تو آپ ﷺ نے ان دونوں میں سے اس چیز کو اختیار فرمایا جو زیادہ رشد و ہدایت والی ہوتی۔

3511Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَكُنْتُ مِنْ آخِرِ مَنْ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّكُمْ مُصِيبُونَ وَمَنْصُورُونَ وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيَنْهَ عَنْ الْمُنْكَرِ وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں جمع فرمایا: اس وقت ہم لوگ چالیس افراد تھے، میں ان میں سب سے آخر میں آیا تھا، پھر نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم لوگ فتح و نصرت حاصل کرنے والے ہو، تم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے، اسے چاہئے کہ اللہ سے ڈرے، اچھی باتوں کا حکم کرے اور بری باتوں سے روکے اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لینا چاہئے۔

3512Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى فَقَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ قَالَ قُلْنَا وَمَا الْهَرْجُ قَالَ الْقَتْلُ

ابو وائل کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے قریب جو زمانہ ہوگا اس میں جہالت کا نزول ہوگا، علم اٹھا لیا جائے گا اور اس میں ہرج کی کثرت ہوگی، ہم نے ہرج کا معنی پوچھا تو فرمایا قتل۔

3513Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى فَقَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ قَالَ قُلْنَا وَمَا الْهَرْجُ قَالَ الْقَتْلُ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو کوئی ضرورت پیش آئے اور وہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کر دے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کا کام آسان نہ ہو اور جو شخص اسے اللہ کے سامنے بیان کرے تو اللہ اسے فوری رزق یا تاخیر کی موت عطاء فرما دے گا۔

3514Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ لَهُ ذُؤَابَةٌ فِي الْكُتَّابِ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے مبارک منہ سے سن کر ستر سورتیں پڑھی ہیں اور حضرت زید بن ثابت ؓ کاتبان وحی میں سے تھے جن کی مینڈھیاں تھیں۔

3515Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ وَحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ شَهِدْتُ مِنْ الْمِقْدَادِ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ ابْنِ الْأَسْوَدِ مَشْهَدًا لَأَنْ أَكُونَ أَنَا صَاحِبَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا نَقُولُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ وَلَكِنْ نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ يَسَارِكَ وَمِنْ بَيْنِ يَدَيْكَ وَمِنْ خَلْفِكَ فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْرِقُ وَسَرَّهُ ذَلِكَ قَالَ أَسْوَدُ فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْرِقُ لِذَلِكَ وَسَرَّهُ ذَلِكَ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَقَ وَجْهُهُ وَسَرَّهُ ذَاكَ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت مقداد بن اسود ؓ کے پاس موجود تھا اور مجھے ان کا ہم نشین ہونا دوسری تمام چیزوں سے زیادہ محبوب تھا، وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشرکین کو بد دعائیں دے کر کہنے لگے یا رسول اللہ! بخدا! ہم اس طرح نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہہ دیا تھا کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے لڑیں گے، میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ کا رخ انور خوشی سے تمتما رہا تھا۔

3516Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ ﷺ کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔

3517Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ ابْنَةُ أَبِي سُفْيَانَ اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ وَأَيَّامٍ مَعْدُودَةٍ وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَنْ يُعَجَّلَ شَيْءٌ قَبْلَ حِلِّهِ أَوْ يُؤَخَّرَ شَيْءٌ عَنْ حِلِّهِ وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ كَانَ أَخْيَرَ أَوْ أَفْضَلَ قَالَ وَذُكِرَ عِنْدَهُ الْقِرَدَةُ قَالَ مِسْعَرٌ أُرَاهُ قَالَ وَالْخَنَازِيرُ إِنَّهُ مِمَّا مُسِخَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَمْسَخْ شَيْئًا فَيَدَعَ لَهُ نَسْلًا أَوْ عَاقِبَةً وَقَدْ كَانَتْ الْقِرَدَةُ أَوْ الْخَنَازِيرُ قَبْلَ ذَلِكَ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ ؓ یہ دعاء کر رہی تھیں کہ اے اللہ! مجھے اپنے شوہر نامدار جناب رسول اللہ ﷺ اپنے والد ابو سفیان اور اپنے بھائی معاویہ سے فائدہ پہنچا، نبی ﷺ نے ان کی یہ دعاء سن لی اور فرمایا کہ تم نے اللہ سے طے شدہ مدت، گنتی کے چند دن اور تقسیم شدہ رزق کا سوال کیا، ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے وقت سے پہلے تمہیں نہیں مل سکتی اور اپنے وقت مقررہ سے مؤخر نہیں ہوسکتی، اگر تم اللہ سے یہ دعاء کرتیں کہ وہ تمہیں عذاب جہنم اور عذاب قبر سے محفوظ فرما دے تو یہ زیادہ بہتر اور افضل ہوتا۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ بندر انسانوں کی مسخ شدہ شکل ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ نے جس قوم کی شکل کو مسخ کیا اس کی نسل کو کبھی باقی نہیں رکھا، جبکہ بندر اور خنزیر تو پہلے سے چلے آرہے ہیں۔

3518Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا صَاحِبٌ لَنَا يَشْتَكِي أَنَكْوِيهِ قَالَ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالُوا أَنَكْوِيهِ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ اكْوُوهُ وَارْضِفُوهُ رَضْفًا

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی کو کچھ بیماری ہے، کیا ہم داغ کر اس کا علاج کرسکتے ہیں؟ نبی ﷺ نے کوئی جواب دینے سے سکوت فرمایا: انہوں نے پھر پوچھا، نبی ﷺ نے پھر سکوت فرمایا اور کچھ دیر بعد فرمایا اسے داغ دو اور پتھر گرم کر کے لگاؤ۔

3519Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَا نَسِيتُ فِيمَا نَسِيتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى أَوْ نَرَى بَيَاضَ خَدَّيْهِ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں جو باتیں بھول گیا، سو بھول گیا، لیکن یہ بات نہیں بھولا کہ نبی ﷺ اختتام نماز پر دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔

3520Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی شخص کے لئے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) سے بہتر ہوں۔