عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ الْعَصَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَضَيَّفْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتِي وَهِيَ لَيْلَةَ إِذْ لَا تُصَلِّي فَأَخَذَتْ كِسَاءً فَثَنَتْهُ وَأَلْقَتْ عَلَيْهِ نُمْرُقَةً ثُمَّ رَمَتْ عَلَيْهِ بِكِسَاءٍ آخَرَ ثُمَّ دَخَلَتْ فِيهِ وَبَسَطَتْ لِي بِسَاطًا إِلَى جَنْبِهَا وَتَوَسَّدْتُ مَعَهَا عَلَى وِسَادِهَا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَأَخَذَ خِرْقَةً فَتَوَازَرَ بِهَا وَأَلْقَى ثَوْبَهُ وَدَخَلَ مَعَهَا لِحَافَهَا وَبَاتَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى سِقَاءٍ مُعَلَّقٍ فَحَرَّكَهُ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَأَصُبَّ عَلَيْهِ فَكَرِهْتُ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ مُسْتَيْقِظًا قَالَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَتَى الْفِرَاشَ فَأَخَذَ ثَوْبَيْهِ وَأَلْقَى الْخِرْقَةَ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَقَامَ فِيهِ يُصَلِّي وَقُمْتُ إِلَى السِّقَاءِ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ جِئْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَتَنَاوَلَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى وَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ قَعَدَ وَقَعَدْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ مِرْفَقَهُ إِلَى جَنْبِهِ وَأَصْغَى بِخَدِّهِ إِلَى خَدِّي حَتَّى سَمِعْتُ نَفَسَ النَّائِمِ فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ بِلَالٌ فَقَالَ الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَارَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَاتَّبَعْتُهُ فَقَامَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ وَأَخَذَ بِلَالٌ فِي الْإِقَامَةِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ ام المومنین میمونہ ؓ کے یہاں رات گذاری، انہوں نے ایک چادر لے کر اسے تہہ کیا، اس پر تکیہ رکھا اور دوسری چادر بچھا کر اسے اوڑھ کر لیٹ گئیں، میرے لئے انہوں نے اپنے ساتھ ایک بستر بچھا دیا تھا اور میں ان ہی کے تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گیا، عشاء کی نماز پڑھ کر نبی ﷺ بھی تشریف لائے اور کپڑے اتار کر تہبند باندھ لیا اور ان کے ساتھ لحاف اوڑھ لیا، نبی ﷺ سوگئے، جب آدھی رات ہوئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس سے کچھ بعد کا وقت ہوا تو نبی ﷺ بیدار ہو کر بیٹھ گئے، پھر کھڑے ہو کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف گئے، پہلے میں نے سوچا کہ میں اٹھ کر جاؤں اور نبی ﷺ کو وضو کراؤں لیکن پھر مجھے یہ مناسب معلوم نہ ہوا کہ نبی ﷺ کو میری بیداری کا علم ہو، بہرحال! نبی ﷺ نے وضو کیا اور تہبند اتار کر کپڑے پہن لئے اور مسجد میں آکر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا جیسے نبی ﷺ نے کیا تھا اور جا کر آپ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا نبی ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور مجھے اپنی دائیں جانب کرلیا، آپ ﷺ نے اور ان کے ساتھ میں نے بھی کل تیرہ رکعتیں پڑھیں، پھر بیٹھ گئے، میں بھی ان کے پہلو میں بیٹھ گیا، نبی ﷺ نے اپنی کہنی میرے پہلو پر رکھ دی اور اپنا رخسار میرے رخسار کے قریب کردیا حتی کہ میں نے نبی ﷺ کے خراٹوں کی آواز سنی، کچھ ہی دیر بعد حضرت بلال ؓ آگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! ﷺ نماز، چناچہ نبی ﷺ مسجد کی طرف چل پڑے، میں بھی پیچھے تھا، نبی ﷺ نے کھڑے ہو کردو رکعتیں ہلکی ہی پڑھیں اور حضرت بلال ؓ اقامت کہنے لگے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ شَيْئًا قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ السِّوَاكَ قَالَ حَتَّى ظَنَنَّا أَوْ رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُنْزَلُ عَلَيْهِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ اتنی کثرت کے ساتھ مسواک فرماتے تھے کہ ہمیں یہ اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہوجائے (اور امت اس حکم کو پورا نہ کرسکے)
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَطَبَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فِي الْعِيدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ قَالَ أَبِي قَدْ سَمِعَهُ عَبْدُ اللَّهِ
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ، حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنِي عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي السَّفَرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمْ جَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ عَنْ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِهِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے ان سے سفر میں نماز کے متعلق پوچھنا شروع کردیا انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ اپنے گھر سے نکلے کے بعد گھر واپس آنے تک دو رکعت نماز (قصر) ہی پڑھتے تھے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي مِصْرٍ وَاحِدٍ وَلَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ جِزْيَةٌ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک شہر میں دو قبلے نہیں ہوسکتے اور مسلمان پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ رَفَعَهُ أَيْضًا قَالَ لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ وَلَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک شہر میں دو قبلے نہیں ہوسکتے اور مسلمان پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ رِشْدِينٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ مَرَّتَيْنِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کوئی مشروب پیتے تو اسے پینے کے دوران دو مرتبہ سانس لیتے تھے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّى فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے نماز کے بعد تلبیہ پڑھا۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَقَدْ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي أَمْلَى عَلَيَّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے اپنے پروردگار کی زیارت کی ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں حضرت میمونہ ؓ سے نکاح فرمایا۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى سَبْعًا جَمِيعًا وَثَمَانِيًا جَمِيعًا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں اور (مغرب و عشاء کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے میدان عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ أَوْ يُسْتَوْفَى و قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَحْسِبُ الْبُيُوعَ كُلَّهَا بِمَنْزِلَتِهِ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے قبضہ سے قبل غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح مت کیا کرو۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ وَابْنِ عَطَاءٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا عَطَاءً يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں حضرت میمونہ ؓ سے نکاح فرمایا۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ ابْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا صَائِمًا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ ﷺ حالت احرام میں بھی تھے اور روزے سے بھی تھے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
عبداللہ بن عباس کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ وَأَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا صُرِعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَأَنْ يُكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَأَنْ لَا يُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا وَقَالَ أَيُّوبُ مُلَبِّدًا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے بیری ملے پانی سے غسل دو، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔