Musnad Imam Ahmad 6572

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

6572Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ يَوْمَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُهُ فَقَامَ بِالنَّاسِ فَقِيلَ لَا يَرْكَعُ فَرَكَعَ فَقِيلَ لَا يَرْفَعُ فَرَفَعَ فَقِيلَ لَا يَسْجُدُ وَسَجَدَ فَقِيلَ لَا يَرْفَعُ فَقَامَ فِي الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَتَجَلَّتْ الشَّمْسُ

حضرت ابن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں سورج گرہن ہوا نبی کریم ﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو ہم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے نبی کریم ﷺ نے اتناطویل قیام کیا کہ ہمیں خیال ہونے لگا کہ شاید نبی کریم ﷺ رکوع نہیں کریں گے پھر رکوع کیا تو رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے محسوس نہ ہوئے پھر رکوع سے سر اٹھایا تو سجدے میں جاتے ہوئے نہ لگے سجدے میں چلے گئے تو ایسا لگا کہ سجدے سے سر نہیں اٹھائیں گے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور سورج روشن ہوگیا۔