Musnad Imam Ahmad 6726

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

6726Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَيْسَ لِي مَالٌ وَلِي يَتِيمٌ فَقَالَ كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُبَذِّرٍ وَلَا مُتَأَثِّلٍ مَالًا وَمِنْ غَيْرِ أَنْ تَقِيَ مَالَكَ أَوْ قَالَ تَفْدِيَ مَالَكَ بِمَالِهِ شَكَّ حُسَيْنٌ

حضرت ابن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ میرے پاس تو مال نہیں ہے البتہ ایک یتیم بھتیجا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اپنے یتیم بھتیجے کے مال میں سے تم کھا سکتے ہو کہ جو اسراف کے زمرے میں آئے یا یہ فرمایا کہ اپنے مال کو اس کے مال کے بدلے فدیہ نہ بناؤ۔