حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ وَكَانَ رَجُلًا شَاعِرًا سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ أَحَيٌّ وَالِدَاكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ قَالَ بَهْزٌ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو
حضرت ابن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لئے آیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے والدین حیات ہیں؟ اس نے کہا کہ جی ہاں نبی کریم ﷺ نے فرمایا جاؤ اور ان ہی میں جہاد کرو۔