حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْنَهُ عَنْ الذَّيْلِ فَقَالَ اجْعَلْنَهُ شِبْرًا فَقُلْنَ إِنَّ شِبْرًا لَا يَسْتُرُ مِنْ عَوْرَةٍ فَقَالَ اجْعَلْنَهُ ذِرَاعًا فَكَانَتْ إِحْدَاهُنَّ إِذَا أَرَادَتْ أَنْ تَتَّخِذَ دِرْعًا أَرْخَتْ ذِرَاعًا فَجَعَلَتْهُ ذَيْلًا
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ امہات المؤمنین نے نبی کریم ﷺ سے دامن لٹکانے کے متعلق پوچھا تو انہیں نبی کریم ﷺ نے ایک بالشت کے برابر دامن کی اجازت عطاء فرمائی انہوں نے کہا کہ ایک بالشت سے سترپوشی نہیں ہوتی نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم ایک گز کرلو، چناچہ جب ان میں سے کوئی خاتون قمیض بنانا چاہتی تو اسے ایک گز لٹکا کر اس کا دامن بنا لیتی تھیں۔