عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَأْذَنُ لِأَهْلِ بَدْرٍ وَيَأْذَنُ لِي مَعَهُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ يَأْذَنُ لِهَذَا الْفَتَى مَعَنَا وَمِنْ أَبْنَائِنَا مَنْ هُوَ مِثْلُهُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّهُ مَنْ قَدْ عَلِمْتُمْ قَالَ فَأَذِنَ لَهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَذِنَ لِي مَعَهُمْ فَسَأَلَهُمْ عَنْ هَذِهِ السُّورَةِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ فَقَالُوا أَمَرَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فُتِحَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْتَغْفِرَهُ وَيَتُوبَ إِلَيْهِ فَقَالَ لِي مَا تَقُولُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ قُلْتُ لَيْسَتْ كَذَلِكَ وَلَكِنَّهُ أَخْبَرَ نَبِيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بِحُضُورِ أَجَلِهِ فَقَالَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ فَتْحُ مَكَّةَ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَذَلِكَ عَلَامَةُ مَوْتِكَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا فَقَالَ لَهُمْ كَيْفَ تَلُومُونِي عَلَى مَا تَرَوْنَ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ جب اہل بدر کو اپنے پاس آنے کی اجازت دیتے تو ان کی موجودگی میں مجھے بھی شریک ہونے کی اجازت دے دیتے، بعض اصحاب بدر کہنے لگے کہ حضرت عمر ؓ اس نوجوان کو تو ہمارے ساتھ شریک ہونے کی اجازت دے دیتے ہیں جبکہ اس جیسے تو ہمارے بیٹے بھی ہیں؟ حضرت عمر ؓ کو پتہ چلا تو فرمایا یہ سمجھدار ہے۔ ایک دن حضرت عمر فاروق ؓ نے اصحاب بدر کو اپنے پاس آنے کی اجازت دی اور مجھے بھی ان کے ساتھ اجازت مرحمت فرمائی اور ان سے سورت نصر کے متعلق دریافت کیا، وہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا ہے کہ جب انہیں فتح یابی ہو تو وہ استغفار اور توبہ کریں، پھر انہوں نے مجھ سے کہ اے ابن عباس! تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے رائے یہ نہیں ہے، دراصل اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو ان کی موت کا وقت قریب آجانے کی خبر دی ہے اور فرمایا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مدد آجائے اور مکہ مکرمہ فتح ہوجائے اور آپ لوگوں کو دین الٰہی میں فوج در فوج شامل ہوتے ہوئے دیکھ لیں تو یہ آپ کے وصال کی علامت ہے، اس لئے آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کیجئے اور اس سے استغفار کیجئے، بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے، یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے فرمایا اب تم نے دیکھ لیا، پھر تم مجھے کس طرح ملامت کرسکتے ہو۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْهَدْيِ وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ وَأَنْ يَسْعَى وَأَنْ يُقَصِّرَ أَوْ يَحْلِقَ ثُمَّ يَحِلَّ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حج کی نیت سے احرام باندھا، مکہ مکرمہ پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا، سفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، لیکن ہدی کی وجہ سے بال کٹوا کر حلال نہیں ہوئے اور ہدی اپنے ساتھ نہ لانے والوں کو حکم دیا کہ وہ طواف اور سعی کر کے قصر یا حلق کرنے کے بعد حلال ہوجائیں۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الشَّرَابِ أَطْيَبُ قَالَ الْحُلْوُ الْبَارِدُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا مشروب سب سے عمدہ ہے؟ فرمایا جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کو ١٣ رکعت نماز پڑھتے تھے، (آٹھ تہجد، تین وتر اور دو فجر کی سنتیں )
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ خَلْفَ بَابٍ فَدَعَانِي فَحَطَأَنِي حَطْأَةً ثُمَّ بَعَثَنِي إِلَى مُعَاوِيَةَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گذر ہوا، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، نبی ﷺ نے مجھے بلایا اور پیار سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے حضرت امیر معاویہ ؓ کے پاس بھیج دیا، میں نے واپس آکر نبی ﷺ کو بتادیا کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ قَالَ بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَهْدَى الصَّعْبُ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ابْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقَّةَ حِمَارٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ قَالَ بَهْزٌ عَجُزَ حِمَارٍ أَوْ قَالَ رِجْلَ حِمَارٍ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صعب بن جثامہ ؓ نے نبی ﷺ کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی ﷺ نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَإِذَا فِتْيَةٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا لَهُمْ كُلُّ خَاطِئَةٍ قَالَ فَغَضِبَ وَقَالَ مَنْ فَعَلَ هَذَا قَالَ فَتَفَرَّقُوا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُمَثِّلُ بِالْحَيَوَانِ
سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں میرا حضرت ابن عمر ؓ اور ابن عباس ؓ کے ساتھ گذر ہوا، دیکھا کہ کچھ نوجوانوں نے ایک مرغی کو باندھ رکھا ہے اور اس پر اپنا نشانہ درست کر رہے ہیں، اس پر حضرت ابن عمر ؓ غصے میں آگئے اور فرمانے لگے یہ کون کر رہا ہے؟ اسی وقت سارے نوجوان دائیں بائیں ہوگئے، حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو جانور کا مثلہ کرے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيَّ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَأَمَّهُمْ وَصَفُّوا خَلْفَهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ
امام شعبی (رح) کہتے ہیں کہ الگ تھلگ قبر پر نبی ﷺ کے ساتھ گذرنے والے صحابی ؓ نے مجھے بتایا ہے کہ نبی ﷺ نے اس کی نماز جنازہ بڑھائی اور لوگ نبی ﷺ کے پیچھے صف بستہ کھڑے ہوگئے، میں نے امام شعبی (رح) سے اس صحابی کا نام پوچھا تو انہوں نے بتایا حضرت ابن عباس ؓ۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ
حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے نبی ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ پیش کردینا زیادہ بہتر ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ الْحَجَرِ وَعِنْدَهُ مِحْجَنٌ يَضْرِبُ بِهِ الْحَجَرَ وَيُقَبِّلُهُ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ لَوْ أَنَّ قَطْرَةً قُطِرَتْ مِنْ الزَّقُّومِ فِي الْأَرْضِ لَأَمَرَّتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعِيشَتَهُمْ فَكَيْفَ بِمَنْ هُوَ طَعَامُهُ وَلَيْسَ لَهُ طَعَامٌ غَيْرُهُ
مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور حضرت ابن عباس ؓ حرم میں تشریف فرما تھے، ان کے پاس ایک چھڑی بھی تھی، وہ کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کر کے " اے اہل ایمان! اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم نہ مرنا مگر مسلمان ہو کر " فرمایا اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین پر ٹپکایا جائے تو زمین والوں کی زندگی کو تلخ کر کے رکھ دے، اب سوچ لو کہ جس کا کھانا ہی زقوم ہوگا اس کا کیا بنے گا۔ فائدہ: زقوم جہنم کے ایک درخت کا نام ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ رَكِبَتْ امْرَأَةٌ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَصُومَ فَأَتَتْ أُخْتُهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِىُّ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي الْأَعْمَشَ عَنْ أَبِي يَحْيَى عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنْ الزَّقُّومِ فَذَكَرَهُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک عورت بحری سفر پر روانہ ہوئی، اس نے یہ منت مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے خیریت سے واپس پہنچا دیا تو وہ ایک مہینے کے روزے رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح سالم واپس پہنچا دیا لیکن وہ مرتے دم تک روزے نہ رکھ سکی، اس کی ایک رشتہ دار عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ سارا واقعہ عرض کیا، نبی ﷺ نے فرمایا تم روزے رکھ لو۔ حدیث نمبر (2970) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا عَمَلٌ أَفْضَلَ مِنْهُ فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ قَالَ فَقِيلَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عشرہ ذی الحجہ کے علاوہ کسی دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے محبوب نہیں جتنے ان دس دنوں میں محبوب ہیں، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ فرمایا ہاں! البتہ وہ آدمی جو اپنی جان مال کو لے کر نکلا اور کچھ بھی واپس نہ لایا۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَكَبَّرَ فِيهَا ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السُّجُودِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا أُمَّ لَكَ تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادیئ بطحا میں میں نے ایک احمق شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں ٢٢ مرتبہ تکبیر کہی، وہ تو جب سجدے میں جاتا اور اس سے سر اٹھاتا تھا تب بھی تکبیر کہتا تھا، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے، ابو القاسم ﷺ کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ خیبر کے موقع پر کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَأَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُجَثَّمَةِ وَالْجَلَّالَةِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ نَهَى عَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ وَأَنْ يَشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ وَعَنْ الْمُجَثَّمَةِ وَعَنْ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فَقَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ فَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حضرت حمزہ ؓ کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا غَشِيَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے بارے جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو، یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ وَيَزِيدَ بْنِ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ قَالَ يَزِيدُ رَبُّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور برد بار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔