Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 138 of 1,321

2741Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ خَمْسِينَ صَلَاةً فَسَأَلَ رَبَّهُ فَجَعَلَهَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی ﷺ پر پچاس نمازیں ابتدائی طور پر فرض ہوئی تھیں، پھر انہوں نے پروردگار سے دعاء کی تو اس نے انہیں پانچ کردیا

2742Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہمیں تشہد اسی طرح سکھایا کرتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے

2743Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُوحَى إِلَيَّ فِيهِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہوجائے ( اور میری امت اس حکم کو پورا نہ کرسکے)

2744Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے

2745Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ الْعَلَاءِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَارْفَعْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي ثُمَّ سَجَدَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کی نماز دو سجدوں کے درمیان بیٹھ کر یہ دعاء پڑھتے تھے پروردگار! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میرے درجات بلند فرما، مجھے رزق عطاء فرما اور مجھے ہدایت عطاء فرما، پھر دوسرا سجدہ کرتے۔

2746Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ لَمْ يَحِلَّ فِيهِ الْقَتْلُ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَأُحِلَّ لِي سَاعَةً فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِبُيُوتِهِمْ وَلِقَيْنِهِمْ فَقَالَ إِلَّا الْإِذْخِرَ وَلَا هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا یہ شہرحرام ہے اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا ہے، لہذا مجھ سے پہلے یا بعد والوں کے لئے یہاں قتال حلال نہیں ہے، میرے لئے بھی دن کی صرف چند ساعات اور گھنٹوں کے لئے اسے حلال کیا گیا تھا، اب یہ قیامت تک کے لئے حرام ہے، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے، حضرت عباس ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ ہمارے سناروں اور قبرستانوں کے لئے اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، نبی ﷺ نے اسے مستثنی کرتے ہوئے فرمایا اب ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے لہذا جب تم سے جہاد پر روانہ ہونے کے لئے کہا جائے تو تم نکلو

2747Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ خَيْرٍ الزِّيَادِيُّ أَنَّ مَالِكَ بْنَ سَعْدٍ التُّجِيبِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ لَعَنَ الْخَمْرَ وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَشَارِبَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَسَاقِيَهَا وَمُسْتَقِيَهَا

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ میرے پاس حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد ﷺ! اللہ نے شراب کو، اسے نچوڑنے والے، نچڑوانے والے، پینے والے، اٹھانے والے، اٹھوانے والے، بیچنے اور خریدنے والے پینے اور پلانے والے سب کو ملعون قرار دیا ہے

2748Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبَأٍ مَا هُوَ أَرَجُلٌ أَمْ امْرَأَةٌ أَمْ أَرْضٌ فَقَالَ بَلْ هُوَ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةً فَسَكَنَ الْيَمَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ وَبِالشَّامِ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فَأَمَّا الْيَمَانِيُّونَ فَمَذْحِجٌ وَكِنْدَةُ وَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَأَنْمَارٌ وَحِمْيَرُ عَرَبًا كُلَّهَا وَأَمَّا الشَّامِيَّةُ فَلَخْمٌ وَجُذَامُ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ سبا کسی آدمی کا نام ہے یا کسی عورت کا یا کسی علاقے کا؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ ایک آدمی کا نام ہے جس کے دس بیٹے تھے، ان میں سے چھ یمن میں اور چار شام میں سکونت پذیر ہوگئے، یمن میں سکونت اختیار کرنے والے مذحج، کندہ، ازد، اشعریین، انمار اور سارا عرب حمیر شامل ہے اور شام میں رہائش اختیار کرنے والوں میں لخم جذام، عاملہ اور غسان ہیں

2749Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ حَتَّى قَامَتَا بَيْنَ يَدَيْهِ عِنْدَ رَأْسِهِ فَنَحَّاهُمَا وَأَوْمَأَ بِيَدَيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، دو بچیاں آپ ﷺ کے سر کی طرف سے سامنے آکر کھڑی ہوگئیں، نبی ﷺ نے ان دونوں کو ایک طرف کردیا اور اپنے ہاتھوں سے دائیں جانب یا بائیں جانب کا اشارہ کردیا

2750Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَّةَ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت جویریہ ؓ کا نام برہ تھا، نبی ﷺ نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا

2751Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عِلْبَاءَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکیریں کیسی ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل عورتیں چار ہوں گی (١) خدیجہ بنت خویلد ؓ (٢) فاطمہ ؓ بنت محمد ﷺ (٣) مریم بنت عمران علیہماالسلام (٤) آسیہ بنت مزاحم ؓ جو فرعون کی بیوی تھیں

2752Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ مَرَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ وَهُوَ يُصَلِّي مَضْفُورَ الرَّأْسِ مَعْقُودًا مِنْ وَرَائِهِ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْرَحْ يَحُلُّ عُقَدَ رَأْسِهِ فَأَقَرَّ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَلِّهِ ثُمَّ جَلَسَ فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الْحَارِثِ مِنْ الصَّلَاةِ أَتَاهُ فَقَالَ عَلَامَ صَنَعْتَ بِرَأْسِي مَا صَنَعْتَ بِرَأْسِي آنِفًا قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُودٌ مِنْ وَرَائِهِ كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي مَكْتُوفًا

کریب (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جنہوں نے پیچھے سے اپنے سر کے بالوں کا جوڑا بنا رکھا تھا، وہ ان کے پیچھے جا کر کھڑے ہوئے اور ان بالوں کو کھولنے لگے، عبداللہ نے انہیں وہ بال کھولنے دیئے، نماز سے فارغ ہو کر وہ حضرت ابن عباس ؓ کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ آپ کو میرے سر سے کیا غرض ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس طرح نماز پڑھنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے ہاتھ پیھچے بندھے ہوئے ہوں

2753Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سر کے بالوں کا جوڑا بناکر نماز پڑھنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے ہاتھ پیھچے بندھے ہوئے ہوں

2754Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ ثَلَاثًا فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أُجْرَتَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ إِيَّاهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی گردن کے دونوں پہلوؤں کی پوشیدہ رگوں اور دونوں کندھوں کے درمیان تین مرتبہ فاسد خون نکلوایا اور حجام کو اس کی اجرت دے دی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی ﷺ کبھی نہ دیتے

2755Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ ثَلَاثًا فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أُجْرَتَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ إِيَّاهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورت اعلی، سورت کافرون اور سورت اخلاص (علی الترتیب) پڑھتے تھے

2756Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے

2757Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا قَدْ خَوَّى حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ کو حالت سجدہ میں دیکھا اس وقت نبی ﷺ نے اپنے بازو پہلوؤں سے جدا کر کے کھول رکھے تھے، اس لئے میں نے نبی ﷺ کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی

2758Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَدَبَّرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ سَاجِدًا مُخَوِّيًا وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ کو حالت سجدہ میں دیکھا اس وقت نبی ﷺ نے اپنے بازو پہلوؤں سے جدا کر کے کھول رکھے تھے، اس لئے میں نے نبی ﷺ کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی

2759Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً أَوْ حِدَّةً

حضرت ابن عباس ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے ہر عہد و پیمان میں اسلام نے شدت یاحدت کا اضافہ ہی کیا ہے

2760Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا أَمَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ أَوْ قَالَ مِنْ بَعْدِهِ وَرُبَّمَا قَالَهُمَا جَمِيعًا

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جو باندی ام ولدہ (اپنے آقا کے بچے کی ماں) بن جائے، وہ آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہوجاتی