حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا وَتَخْرُجُ الدَّابَّةُ عَلَى النَّاسِ ضُحًى فَأَيُّهُمَا خَرَجَ قَبْلَ صَاحِبِهِ فَالْأُخْرَى مِنْهَا قَرِيبٌ وَلَا أَحْسِبُهُ إِلَّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا هِيَ الَّتِي أَوَّلًا
حضرت ابن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے قریب سورج مغرب سے طلوع ہوگا اور دابۃ الارض کا خروج چاشت کے وقت ہوگا ان دونوں میں سے جو نشانی پہلے پوری ہوگئی دوسری بھی عنقریب پوری ہوجائے گی البتہ میرا خیال یہ ہے کہ سورج مغرب سے طلوع ہونا آپ ﷺ نے پہلی علامت قرار دیا ہے۔