Musnad Imam Ahmad 6253

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

6253Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ مَوْلَى بَنِي الدِّيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ يَجْتَهِدُونَ فِي الْعِبَادَةِ اجْتِهَادًا شَدِيدًا فَقَالَ تِلْكَ ضَرَاوَةُ الْإِسْلَامِ وَشِرَّتُهُ وَلِكُلِّ ضَرَاوَةٍ شِرَّةٌ وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى اقْتِصَادٍ وَسُنَّةٍ فَلِأُمٍّ مَا هُوَ وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْمَعَاصِي فَذَلِكَ الْهَالِكُ

حضرت ابن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے چند کا تذکرہ کیا گیا جو عبادت میں خوب محنت کیا کرتے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ اسلام کا جھاگ ہے اور ہر جھاگ کی تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کا انقطاع ہوجاتا ہے جس تیزی کا اختتام اور انقطاع میانہ روی اور سنت پر ہو تو مقصد پورا ہوگیا اور جس کا اختتام معاصی اور گناہوں کی طرف ہو تو وہ شخص ہلاک ہوگیا۔