عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ طَوَافَ يَوْمِ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ
حضرت ابن عباس وحضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے یوم النحر کو رات تک کے لئے طواف زیارت کو مؤخر فرما دیا۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُدَّعِيَ الْبَيِّنَةَ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ قَدْ حَلَفْتَ وَلَكِنْ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ بِإِخْلَاصِكَ قَوْلَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ دو آدمی نبی ﷺ کے پاس اپنا ایک جھگڑا لے کر آئے، نبی ﷺ نے مدعی سے گواہوں کا تقاضا کیا، اس کے پاس گواہ نہیں تھے، اس لئے نبی ﷺ نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا، اس نے یوں قسم کھائی کہ اس اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم نے قسم تو کھالی، لیکن تمہارے لا الہ الا اللہ کہنے میں اخلاص کی برکت سے تمہارے سارے گناہ معاف ہوگئے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ حَنَشٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ فَيُهَرِيقُ الْمَاءَ فَيَتَمَسَّحُ بِالتُّرَابِ فَأَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَاءَ مِنْكَ قَرِيبٌ فَيَقُولُ وَمَا يُدْرِينِي لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ گھر سے نکلتے ہیں، پانی بہاتے ہیں اور تیمم کرلیتے ہیں، میں عرض کرتا ہوں کہ یا رسول اللہ! ﷺ پانی آپ کے قریب موجود ہے، نبی ﷺ فرماتے ہیں مجھے کیا پتہ تھا؟ شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحْدَهُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اکیلے جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھو۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَى جِبْرِيلَ وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ قَالَ فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور اس سے بھی زیادہ سخی ماہ رمضان میں ہوتے تھے جبکہ جبرئیل امین (علیہ السلام) سے ان کی ملاقات ہوتی اور رمضان کی ہر رات میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی ﷺ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوجاتے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْأَسْلَمِيَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَقَالَ لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ غَمَزْتَ أَوْ نَظَرْتَ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب حضرت ماعز بن مالک ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا، یا ہاتھ لگایا ہوگا یا صرف دیکھا ہوگا۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَأْكُلْ الشَّرِيطَةَ فَإِنَّهَا ذَبِيحَةُ الشَّيْطَانِ
حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ایسے جانور کو مت کھاؤ جس کی کھال تو کاٹ دی گئی ہو لیکن رگیں کاٹے بغیر اسے مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہو کیونکہ یہ شیطان کا ذبیحہ ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ قَالَ رَفَعَهُ الْحَكَمُ قَالَ شُعْبَةُ وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أُحَدِّثَ بِرَفْعِهِ قَالَ وَحَدَّثَنِي غَيْلَانُ وَالْحَجَّاجُ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَمْ يَرْفَعْهُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ قَتَلَهُ فَقَالَ دَعُوهُ وَسَلَبَهُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا گذر حضرت ابو قتادہ ؓ کے پاس سے ہوا، وہ اس وقت ایک آدمی کے پاس کھڑے تھے جسے انہوں نے قتل کیا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا مقتول کا ساز و سامان ان ہی کے پاس چھوڑ دو۔ (کیونکہ اس وقت یہ اصول تھا کہ میدان جنگ میں جو شخص کسی کو قتل کرے گا اس کا ساز و سامان اسی کو ملے گا)
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوَّى بَيْنَ الْأَسْنَانِ وَالْأَصَابِعِ فِي الدِّيَةِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا دانت اور انگلیاں دیت میں دونوں برابر ہیں۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ ثُمَّ يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ كَالَّذِي يَقِيءُ ثُمَّ يَأْكُلُ قَيْئَهُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّارَةُ الذَّنْبِ النَّدَامَةُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ لِيَغْفِرَ لَهُمْ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا گناہ کا کفارہ ندامت ہے اور فرمایا اگر تم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ ایک ایسی قوم کو پیدا فرما دے گا جو گناہ کرے گی تاکہ اللہ انہیں معاف فرما سکے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ شَقِيقٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسْنَانُ سَوَاءٌ وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا دانت اور انگلیاں دیت میں دونوں برابر ہیں۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْكُوبَةَ وَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ نے تم پر شراب، جوا اور کو بہ کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَقَالَ إِذَا جَاءَ صَاحِبُهُ يَطْلُبُ ثَمَنَهُ فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے، نیز یہ کہ جب اس کا مالک اس کی قیمت کا مطالبہ کرنے کے لئے آئے تو اس کی ہتھیلیاں مٹی سے بھر دو۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ أَنَّ مَيْمُونَ الْمَكِّيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى بِهِمْ يُشِيرُ بِكَفَّيْهِ حِينَ يَقُومُ وَحِينَ يَرْكَعُ وَحِينَ يَسْجُدُ وَحِينَ يَنْهَضُ لِلْقِيَامِ فَيَقُومُ فَيُشِيرُ بِيَدَيْهِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يُصَلِّي صَلَاةً لَمْ أَرَ أَحَدًا يُصَلِّيهَا فَوَصَفْتُ لَهُ هَذِهِ الْإِشَارَةَ فَقَالَ إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْتَدِ بِصَلَاةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ
میمون مکی کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، وہ کھڑے ہوتے وقت اور رکوع و سجود کرتے وقت اپنی ہتھیلیوں سے اشارہ کرتے تھے اور سجدہ سے قیام کے لئے اٹھتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کرتے تھے، میں یہ دیکھ کر حضرت ابن عباس ؓ کے پاس چلا گیا اور ان سے عرض کیا کہ میں نے حضرت ابن زبیر ؓ کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ اس سے پہلے کسی کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، میں نے ان کے سامنے اس اشارہ کا تذکرہ بھی کیا، انہوں نے فرمایا کہ اگر تم نبی ﷺ جیسی نماز دیکھنا چاہتے ہو تو حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی نماز کی اقتداء کرو۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ كَمْ يَكْفِينِي مِنْ الْوُضُوءِ قَالَ مُدٌّ قَالَ كَمْ يَكْفِينِي لِلْغُسْلِ قَالَ صَاعٌ فَقَالَ الرَّجُلُ لَا يَكْفِينِي قَالَ لَا أُمَّ لَكَ قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابن عباس ؓ سے ایک مرتبہ ایک شخص نے پوچھا کہ وضو کے لئے کتنا پانی کافی ہونا چاہئے؟ انہوں نے فرمایا ایک مد کے برابر، اس نے پوچھا کہ غسل کے لئے کتنا پانی کافی ہونا چاہئے؟ فرمایا ایک صاع کے برابر، وہ آدمی کہنے لگا کہ مجھے تو اتنا پانی کفایت نہیں کرتا، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا تیری ماں نہ رہے، اتنی مقدار اس ذات کو کافی ہوجاتی تھی جو تجھ سے بہتر تھی یعنی نبی ﷺ۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَنِّعًا بِثَوْبٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ لَيَكْثُرُونَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ يَقِلُّونَ فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ أَمْرًا يَنْفَعُ فِيهِ أَحَدًا فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے مرض الوفات میں سر پر کپڑا لپیٹے ہوئے باہر نکلے اور فرمایا لوگو! انسان بڑھتے رہیں گے لیکن انصار کم ہوتے رہیں گے، اس لئے تم میں سے جس شخص کو حکومت ملے اور وہ کسی کو اس سے فائدہ پہنچا سکے تو انصار کی خوبیوں کو قبول کرے اور ان کی لغزشات سے چشم پوشی کرے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِقُدَيْدٍ عَجُزَ حِمَارٍ فَرَدَّهُ وَهُوَ يَقْطُرُ دَمًا حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّهُ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صعب بن جثامہ ؓ نے مقام قدید میں نبی ﷺ خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی ﷺ نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں اس وقت اس کا خون ٹپک رہا تھا حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی گئی لیکن نبی ﷺ نے اسے واپس کردیا۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ أَنْبَأَنِي قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَكُونُ بِمَكَّةَ فَكَيْفَ أُصَلِّي قَالَ رَكْعَتَيْنِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ اگر میں مکہ مکرمہ جاؤں تو کیسے نماز پڑھوں؟ انہوں نے فرمایا دو رکعتیں اور یہ ابوالقاسم ﷺ کی سنت ہے۔