Musnad Imam Ahmad 5195

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

5195Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ قُرَادٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ أَوْ يَدْخُلُ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَكْفَى أَتُرَوْنَهَا لِلْمُنَقَّيْنَ لَا وَلَكِنَّهَا لِلْمُتَلَوِّثِينَ الْخَطَّاءُونَ قَالَ زِيَادٌ أَمَا إِنَّهَا لَحْنٌ وَلَكِنْ هَكَذَا حَدَّثَنَا الَّذِي حَدَّثَنَا

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے دو باتوں میں سے کسی ایک کا اختیاردیا گیا شفاعت کا یا نصف امت کے جنت میں داخل ہونے کا تو میں نے شفاعت کو اختیار کرلیا کیونکہ یہ زیادہ عام اور کفایت کرنے والی چیز ہے کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ متقیوں کے لئے ہوگی؟ نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کے لئے ہوگی جو گناہوں میں ملوث ہوں گے۔