Musnad Imam Ahmad 5096

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

5096Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ يَعْنِي السُّكَّرِيَّ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صَدَقَةَ الْمَكِّيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَاتُّخِذَ لَهُ فِيهِ بَيْتٌ مِنْ سَعَفٍ قَالَ فَأَخْرَجَ رَأْسَهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ إِنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ بِمَا يُنَاجِي رَبَّهُ وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرَاءَةِ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا نبی کریم ﷺ کے لئے کھجور کی شاخوں سے ایک خیمہ بنادیا گیا ایک دن نبی کریم ﷺ نے اس میں سے سر نکالا اور ارشاد فرمایا جو شخص بھی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے درحقیقت وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے اس لئے تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تم اپنے رب سے کیا مناجات کررہے ہو؟ اور تم نماز میں ایک دوسرے سے اونچی قرأت نہ کیا کرو۔