Musnad Imam Ahmad 6369

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

6369Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ النَّاسِ لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا تُوُفِّيَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ

حضرت ابن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کا مدینہ منورہ میں انتقال ہوگیا نبی کریم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی اور فرمایا کاش کہ یہ اپنے وطن میں نہ مرتا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! یہ کیوں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی آدمی اپنے وطن کے علاوہ کہیں اور مرے تو اس کے لئے اس کے وطن سے لے کر اس کے نشان قدم کی انتہاء تک جنت میں جگہ عطاء فرمائی جائے گی۔