Musnad Imam Ahmad 4926

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

4926Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنْ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ وَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتْ النِّسَاءَ فَقَالَ تُرْخِي شِبْرًا قَالَتْ إِذَنْ تَنْكَشِفَ قَالَ فَذِرَاعًا لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ

حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا حضرت ام سلمہ ؓ نے (سلیمان (رح) کے بقول) عرض کیا کہ ہمارے ساتھ کیا ہوگا؟ (کیونکہ عورتوں کے کپڑے بڑے ہوتے ہیں اور عام طور پر شلوار پائنچوں میں آرہی ہوتی ہے) فرمایا ایک بالشت کپڑا اونچا کرلیا کرو انہوں نے پھر عرض کیا کہ اس طرح تو ہمارے پاؤں نظر آنے لگیں گے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک بالشت پر اضافہ نہ کرنا (اتنی مقدارمعاف ہے)