حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَتْ امْرَأَتَانِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِمَا أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ بِأَسْوِرَةٍ مِنْ نَارٍ قَالَتَا لَا قَالَ فَأَدِّيَا حَقَّ هَذَا
حضرت ابن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ دو یمنی عورتیں آئیں جن کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم دونوں اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے؟ وہ کہنے لگیں نہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو پھر تمہارے ہاتھوں میں جو کنگن ہیں ان کا حق ادا کرو۔