Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 131 of 1,321

2601Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَاللَّهِ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ وَكَانَ إِذَا صَامَ صَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى إِذَا أَفْطَرَ يَقُولُ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يَصُومُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے، البتہ وہ بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب نبی ﷺ کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ کہنے والے کہتے تھے کہ اب نبی ﷺ کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔

2602Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ شَارِبَهُ وَكَانَ أَبُوكُمْ إِبْرَاهِيمُ مِنْ قَبْلِهِ يَقُصُّ شَارِبَهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنی مونچھوں کو تراشا کرتے تھے اور ان سے پہلے تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) بھی اپنی مونچھوں کو تراشا کرتے تھے۔

2603Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمْ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَا يُدَهْدِهُ الْجُعَلُ بِمَنْخَرَيْهِ خَيْرٌ مِنْ آبَائِكُمْ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے ان آباؤ اجداد پر فخر نہ کیا کرو جو زمانہ جاہلیت میں مرگئے ہوں، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ایک مسلمان کی ناک کے نتھنوں میں جو گرد و غبار لڑھک کر چلا جاتا ہے وہ تمہارے ان آباؤ اجداد سے بہتر ہے جو زمانہ جاہلیت میں مرگئے۔

2604Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے۔

2605Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ فَقَالَ بَلْ حَجَّةٌ عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ كُلَّ عَامٍ لَكَانَ كُلَّ عَامٍ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج فرض ہے؟ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان جو صاحب استطاعت ہو اس پر حج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا۔

2606Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي وَلَا أَقُولُهُنَّ فَخْرًا بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي فَهِيَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ارشاد فرمایا مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطاء فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں اور میں یہ بات فخر کے طور پر بیان نہیں کر رہا، مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، ایک ماہ کی مسافت پر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، میرے لئے مال غنیمت کو حلال کیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کیا گیا، میرے لئے روئے زمین کو سجدہ گاہ اور باعث طہارت بنادیا گیا ہے اور مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے جسے میں نے اپنی امت کے لئے قیامت کے دن تک مؤخر کردیا ہے اور یہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔

2607Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارَانِ إِلَّا أَنْ أُعِدَّهُمَا لِدَيْنٍ قَالَ فَمَاتَ وَمَا تَرَكَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا وَلِيدَةً وَتَرَكَ دِرْعَهُ رَهْنًا عِنْدَ يَهُودِيٍّ عَلَى ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے احد پہاڑ کی طرف دیکھ کر فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ آل محمد کے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنادیا جائے، میں اس میں سے اللہ کے نام پر خرچ کرتا رہوں اور جس دن مروں تو اس میں سے دو دینار بھی میرے پاس بچے ہوں، سوائے ان دو دیناروں کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لئے رکھ لوں، بشرطیکہ قرض ہو بھی، چناچہ جب نبی ﷺ کا وصال مبارک ہوا تو آپ ﷺ نے ترکہ میں کوئی دینار یا درہم اور کوئی غلام یا باندی نہ چھوڑی بلکہ آپ ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی جس سے نبی ﷺ نے تیس صاع جَو لئے تھے۔

2608Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو سَعِيدٍ وَعَفَّانُ قَالُوا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوْ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا فَقَالَ مَا لِي وَلِلدُّنْيَا مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق ؓ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے، دیکھا کہ نبی صلی اللہ جس چٹائی پر تشریف فرما ہیں، پہلوئے مبارک پر اس کے نشانات پڑچکے ہیں، عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! اگر آپ ﷺ اس سے کچھ نرم بستر بنوا لیتے تو کتنا اچھا ہوتا؟ نبی ﷺ نے فرمایا میرا دنیا سے کیا تعلق؟ میری اور دنیا کی مثال تو اس سوار کی سی جو گرمی کے موسم میں سارا دن چلتا رہے اور کچھ دیر کے لئے ایک درخت کے نیچے سایہ حاصل کرے، پھر اسے چھوڑ کر چل دے۔

2609Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَاتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدُوًّا فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْهُمْ حَتَّى أَخَّرَ الْعَصْرَ عَنْ وَقْتِهَا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ اللَّهُمَّ مَنْ حَبَسَنَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى فَامْلَأْ بُيُوتَهُمْ نَارًا وَامْلَأْ قُبُورَهُمْ نَارًا وَنَحْوَ ذَلِكَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی ﷺ نے دشمن سے قتال کیا اور اس کی وجہ سے نماز عصر اپنے وقت سے مؤخر ہوگئی، یہ دیکھ کر نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی۔

2610Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ هِلَالٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ مِنْ الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ يَدْعُو عَلَيْهِمْ عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَتَلُوهُمْ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَقَالَ عِكْرِمَةُ هَذَا كَانَ مِفْتَاحَ الْقُنُوتِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے پورا مہینہ تسلسل کے ساتھ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی ہے، آپ ﷺ ہر نماز کے اختتام پر دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھانے اور سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد بنو سلیم کے ایک قبیلے، رعل، ذکوان، عصیہ اور انہیں پناہ دینے والوں پر بد دعاء فرماتے تھے، نبی ﷺ نے ان قبائل کی طرف اپنے صحابہ ؓ کو دعوت اسلام کے لئے بھیجا تھا لیکن ان لوگوں نے انہیں شہید کردیا۔

2611Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ وَأَبُو بِشْرٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔

2612Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا تَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں آپ کا تابع فرمان ہوگیا، میں آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں، میں آپ کے غلبہ کی پناہ میں آتا ہوں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اس بات سے کہ آپ مجھے گمراہ کردیں، آپ سب کو زندہ رکھنے والے ہیں، آپ پر موت نہیں آسکتی اور تمام جن و انس مرجائیں گے۔

2613Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ ضِمَادٌ الْأَزْدِيُّ مَكَّةَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغِلْمَانٌ يَتْبَعُونَهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أُعَالِجُ مِنْ الْجُنُونِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَقَالَ رُدَّ عَلَيَّ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ قَالَ ثُمَّ قَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ الشِّعْرَ وَالْعِيَافَةَ وَالْكَهَانَةَ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ لَقَدْ بَلَغْنَ قَامُوسَ الْبَحْرِ وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَأَسْلَمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَسْلَمَ عَلَيْكَ وَعَلَى قَوْمِكَ قَالَ فَقَالَ نَعَمْ عَلَيَّ وَعَلَى قَوْمِي قَالَ فَمَرَّتْ سَرِيَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِقَوْمِهِ فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا إِدَاوَةً أَوْ غَيْرَهَا فَقَالُوا هَذِهِ مِنْ قَوْمِ ضِمَادٍ رُدُّوهَا قَالَ فَرَدُّوهَا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ضماد ازدی ایک مرتبہ مکہ مکرمہ آئے، انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا اور ان چند نوجوانوں کو بھی جو نبی ﷺ کی اتباع کرتے تھے اور کہا کہ اے محمد! ﷺ میں جنون کا علاج کرتا ہوں، نبی ﷺ نے اس کے جواب میں یہ کلمات فرمائے کہ تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں، ہم اس سے مدد اور بخشش طلب کرتے ہیں اور اپنے نفسوں کے شر سے اس کی پناہ میں آتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ ضماد نے کہا کہ یہ کلمات دوبارہ سنائیے، پھر کہا کہ میں نے شعر، نجوم اور کہانت سب چیزیں سنی ہیں لیکن ایسے کلمات کبھی نہیں سنے، یہ تو سمندر کی گہرائی تک پہنچے ہوئے کلمات ہیں، یہ کہا اور کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرلیا، نبی ﷺ نے فرمایا کیا اس کلمہ کی ضمانت آپ اور آپ کی قوم دونوں پر ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! مجھ پر بھی اور میری قوم پر بھی، چناچہ اس واقعے کے کچھ عرصے بعد نبی ﷺ کے صحابہ کا ایک سریہ ضماد کی قوم پر سے گذرا اور بعض لوگوں نے ان کا کوئی برتن وغیرہ لے لیا، صحابہ کرام ؓ کہنے لگے کہ یہ ضماد کی قوم کا برتن ہے، اسے واپس کردو، چناچہ انہوں نے وہ برتن واپس کردیا۔

2614Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَتْ أُمُّ الْفَضْلِ ابْنَةُ الْحَارِثِ بِأُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ عَبَّاسٍ فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَالَتْ فَاخْتَلَجَتْهَا أُمُّ الْفَضْلِ ثُمَّ لَكَمَتْ بَيْنَ كَتِفَيْهَا ثُمَّ اخْتَلَجَتْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطِينِي قَدَحًا مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَى مَبَالِهَا ثُمَّ قَالَ اسْلُكُوا الْمَاءَ فِي سَبِيلِ الْبَوْلِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام الفضل بنت حارث ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں ام حبیب بنت عباس کو لے کر آئیں اور نبی ﷺ کی گود میں بٹھا دیا، اس نے پیشاب کردیا، ام الفضل شرمندہ ہوگئیں اور بچی کو اس کے کندھوں کے درمیانی جگہ پر تھپڑ لگا دیا، نبی ﷺ نے فرمایا مجھے پانی کا ایک برتن دے دو، چناچہ جہاں جہاں اس نے پیشاب کیا تھا، وہاں آپ ﷺ نے پانی بہا لیا اور فرمایا پیشاب کی جگہ پر پانی بہا لیا کرو۔

2615Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّ قَزَعَةَ مَوْلًى لِعَبْدِ الْقَيْسِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي مَعَهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور ہمارے پیچھے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کھڑی تھیں، جو ہمارے ساتھ نماز میں شریک تھیں۔

2616Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ قَالَ أَيُّوبُ وَفَسَّرَ يَحْيَى بَيْعَ الْغَرَرِ قَالَ إِنَّ مِنْ الْغَرَرِ ضَرْبَةَ الْغَائِصِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ الْعَبْدُ الْآبِقُ وَبَيْعُ الْبَعِيرِ الشَّارِدِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ تُرَابُ الْمَعَادِنِ وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي ضُرُوعِ الْأَنْعَامِ إِلَّا بِكَيْلٍ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دھوکہ کی بیع اور تجارت سے منع فرمایا ہے، راوی حدیث ایوب کہتے ہیں کہ یحییٰ نے دھوکہ کی تجارت کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں یہ صورت بھی شامل ہے کہ کوئی آدمی یہ کہے کہ میں دریا میں جال پھینک رہا ہوں، جتنی مچھلیاں اس میں آگئیں، میں اتنے روپے میں انہیں آپ کے ہاتھ فروخت کرتا ہوں اور بھگوڑے غلام کو فروخت کرنا، بدک جانے والی وحشی بکری کی فروخت، جانوروں کے حمل کی فروخت کانوں کی مٹی کی فروخت اور جانور کے تھنوں میں موجود دودھ کی بلا اندازہ فروخت بھی شامل ہے ہاں اگر دودھ ناپ کر بیچاجائے تو جائز ہے۔

2617Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا مُخَوِّيًا حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ کو سجدے کی حالت میں دیکھا اور میں نے نبی ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔

2618Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الضَّحَّاكِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا تلبیہ اس طرح تھا لبیک اللہم لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لاشریک لک

2619Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبْنَةٍ فِي غَزَاةٍ فَقَالَ أَيْنَ صُنِعَتْ هَذِهِ فَقَالُوا بِفَارِسَ وَنَحْنُ نُرَى أَنَّهُ يُجْعَلُ فِيهَا مَيْتَةً فَقَالَ اطْعَنُوا فِيهَا بِالسِّكِّينِ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا ذَكَرَهُ شَرِيكٌ مَرَّةً أُخْرَى فَزَادَ فِيهِ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهَا بِالْعِصِيِّ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں کہیں سے پنیر آیا، نبی ﷺ نے پوچھا یہ کہاں سے ہو کر آیا ہے، لوگوں نے بتایا فارس سے اور ہمارا خیال ہے کہ اس میں مردار ملایا گیا ہوگا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے چھری سے ہلا لو اور بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ۔

2620Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيَدْخُلُ عُمَرُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنے بالاخانہ میں تھے کہ حضرت عمر فاروق ؓ حاضر ہوئے اور سلام کر کے عرض کیا کہ کیا عمر اندر آسکتا ہے؟