Musnad Imam Ahmad 5959

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

5959Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَقْبِضُ الْوَرِقَ مِنْ الدَّنَانِيرِ وَالدَّنَانِيرَ مِنْ الْوَرِقِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَقْبِضُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ وَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ فَقَالَ لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ میں جنت البقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا اگر دینار کے بدلے بیچتا تو میں خریدار سے درہم لے لیتا اور دراہم کے بدلے بیچتا تو اس سے دینار لے لیتا ایک دن میں یہ مسئلہ معلوم کرنے کے لئے نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اس وقت آپ ﷺ حضرت حفصہ ؓ کے گھر میں تھے میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ! ٹھہریئے میں آپ سے یہ مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں اور اس کے بدلے میں یہ اور اس کے بدلے میں وہ لے لیتا ہوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر اسی دن بھاؤ کے بدلے ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن تم اس وقت تک اپنے ساتھی سے جدا نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان بیع کا کوئی معاملہ باقی ہو۔