Musnad Imam Ahmad 2905

عبداللہ بن عباس کی مرویات

2905Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ الْعِيدِ ثُمَّ خَطَبَ فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ فَوَعَظَهُنَّ وَقَالَ تَصَدَّقْنَ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ وَالْخُرْصَ وَالشَّيْءَ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَجَمَعَهُ فِي ثَوْبٍ حَتَّى أَمْضَاهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ اس وقت حاضر رہا ہوں جب کہ آپ ﷺ نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا بعد میں آپ ﷺ کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چناچہ نبی ﷺ نے عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں، نبی ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو وہ چیزیں جمع کرنے کا حکم دیا اور واپس چلے گئے۔