Musnad Imam Ahmad 3192

عبداللہ بن عباس کی مرویات

3192Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ وَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بنو سلیم کے ایک علاقے میں جس کا نام ذی قرد تھا، نماز خوف پڑھائی، لوگوں نے نبی ﷺ کے پیچھے دو صفیں بنالیں، ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی ﷺ کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہوگئی، نبی ﷺ نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی ﷺ کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی ﷺ نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، اس طرح نبی ﷺ کی دو رکعتیں ہوئی اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔