Musnad Imam Ahmad 6325

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

6325Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي هَذَا يَقْرَأُ الْمُصْحَفَ بِالنَّهَارِ وَيَبِيتُ بِاللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَنْقِمُ أَنَّ ابْنَكَ يَظَلُّ ذَاكِرًا وَيَبِيتُ سَالِمًا

حضرت ابن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی اپنے بیٹے کو لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میرا یہ بیٹا دن کو قرآن پڑھتا ہے اور رات کو سوتا رہتا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر وہ سارا دن ذکر میں اور رات سلامتی میں گذار لیتا ہے تو تم اس پر کیوں ناراض ہو رہے ہو؟